بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مردم شماری کے تقاضے

مردم شماری کے تقاضے

وطن عزیز میں چھٹی مردم شماری کا کام کل سے شروع ہو رہا ہے دو مرحلوں پر محیط اس عمل کا پہلا فیز15 مارچ سے15 اپریل تک کا ہے جبکہ دوسرا مرحلہ10 روز کے وقفے کے بعد25 اپریل سے25 مئی تک کا ہوگا‘ مردم شماری کیلئے18 ارب 50 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیاگیا ہے اطلاعات و نشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے اخراجات6 ارب جبکہ ساڑھے6 ارب ٹرانسپورٹ اور6 ارب سویلین کے ہوں گے ‘ مردم شماری کے اس عمل میں غلط معلومات فراہم کرنیوالوں کو50 ہزار روپے جرمانہ اور6 ماہ قیدکی سزا دی جائیگی ‘ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ آرمی کے 2 لاکھ جوان مردم شماری میں حصہ لیں گے اور پورے عمل کو شفاف رکھا جائے گا‘ مردم شماری میں اس مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی شمار کیاجائے گا جبکہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو بھی شامل رکھا جائیگا‘ وطن عزیز میں آخری مردم شماری 1998ء میں ہوئی قاعدے کے مطابق اگلے10 سال بعد دوبارہ یہ عمل دہرایا جانا تھا لیکن یکے بعد دیگرے برسر اقتدار آنیوالی حکومتوں نے ناگزیر حالات کی بنیاد پر اس سے گریز کی روش ہی اختیار رکھی‘مردم شماری کسی بھی ریاست یا اس کے انتظامی یونٹ کیلئے قومی وسائل کی تقسیم آبادی کے لحاظ سے نمائندگی بہتر منصوبہ بندی اور مستقبل کی ضروریات کے اندازے کیلئے مشعل راہ ہوتی ہے بعد از خرابی بسیار سہی اب جبکہ مردم شماری کل سے شروع ہونے جا رہی ہے ضرورت اس عمل کی تکمیل کیساتھ تازہ ترین اعداد وشمار کی روشنی میں بہتر اور پائیدار منصوبہ بندی کی ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہمارے برسر زمین حالات میں فرائض سے غفلت کے رجحان اور تکنیکی مہارت سے عاری منصوبہ بندی کا بڑا عمل دخل ہے ۔

ہمارے بعض منصوبے ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر منظور ہوتے ہیں جبکہ بعض پراجیکٹس کی سائٹس مخصوص لوگوں کی جائیدادوں کے نرخ بڑھانے کیلئے منتخب کی جاتی ہیں ہماری منصوبہ بندی ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر فائلوں میں موجود سب اچھا کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لئے لوگ نہ کوئی ریلیف پاتے ہیں نہ ہی تبدیلی کا احساس‘ ہمار ا کوئی ذمہ دار موجودہ اور آنیوالے وقت کی ضرورتوں کا اندازہ کرنے موقع پر جانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کیا ہی بہتر ہو کہ اب کی بار مردم شماری کیساتھ اس سے جڑے تمام معاملات کو بہتر انداز میں نبھانے کاانتظام ابھی سے شروع کر دیا جائے تاکہ ساڑھے18 ارب روپے کا بجٹ محض خانہ پرُی پر ضائع نہ ہو جائے ۔

روزانہ کی بنیاد پر ر پورٹ

محکمہ خوراک نے پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مضر صحت اور کیمیکل ملے دودھ کی فروخت کے خلاف مہم شروع کر دی ہے اس مہم کی خاص بات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ دینا ہے ہمارے ہاں متعلقہ اداروں کی غفلت اور وسائل کی کمی کیساتھ مسائل میں اضافے نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ کوئی بھی ادارہ اپنی ذمہ داریاں صرف خانہ پری کیلئے ہی سرانجام دے سکتا ہے اگر دودھ کے کیس میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ واقعی میں کارکردگی کیساتھ دی گئی تو اسے رول ماڈل بنا کر برسوں سے حکومتی اعلانات اور عملدرآمد کے درمیان معلق درجنوں معاملات سنوارے جا سکتے ہیں تاہم شرط روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ کو صحیح طور پر جزاء وسزا کے نظام کیساتھ چیک کرنے کی بھی ہے بصورت دیگر سب زبانی کلامی ہی رہ جائے گا جو ایک عام وطیرہ ہے۔