بریکنگ نیوز
Home / کالم / کرکٹ کے بدلتے رنگ

کرکٹ کے بدلتے رنگ


ایک دور تھا جب معدودے چندممالک کرکٹ کھیلتے جیساکہ انگلستان‘آسٹریلیا‘جنوبی افریقہ‘ ویسٹ انڈیز بھارت وغیرہ ‘جب برصغیر تقسیم ہوا تو پاکستان میں بھی لامحالہ ایک ٹیم بننی تھی کیونکہ غیر منقسم ہندوستان کی ٹیم میں کئی مسلمان بھی کھیلتے تھے کہ جن کا تعلق ان علاقوں سے تھا جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کا حصہ بنے کرکٹ کو ایک عرصے تک فرنگی ’جنٹلمین گیم ‘کہا کرتے یعنی شرفاء کا کھیل‘ افسوس کہ کچھ عرصے سے یہ کھیل جواریوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے بگاڑ اس وقت پیدا ہوا جب اس میں ففٹی ففٹی کے میچ جنگل کی آگ کی طرح پھیلے آج کل اس پر ٹوینٹی ٹوینٹی کا بخار چڑھا ہوا ہے کیا عجب کل یہ کھیل سمٹ کر دس‘دس اوورز تک محدود ہوجائے جب 1970ء کے وسط میں آسٹریلیا کے ایک تاجر نے ففٹی ففٹی اوورز پرمشتمل میچ منعقد کرنے کاشوشہ چھوڑااور بعض بین الاقوامی معیار کے کرکٹرز کو اس طرف مائل کرنے کی کوشش کی تو اس وقت کرکٹ کے بعض ریٹائرڈ کھلاڑیوں نے بھانپ لیا تھا کہ گو کہ تھوڑے دورانئے کے ان میچوں میں کرکٹ کے شائقین کرکٹ گراؤنڈ میں بڑی تعداد میں آنا تو شروع ہوجائیں گے پر اس سے اس گیم میں کئی قباحتوں کے پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہے قصہ کوتاہ ففٹی ففٹی میچوں کا چلن عام ہو ا اور تھوڑے عرصے بعد ہی ہم نے جوئے یا سٹے کی مختلف اقسام دیکھیں جیسا کہ میچ فکسنگ‘سپاٹ فکسنگ وغیرہ وغیرہ دنیا میں کرکٹ کھیلنے والے کئی ممالک کے کئی نامور کھلاڑی جوئے میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ان میں کئی کھلاڑیوں کو جیل کی ہوابھی کھانا پڑی اور کئی پر عمر بھر کیلئے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی کرکٹ کے کئی ناقدین صرف ٹیسٹ کرکٹ کو ہی اصل کرکٹ تصور کرتے ہیں۔

کہ جس میں ہر بال کو بلے باز میرٹ پر کھیلتا ہے بقول کسے ففٹی ففٹی ہو یا ٹوینٹی ٹوینٹی یہ دونوں پریشر گیمز ہیں بلے باز کو ہر بال پر ہٹ لگانی ہوتی ہے بھلے وہ ہٹ مارنے کے قابل ہویا نہ ہو کہ اس نے ان محدود اوورز میں زیادہ سے زیادہ رنز بنانے ہوتے ہیں یہ مفروضہ بھی غلط ثابت ہوا ہے کہ ففٹی ففٹی اور ٹوینٹی ٹوینٹی کا چلن اسلئے عام کیاگیا کہ ان میں خواہ مخواہ نتیجہ نکل آتا ہے جبکہ ٹیسٹ میچوں میں اکثر پانچ دن کھیلنے کے بعد بھی نتیجہ نہیں نکلتا اور میچ’ڈرا‘ ہوجاتا ہے ہم تو کئی عرصے سے باریک بینی سے ٹیسٹ میچوں کے نتائج کے اعداد وشمار دیکھ رہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کئی ٹیسٹ میچوں کا رزلٹ پانچ دن کی بجائے چوتھے دن ہی نکل آتا ہے ہاں اس کے لئے ضروری ہے کہ ٹیسٹ میچ کے لئے جو پچز بنائی جاتی ہیں۔

ان میں ڈنڈی نہ ماری جائے اور ایسی پچز بنائی جائیں جو بلے بازوں اور باؤلروں دونوں کو مدد دیں پچز اس طرح نہ بنائی جائیں کہ وہ صرف بلے بازوں کو فائدہ پہنچائیں اور جنہیں بیٹسمین پیراڈائز کہا جاتا ہے بلکہ ان میں اتنی گنجائش ضرور رکھی جائے کہ ٹیسٹ میچ کے دوران کسی مرحلے پر وہ باؤلروں کی مدد کرنا بھی شروع کردیں جتنا منہ اتنی باتیں پی ایس ایل کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اس میں کھیلنے والے بعض ٹیموں کے مالکوں نے اس ٹورنامنٹ کے ذریعے اپنا کالا دھن سفید کیا ہے یہ تو اب ایف آئی اے کا کام ہے کہ وہ اس الزام کی تحقیقات کرے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس میں پیسہ لگانے والے بعض لوگ اچھی شہرت کے مالک نہیں ہیں آئندہ چند روز میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر روانہ ہونے والی ہے وہاں پر ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر ہرانا آسان کام نہیں ہوتا لہٰذا اس دورے کو آسان نہ سمجھا جائے ۔