بریکنگ نیوز
Home / کالم / رحیم اللہ یوسفزیٰ / فاٹااصلاحات :قانونی وسیاسی چیلنجز

فاٹااصلاحات :قانونی وسیاسی چیلنجز

حسب توقع وفاقی کابینہ نے 2مارچ کو قبائلی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی یہ کمیٹی نومبر دوہزار پندرہ میں قائم کی گئی تھی پاکستان کی بہت سی سیاسی جماعتوں نے اس حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا جبکہ اس موقع پر قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے خوشی منائی قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی ایک تعداد نے پشاور میں روایتی ’اتھنڑرقص’ کا مظاہرہ کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا لیکن قبائلی علاقوں کی ایک اکثریت ایسی بھی رہی جس نے فوری طور پر اپنے جذبات اور ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا اور سوچ میں چلے گئے کہ قبائلی اصلاحات کی انکی عملی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب ہونگے یہ اصلاحات مرحلہ وار ہونگی اور اس سلسلے میں توقعات نہیں کہ ایسا حسب خواہش ہو پائیگا اگر ہم سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی رپورٹ پر نظر کریں تو اس رپورٹ سے گرما گرم بحث پیدا ہوئی ہے اس سلسلے میں چند ماہ قبل پشاور میں ہوئی ایک تقریب کا احوال لائق توجہ ہے جسکے شرکاء قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے حق اور اسکی مخالفت میں اس حد تک چلے گئے کہ انہوں نے ایک دوسرے کے مؤقف اور دلیل کو سننے ہی سے انکار کر دیا اور یہ بحث و مباحثہ اس حد تک بڑھا کہ اس تقریب میں شریک گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا اور دیگر حکومت کی نمائندگی کرنے والے حکام کو اپنی تقاریر سے قبل ہی تقریب کو چھوڑ کر چلے جانا پڑا یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ وفاقی کابینہ سے فاٹا اصلاحات کی منظوری کے صرف ایک ہی دن بعد پانچ قبائلی عمائدین نے فاٹا اصلاحاتی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جس میں وزیراعظم نے قبائلی علاقوں کی قسمت بارے کوئی فیصلہ کرنیکا اختیار بھی شامل تھا دلیل یہ دی گئی کہ وزیراعظم نے آئین کی جس شق کے تحت فاٹا اصلاحاتی کمیٹی تشکیل دی تھی وہ غیرقانونی اور آئین کی شق 247 سے متصادم ہے اور قبائلی علاقوں کے بارے میں آئین میں یہ بات واضح لکھی ہے کہ اس بارے میں کسی بھی قسم کے فیصلے کا اختیار متعلقہ علاقوں کے نمائندوں پر مشتمل جرگہ کرسکتا ہے۔

جس کا ذکر آئین کے آرٹیکل 247 کی ذیلی شق 6 میں درج ہے سابق وفاقی وزیر ملک وارث خان آفریدی‘ملک خان مرجان‘ملک عطاء اللہ‘ ملک بہادر اور ملک باز گل نے بھی اپنی آئینی پٹیشن میں فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات پر سوال اٹھائے اور بالخصوص اس نتیجے کو تصوراتی فرضی اور غلط قرار دیا کہ قبائلی علاقوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ انکے علاقے خیبرپختونخوا میں ضم ہو جائیں۔ درخواست گزاروں نے قبائلی علاقوں اور چھ فرنٹیئر ریجنز سے تعلق رکھنے والے 100 نمایاں شخصیات کی فہرست بھی پٹیشن کے ہمراہ جمع کرائی تاکہ اس مؤقف کو ثابت کیا جاسکے کہ قبائلیوں کی اکثریت اپنے علاقوں کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کی مخالف ہے قبائلی عمائدین کی جانب سے آئینی سوالات کے علاوہ اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کی سیاسی مخالفت بھی سامنے آئی اور اس مخالفت کی قیادت جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کر رہی ہے جس نے 11 مارچ کو ایک جرگہ طلب کیا جس میں نمائندہ قبائلی عمائدین کو مشاورت کے لئے طلب کیا تاکہ فاٹا اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کے بارے میں اپنے مخالفانہ مؤقف کی حمایت جمع کر سکے اسی طرح بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پختونخوا ملی عوامی پارٹی جس کی قیادت محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں نے بھی متحرک ہو کر فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات کی مخالفت کی اگرچہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی مخالفت جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن جیسی بڑے پیمانے پر قبائلی حمایت نہیں رکھتی جو کہ قبائلی علاقوں میں وسیع سیاسی اثرورسوخ رکھتی ہے۔

