بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / سپر لیگ اور سپر سٹار

سپر لیگ اور سپر سٹار


عمران خان نے پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کے بارے میں کہا ہے کہ ’’ یہ پھٹیچر اور ریلو کٹے تھے جنہیں افریقہ سے بلایا گیا یہ پیسے کیلئے تو کلب کی سطح کے میچوں میں بھی کھیلنے کو تیار ہو جاتے ہیں‘‘ ایک ہفتہ پہلے دےئے ہوئے خان صاحب کے اس بیان پر مضامین تازہ کے انبار لگے ہوئے ہیں اہل فکر و نظر کی جودت طبع کو ایک نیا مضمون ہاتھ آ گیا ہے تجزیوں کے اس چمنستان میں اب کیا اضافہ کیا جا سکتا ہے کرکٹ اور عمرانیات کے بارے میں ہمارا مبلغ علم اتنا ہے کہ جتنا اس شعر میں بیان کر دیا گیا ہے
بندھی ہے بھینس کھونٹے سے نہ اپنی گائے رکھتے ہیں
مگر ہم دو دھ کے بارے میں اپنی رائے رکھتے ہیں
اس فکری تنگدستی کے باوجود ادھر ادھر تھوڑی بہت تاک جھانک کی تو پتہ چلا کہ خان صاحب کو برہان قاطع قسم کا جواب کسی واعظ آتش بیاں ’ اختیار مند قوم یا کہنہ مشق کالم نگار نے نہیں بلکہ انکی سابقہ اہلیہ محترمہ ریحام خان نے دیا ہے خاتون نے کوئی بے مغز اور بے سروپا بھاشن دینے کی بجائے نہایت سادہ لفظوں میں کہا ہے کہ ’’ سیمی تم سے بڑا سٹارہے مسٹر پھٹیچر خان اس نے بطور کپتان دو ورلڈ کپ جیتے اور تم نے صرف ایک اور وہ بھی بارش کی وجہ سے ‘‘ بات تو واقعی بڑے پتے کی ہے مگر جس عصری اسلوب میں کہی گئی ہے اسے دیکھتے ہوئے خان صاحب کی طرف سے بہ زبان شاعر اگر یہ کہہ دیا جائے تو کچھ زیادہ بے جا نہ ہو گا۔
ہر اک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

ہمیں یہ مشورہ دینے کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ خان صاحب ہر بال پر کھیلنے کے عادی ہیں ایسا اگر نہ ہوتا تو وہ ڈیرن سیمی’ کرس جورڈن’ مارلن سیمولز اور Batsman All Time Best Test کا خطاب حاصل کرنیوالے کھلاڑی ویوین رچرڈز،جو کوئٹہ گلیڈی ایٹر کے ہیڈ کوچ تھے کو اپنی خوئے جنگجوئی کا نشانہ نہ بناتے تین عشروں تک دنیائے کرکٹ پر چھائے رہنے والے سر ویوین رچرڈز کو ویسٹ انڈیز کا بہترین کپتان ہونیکا اعزاز بھی حاصل ہے اکیاون ٹیسٹ میچوں میں اپنی ٹیم کی قیادت کرنیوالے اس کرکٹر کے نام سے انکے آبائی شہر Antigue میں ایک سٹیڈیم بھی بنا یا گیا ہے انڈیا کے Finest All Rounder کپیل دیو نے انکے بارے میں کہا ہے “The Vivian I know was probably the greatest batsman. He had the swagger to intimidate any rival.” اب اگر ایسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کو ہمارا ایک سپر سٹار ’’ پھٹیچر’ ریلو کٹا اور افریقہ سے آیا ہوا‘‘کہہ دے اور وہ سپرسٹار ایک ایسا مقبول سیاستدان بھی ہو جو وزیر اعظم بننے کیلئے بیتاب ہو تو اسکی یہ سنگ باری ہمارے قومی کردار کے بارے میں انگشت نمائی کرتی ہوئی نظر آتی ہے عمران خان اور ویوین رچرڈز ہم عمر بھی ہیں اور ایک ہی زمانے میں کرکٹ کھیلتے رہے ہیں اسلئے کتنا اچھا ہوتا اگر عمران خان اپنے ملک میں اس مہمان کو خوش آمدید کہتے اور لاہور کے قدافی سٹیڈیم میں اسکا اور دیگر غیر ملکی کھلاڑیوں کا خود استقبال کرتے دیکھا جائے تو عمران خان کا سارا جاہ و جلال اور کرو فر کرکٹ ہی کی وجہ سے ہے؂

