بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / ہماری گمشدہ دو گونگی بہری بہنیں

ہماری گمشدہ دو گونگی بہری بہنیں


بچپن میں کہانیوں کا شوق تھا اور نہ صرف بزرگوں سے سنتے تھے بلکہ کتابیں بھی سبق آموز کہانیوں سے بھری ہوئی ہوتی تھیں ایک کہانی میں ایک دیو کا ذکر تھا یہ دیو ایک قصبے کے باہر ایک غار میں رہتا تھا وہ ہروقت غصے سے بھرا ہوتا تھا اور کسی سے بھی سیدھے منہ بات نہ کرتا۔ کوئی اسکے ساتھ کتنی بھی بھلائی کرتا دیو کبھی شکریے کا ایک لفظ بھی ادا نہ کرتا اس قصبے کے لوگ بہت شریف تھے اور ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے ایک دوسرے کیساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے اور کبھی کسی کو آزار نہ دیتے ایک دوسرے سے ملتے وقت سلام میں پہل کرتے کسی جگہ انتظار کرتے تو ہمیشہ قطار بناتے اور اس میں بھی بزرگوں اور خواتین کو باری سے پہلے جانے دیتے۔دیو کو قصبے کی یہ خوش اخلاقی ایک آنکھ نہ بھاتی اور تصور ہی تصور میں خواہش کرتا کہ قصبے کے لوگ ایک دوسرے سے لڑیں جھگڑیں لیکن وہ بھلے مانس مسلسل اسے مایوس کرتے رہتے بالآخر اس دیو نے ایک مشین بنائی جو ہوا سے خوش اخلاقی کے الفاظ چھینتی تھی یوں لوگوں کے منہ سے سلام، شکریے، مہربانی اور اس سے ملتے جلتے تمام الفاظ چھن گئے پہلے چند دن تو لوگوں کو علم ہی نہ ہوسکا کہ انہوں نے ایک دوسرے سے محبت بھرے الفاظ کہنا چھوڑ دیا ہے رفتہ رفتہ خوش اخلاقی کی جگہ بد اخلاقی لینے لگی بدگمانی بڑھتی گئی۔ لڑائی جھگڑے معمول بن گئے اور کئی بار ہاتھا پائی کی نوبت بھی آگئی۔

اسی قصبے میں دو گونگی بہری بہنیں بھی رہتی تھیں چونکہ بولنے سے معذور تھیں اسلئے وہ آپس میں اشاروں سے باتیں کرتی تھیں دیو کی مشین ماحول سے صرف الفاظ ہی غائب کرسکتی تھی لیکن اشاروں پر اسکا بس نہ چلتا چنانچہ پورے قصبے میں وہی دو بہنیں رہ گئیں جو بدستور اپنا تعلق خوش اخلاقی اور محبت سے قائم رکھے ہوئے تھیں انہوں نے محسوس کیا کہ پورا قصبہ غضبناک ہوتا جارہا ہے اور قصبے کی فضا امن و محبت سے خالی ہوتی جارہی ہے۔ ایک دن وہ دونوں قصبے کے مضافات میں پہاڑوں میں چہل قدمی کررہی تھیں کہ انکو ایک غار نظر آیا جو کہ اس دیو کا گھر تھادیو کہیں باہر گیا ہوا تھا غار کے اندر ایک مشین دھڑا دھڑ فضا سے خوش اخلاقی کے الفاظ ہڑپ کررہی تھی یہ دونوں بہنیں اس عجوبے کو دیکھ رہی تھیں لیکن آپس میں اشاروں میں ایک دوسرے کو لطیفے بتاکر ہنس رہی تھیں ان کا ہنسی مذاق مشین سے برداشت نہ ہوسکا اور وہ تیز سے تیزتر چلنے لگی اس سے مشین کا انجن اتنا گرم ہوا کہ تھوڑی ہی دیر میں ساری مشین پھٹ پڑی اور فضا خوش اخلاقی کے الفاظ سے روشن ہوگئی یوں سارے قصبے کا امن دوبارہ لوٹ آیا۔