لیکن دونوں جماعتوں کے مؤقف میں ایک جیسی مماثلت پائی جاتی ہے کہ یہ دونوں ہی اس بات کیلئے ریفرنڈم کے حامی ہیں کہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم ہونا چاہئے یا نہیں۔ اتفاق ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی وفاقی حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی اتحادی ہیں اور حکومت نے فاٹا سفارشات کو کچھ عرصہ تک منظور کرنے سے معطل بھی رکھا تاکہ ان دونوں جماعتوں کے سخت گیر مؤقف کو تبدیل کیا جا سکے لیکن ایسا نہیں ہوسکادیگرناقدین مولانااور اچکزئی کے مؤقف کے پیچھے فوج کا ہاتھ دیکھتے ہیں جو نہیں چاہتی کہ ان اصلاحات کا اطلاق ہو یہ ناقابل اعتبار دعویٰ ہے کیونکہ فوج کے ادارے کی جانب سے قبائلی اصلاحات کی کھل کر حمایت سامنے آئی ہے اور یہ فوج ہی تھی جس نے قبائلی اصلاحات کرنے کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالا جو کہ انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی کا ایک جز ہے علاوہ ازیں مولانا اور اچکزئی فوج کے زیادہ قریب بھی نہیں اور اچکزئی فوج کے سیاست میں کردار کے بارے سخت گیر مؤقف کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت بناء تعطل جاری رہے۔قبائلی علاقوں کے عوام کی اکثریت اصلاحات کے بارے میں کیا مؤقف رکھتی ہے اور انکی خواہشات کیا ہیں یہ جاننے کا کوئی سائنسی یا سوفیصد درست طریقہ نہیں۔ بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے اور جیسا کہ نواز لیگ‘ تحریک انصاف‘ پیپلزپارٹی‘ عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی بھی اصلاحات کی حمایت کر رہی ہیں کہ قبائلی آبادی کا بڑا حصہ بھی ان کا ہمنوا ہے اور سماجی کارکنوں‘ طلبہ اور خواتین نے کھل کر نہ صرف سفارشات کی حمایت کی بلکہ انہوں نے مرحلہ وار اصلاحات پر عمل درآمد کی بجائے اس عمل کو فوری طور پر کرنے کا مطالبہ کیا جو گروہ قبائلی علاقوں کے بناء ریفرنڈم خیبرپختونخوا میں انضمام کی مخالفت کر رہے ہیں ان کا مؤقف ہے کہ ایسا کرنا غیرآئینی ہوگا اور صرف ریفرنڈم ہی ایسی واحد صورت ہے جسکے ذریعے قبائلی علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ جمہوری انداز میں کیا جاسکتا ہے قبائلی عمائدین اور کچھ گروپوں پر مشتمل ’فاٹا گرینڈ الائنس‘ نامی اتحاد اصلاحاتی سفارشات کی مخالفت جبکہ فاٹا پولیٹیکل الائنس نامی سیاسی اتحاد اس بات کی حمایت کر رہا ہے کہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم ہونا چاہئے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے ریفرنڈم ایک جمہوری طریقہ ہے لیکن آئین میں اسکی گنجائش نہیں اور ریفرنڈم کرانے سے پہلے اسکی آئین میں ترمیم کے ذریعے گنجائش پیدا کرنا ہوگی حکام کیلئے ریفرنڈم کا آئین میں جواز پیدا کرنے سے گریز کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر قبائلی علاقوں کی قسمت کا فیصلہ بذریعہ ریفرنڈم کیا جاتا ہے تو دیگر صوبوں کی تحاریک بھی اسی قسم کے حل (ریفرنڈم) کا مطالبہ کرنے لگیں گی علاوہ ازیں دشوار گزار اور دور دراز قبائلی علاقوں میں ریفرنڈم نہ صرف ایک وقت طلب بلکہ قیمت کے لحاظ سے بھی مہنگا فیصلہ ہوگا۔قبائلی علاقوں کے ضم کرنے سے متعلق وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو اعتماد میں نہیں لیا اور یہی وجہ تھی کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو کہنا پڑا کہ وہ تحریری طور پر وفاق سے مطالبہ کریں گے کہ وہ فاٹا اصلاحات پیکج اور انتظامی اختیارات کے حوالے سے صوبے کے کردار کی وضاحت کریں انکا یہ مطالبہ منطقی ہے کیونکہ وفاقی حکومت اصلاحاتی کمیٹی کی یہ سفارش تسلیم کر چکی ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح قبائلی علاقوں میں بھی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کا انعقاد کیا جائے اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونیکی جانب پہلا عملی اقدام ہوگا جبکہ اس سے صوبائی حکومت کے تحفظات بھی اپنی جگہ پر قائم رہیں گے جنہیں قبائلی اصلاحات کے حوالے سے مشاورتی عمل کا حصہ نہیں بنایا گیا اور اس سے مستقبل میں انتظامی و سیاسی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