بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / شامی دارالحکومت میں دوہرے بم دھماکے ، ہلاکتوں کی تعداد74 ہو گئی

شامی دارالحکومت میں دوہرے بم دھماکے ، ہلاکتوں کی تعداد74 ہو گئی


بیروت۔شام کے دارالحکومت دمشق کے مرکز میں گزشتہ روز ہونے والے یکے بعد دیگرے 2 دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 74ہوگئی جبکہ100 سے زائد زخمی ہیں۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق شامی دارالحکومت دمشق میں دوہرے بم حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد74تک پہنچ گئی ہے۔ ان ہلاک شدگان میں سے 40 کا تعلق عراق سے بتایا گیا ہے۔شامی وزیر داخلہ محمد الشعار نے ان حملوں کی تفتیش کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم شامی مبصر تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ دمشق کے علاقے باب الصغیر میں پہلا دھماکا سڑک کنارے نصب بم کے پھٹنے سے ہوا ۔

جس کی زد میں وہاں سے گزرتی ایک بس آگئی، جبکہ دوسرا دھماکا خودکش تھا۔خیال رہے کہ باب الصغیر کے علاقے میں متعدد مزار موجود ہیں جس کی وجہ سے یہاں دنیا بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔زخمیوں کی عیادت کے لیے مقامی ہسپتال پہنچنے والے شامی وزیر داخلہ محمد الشعار کا کہنا تھا کہ حملے میں مامی شہریوں، عرب اور عراق سے آئے زائرین کو نشانہ بنایا گیا۔شام میں واقع تاریخی مزارات القاعدہ اور داعش سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ رہے ہیں اور باب الصغیر میں ہونے والے دھماکے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔خیال رہے کہ دمشق کے جنوبی حصے میں سیدہ زینب کا مزار زائرین کے لیے ایک اہم مقام ہے اور گذشتہ چھ سالوں کے دوران اس مزار کو متعدد مرتبہ دھماکوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

گذشتہ ماہ فروری میں بھی شام کے شہر حمص میں ہونے والے خودکش حملے میں انٹیلی جنس چیف سمیت 30 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس سے ایک روز قبل ہی شہر الباب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں کار میں نصب بم پھٹنے سے 41 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔رواں سال جنوری میں کفر سوسا ضلع میں ہونے ہوالے دو خودکش دھماکے بھی 8 فوجیوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کی وجہ بنے تھے۔کفر سوسا میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہنے والے دھڑے فتح الاشام نے قبول کی تھی، جن کا کہنا تھا کہ ان کے حملے کا نشانہ روسی فوجی تھے۔خیال رہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے زیر کنٹرول دارالحکومت میں اس طرح کے دھماکے غیرمعمولی بات ہیں تاہم دمشق کے مضافاتی علاقوں میں باغیوں کی فائرنگ کے واقعات وقتا فوقتا سامنے آتے رہتے ہیں۔