مجھے بھی یوں لگتا ہے کسی عفریت نے ایک بڑی مشین چلارکھی ہے جوملک سے خوش مزاجی، نرم دلی، تحمل، برداشت اور رواداری ہڑپ کررہی ہے۔ اسکے مظاہرے ہمیں بچوں کے سکول سے لیکر بزعم خویش ملک کے مقدس ترین ادارے یعنی پارلیمنٹ تک میں نظر آتے ہیں گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دھینگا مشتی کا جو مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا اس سے قبل بھی اچھے خاصے معزز لوگ ایک دوسرے پر مُکّوں اور لاتوں کی بارش کرتے رہے ہیں جب پی ٹی وی کا ایک چینل ہوا کرتا تھا تو ٹی وی پرمغلظات کبھی سننے یا دیکھنے میں نہیں آئیں لیکن اب سینکڑوں چینلوں پر ایک ساتھ گالی گلوچ معمول بن گیا ہے یہ تمام چینل سکرین کا سیٹ بنانے ، کوریج کیلئے گاڑیوں اور دفاتر کی آرائش سے لے کرمیوزک مکسنگ تک بین الاقوامی چینلوں کی نقل کرتے ہیں لیکن جس اخلاق کی نقل کی ضرورت ہے وہ عنقا ہے۔ دنیا کے کسی چینل پر آپ اتنا مخرب الاخلاق رویہ نہیں دیکھ پائیں گے۔بی بی سی اور سی این این کو تو چھوڑیں فاکس نیوز (جو بازاری زبان کیلئے مشہور ہے) پر بھی کبھی نام نہاد تجزیہ کاروں اور سیاسی لیڈروں کا آپس میں چلّانا نہیں دیکھیں گے اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہمارے چینلوں پر تجزیہ کار اپنی بات بسم اللہ اور نحمدہُ ونصلّی سے شروع کرتے ہیں لیکن چند منٹ بعد ہی منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی تو مخالف کو گلاس دے مارا یا ایش ٹرے سے تواضع کی۔پرنٹ میڈیا یعنی اخبار جو اس سے پہلے اپنی نستعلیق زبان کیلئے مشہور تھا اب اس کی شہ سرخیاں بازاری زبان کا نمونہ ہوتی ہیں ’پولیس کی دوڑیں لگ گئیں‘ ۔’ وزیر اعلیٰ کو ماموں بنادیا‘ قسم کی زبان تو شاید لکھنو کے بازاروں میں بھی نہ سنا ئی دے۔

مزاح کے نام پر نہ صرف حکمرانوں اور سیاستدانوں بلکہ اہل علم لوگوں کی ایسی پیروڈی دیکھنے میں آتی ہے جو سوقیانہ ہو تو ہو، مزاح کم از کم نہیں ہوتااگر یہ مزاح واقعی صرف مذاق تک محدود ہے تو میں تب مانوں گا جب یہی چینل کسی فوجی کمانڈر کے بارے میں ایسی پیروڈی پیش کردیں جب ایم کیو ایم کا بول بالا تھا تو یہی چینل کبھی انکے لیڈر کے بارے میں ایسی پیروڈی کاسوچ بھی نہیں سکتے تھے۔سوشل میڈیا جو آپس میں محبت اور رواداری کی ترویج کیلئے استعمال میں لایا گیا اب انتہائی غیر مہذب ہوچکا ہے۔ اچھے بھلے شریف انسان اپنی پوسٹ پر یا تو ایک مخالفانہ کمنٹ دیکھ کر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور یا مذہب، نسل اور زبان کی بنیاد پر دوسروں پر کیچڑ اچھالنا شروع کردیتے ہیں دوسروں کی تصویروں کو فوٹو شاپ سے کبھی گدھے بنا لیتے ہیں اور کبھی ننگ دھڑنگ جسم پر چسپاں کردینا تو معمول ہے۔ ذاتی حملوں سے اب معاملہ مذہب تک بڑھ چکا ہے اور اسکے نتیجے میں کئی افراد قتل یا غائب تک ہوچکے ہیں۔

معاشرے پر ان مٹ نقوش بنانا سکول، میڈیا اور منبر و محراب کیلئے نہایت آسان ہے جس اخلاق کا مظاہرہ آپ سکول کے بچوں میں سرایت کردیں وہی بچے بڑے ہوکر اسی اخلاق کا مظاہرہ کریں گے میڈیا اگر ریٹنگ کو ایک طرف رکھ کر انسانیت کے جامے میں رہے تو عام معاشرہ وہی اخلاق اپنائے گا اسی طرح مسجد میں گزاراجانے والا وقت اگر برداشت اور تحمل کے سبق پر مشتمل ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ مسجدیں بھی بھری ہوں اور اسکا اثر معاشرے پر بھی نظر آئے لیکن وائے حسرتا کہ منبر سے ہمہ وقت غیر مسلموں کی ہلاکت اور بربادی کی بددعائیں الاپی جاتی ہیں بلکہ اب تو اچھے خاصے پڑھے لکھے خطیب نہ صرف غیر مسلموں بلکہ دوسرے فرقوں پر بھی وہ تبرے بھیجتے ہیں کہ نماز پڑھنامشکل ہوجاتی ہے۔
چنانچہ میں ان دو گونگی بہری بہنوں کے انتظار میں ہوں جنہوں نے میرے بچپن کی کہانی میں دیو کی بنائی ہوئی نفرت کی مشین توڑ ڈالی تھی انکا کردار کون اداکریگا مجھے نہیں معلوم لیکن میں اپنی طرف سے اسکا آغاز کرتا ہوں۔ میرے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں اسکی معافی چاہتا ہوں۔