انکی مقبولیت میں یقیناًانکی محنت اور لگن کا عمل دخل بھی ہے مگر کرکٹ کو انکی شخصیت سے الگ کر دیا جائے تو اسکی تگ و تاز باقی نہیں رہتی ہر کامیاب و کامران شخص کی کامیابی کی قلید اسکا منتخب کیا ہوا میدان ہوتا ہے خان صاحب نے اپنے لئے جو میدان منتخب کیا اسمیں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا پوری دنیا سے منوا لیا اس کیساتھ ساتھ وہ کیونکہ سیاست کا شوق بھی فرما رہے ہیں اسلئے لاہور آئے ہوئے تمام غیر ملکی کھلاڑی کسی بھی پاکستانی سے زیادہ انکے مہمان تھے پانچ مارچ کے دن اس میدان میں موجودگی انکے اعزازو افتخار میں اضافے کا باعث ہوتی اس دن وہ یہ میلہ لوٹ سکتے تھے مگر تعصب کی میلی عینک نے انکی راہ کھوٹی کر دی اب انکے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

خان صاحب کی سیاسی مجبوریاں اور ضرورتیں اگر اس کار خیر کی راہ میں حائل تھیں تو پھر بہتر یہی تھا کہ وہ اس اشتعال انگیز بیان بازی سے گریز کرتے کرکٹ سے انہوں نے اتنا بھی نہیں سیکھا کہ ہر بال پر کھیلنا ضروری نہیں ہوتا اور بات اگر کرکٹ کی ہو تو عمران خان کو ظفر اقبال کے اس شعر سے استفادہ کرنا چاہیے۔
یہ دل برا سہی سر بازار تو نہ کہہ
آخر تو اس مکان میں کچھ دن رہا بھی ہے

ہمارے سپر سٹار کو اس موقع پر اپنی توسن خطابت کو اسلئے بھی لگام دینی چاہئے تھی کہ حکومت پاکستان کے علاوہ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے کئی دوسرے ممالک بھی پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں انگلینڈ اور ویلز کرکٹ بورڈ کے پریذیڈنٹ Giles Clark نے اٹھائیس فروری کو لاہور میں پنجاب کے چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد کہا کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ پنجاب حکومت نے لاہور میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے ہیں جائلز کلارک نے امید ظاہر کی کہ” These positive developments would help revive cricket in Pakistan in the coming days.” لاہور اور اسلام آباد کی سیاسی قیادت نے فوج کے تعاون کے ساتھ سپر لیگ کے فائنل کو کامیاب بنانے کیلئے جس ایڑھٰی چوٹی کا زور لگایا اس کا اندازہ مہمان کھلاڑیوں کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے کرس جورڈن نے لاہور سے بنکاک پہنچنے پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لاہور میں حفاظتی اقدامات اتنے تسلی بخش تھے کہ انہوں نے نہایت اطمینان سے کرکٹ کھیلی کرس نے کہا کہ ” He will be happy to return.” ڈیرن سیمی جو ٹورنامنٹ کی فاتح ٹیم پشاور زلمے کے کپتان تھے نے بنکاک ایئر پورٹ پر کہا کہ لاہور کا میچ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کیلئے ایک بڑی پیشرفت تھا اس نے کہا کہ ” It was a resounding success and more than a match for him.” پاکستان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے غیر ملکی ہمارے لئے قابل احترام ہیں انکی تضحیک ایک ایسا قابل مذمت فعل ہے جسکے لئے وہ ہماری معذرت کے مستحق ہیں۔