بریکنگ نیوز
Home / کالم / الفاظ کا گھاؤ

الفاظ کا گھاؤ


بزرگ کہہ گئے ہیں الفاظ کا گھاؤ تلوار سے لگے ہوئے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے ثانی الذکر تو کبھی نہ کبھی بھر ہی جاتا ہے اول الذکر ہمیشہ ہرا رہتاہے اس لئے پہلے تو لو اور پھر بولو اس بات کا خیال ان لوگوں کو زیادہ کرنا چاہئے جو پارلیمنٹ جیسی جگہ میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ جسے اب بھی کئی لوگ مقدس جگہ سمجھتے ہیں حالانکہ خدا لگتی یہ ہے کہ بعض اراکین پارلیمنٹ کے کرتوتوں کی وجہ سے اب یہ ادارہ بڑی تیزی سے عوام کی نظروں میں اپنی وقعت کھو رہا ہے جو زبان جاوید لطیف نے استعمال کی اس پر توطیش میں آکر خیبر پختونخوا میں رنجیدہ فریق قتل کر دیا کرتے ہیں نہ جانے موصوف کوکیا ہو گیا تھا ؟ کیا ان کی پرائمری ایجوکیشن میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی تھی؟ ہماری اسمبلیوں کے فلور پر آئے دن اس قسم کے واقعات ہوتے رہتے ہیں جو مراد سعید اور جاوید لطیف کے درمیان ہوئے‘ گالم گلوچ ہاتھا پائی کرسیوں کا ایک دوسرے کے خلاف آزادانہ استعمال آج کل تو خیر چونکہ اسمبلیوں میں کرسیاں زمین کے ساتھ نصب ہیں ورنہ ماضی میں تو جب وہ نصب نہ تھیں بعض اراکین اسمبلی اس کو بطور ہتھیار استعمال کرکے اپنے سیاسی حریفوں کے سر بھی پھاڑ دیا کرتے تھے۔

‘ سوویت یونین کے رہنما خرد شیف نے ایک بار اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ڈاگ ہیمر شیلڈ کو کتا کہہ دیا تھا لیکن انہوں نے اپنے ماتھے پر ایک شکن لائے بغیر یہ کہہ دیا کہ خردشیف کی تربیت ٹھیک نہیں ہوئی اس لئے ان کا لہجہ اور الفاظ ٹھیک نہیں میں کوئی جواب دے کر اپنی عزت کم نہیں کر سکتا اور یوں یہ واقعہ ادھر ہی ختم ہوگیا۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو خردشیف کو سارجنٹ ان آرمز کے ذریعے اٹھوا کر ایوان سے باہر پھینک سکتے تھے۔ اب ہمارے اراکین اسمبلی چرچل یا ھیمر شیلڈ کے ذہنی معیار کے تو ہیں نہیں کہ ہم ان جیسے رویوں کی توقع رکھیں لیکن یہ ہر سیاسی پارٹی کے لیڈ ر کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اپنے اراکین اسمبلی کو اخلاقیات کی تعلیم و تربیت دیں ان کیلئے خصوصی کریش کورسز کاانعقاد کریں ان کو بتائیں کہ پارلیمنٹ میں کیسے بیٹھا جاتا ہے کیسے بولا جاتا ہے کس طرح دوسروں کی عزت نفس کا خیال کیا جاتا ہے اگران کے ہاتھوں ہر دوسرے دن اسمبلیاں فش مارکیٹ یا سبزی منڈی کا نظارہ پیش کریں گی تو اس سے ہماری نئی نسل کو کیا پیغام جائے گا؟ یہی صورتحال بعض سیاسی پارٹیوں کے ورکرز کی بھی ہے ان کی اخلاقی تربیت کرنے کی حد درجہ ضرورت ہے ۔

والٹیر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’ یہ ضروری نہیں کہ جو تم کہو میں ا س سے اتفاق کروں لیکن جہاں تک تمہارے کہنے کا حق ہے اس حق کی میں حفاظت کروں گا بھلے اس کی حفاظت کرنے میں میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے ‘سیاسی لوگوں کو اگر اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ نہیں استعمال کرنے چاہئیں تو وہاں اپنے اندر برداشت کا مادہ بھی پیدا کرنا چاہئے وہ اپنے مخالف کی بات اس کے دلائل سننے کا اپنے اندر حوصلہ پیدا کریں اور پھر دلائل سے ان کو جواب دیں نہ کہ دست بازو سے سیاست نام ہی ہے برداشت اور دلائل کاہے جو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں دن بہ دن عنقا ہو رہا ہے ایک مرتبہ خیبر پختونخوا کے ایک سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب قصہ خوانی سے گزر رہے تھے کہ ایک کوچوان نے ان کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر کسی بات پر گلہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آخر ہمیں کیا دیا ہے اس پر ڈاکٹر خان صاحب نے مسکرا کر اسے کہا میں نے تمہیں یہ حق دے دیا ہے کہ تم بھرے بازار میں اپنے صوبے کے حاکم کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر کوئی بھی سوال پوچھ سکتے ہو اس سے زیادہ میں تمہیں کیا دوں۔