بریکنگ نیوز
Home / کالم / میں دیکھتا رہا تری تصویر رات بھر

میں دیکھتا رہا تری تصویر رات بھر


ا ب کے بہار میں جاتی سردیوں کا کوئی کھلنڈرا ٹکڑا بھی شامل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے الماریوں میں کچھ ہی دن پہلے کے رکھے ہوئے گرم کپڑے دوبارہ نکالنے پڑگئے ہیں۔ سردیوں کا اختتام پر ایسا موسم امریکہ کی ریاست کولو راڈو میں ہو تا ہے جہاں اچانک دھوپ میں شدت پیدا ہونے لگتی ہے اور پھر چند ہی دنوں بعد نئے سرے سے برف باری شروع ہو جاتی ہے مگر وہاں کے باسی ایسے بے اعتبار اور غیر یقینی موسم کے عادی ہوتے ہیں مسئلہ تو ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ بہار کی وجہ سے اکثر بلکہ شاید ہمیشہ مارچ کا مہینہ بہت ہی خوشگوار اورمصروف گزرتا ہے بدلتی رت کے سنگم پر شروع ہونے والے مارچ کو مل بیٹھنے اور شادیوں کے لئے شبھ موسم سمجھا جاتا ہے۔اور مختصر فروری کے آخری ہفتہ ہی سے شادی کارڈ ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں بھی شادی ہال اور اچھے شادی ہال کے حصول کے لئے تگ و دو تو پانچ چھ مہینہ پہلے ہی سے شروع ہو چکی ہوتی ہے۔اسی طرح خواتین کی تیاریاں بھی شروع ہو چکی ہوتیں ہیں ( جو خیر سے شادی والے دن کی شام تک جاری رہتی ہیں کہ کوئی نہ کوئی میچنگ آئٹم رہ گیا ہوتا ہے ) لیکن اب کے گڑ بڑ یہ ہو گئی کہ جاتی سردی سے انگلی چھڑا کر بہار کو کمبل اوڑھانے والا یہ منچلا ٹکڑا خواتین کو غیر متوقع مشکلات سے یوں دو چارکر رہا ہے کہ انہوں نے مارچ کے حوالے سے ا پنے سابقہ تجربات کی بنا پر گرم کی بجائے شادیوں میں شرکت کے لئے ہلکے پھلکے کپڑے سلوا لئے اور اب بھری بہار میںیہ کپکپا دینے والی سردی باقاعدہ مزاج پرسی پر اتر آئی ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ وہ پہلے سے پہنے ہوئے کپڑے دوباہ پہن لیں اور درزی صاحبان تو ان دنوں بات سننے کے روا دار نہیں، نئے کپڑے کیاسئیں گے، اس لئے اب ہم ہیں اور قریہ رنج و ملال ہے

یعنی دل کڑا کر کے ’’ بہاریہ ڈریس‘‘ پہن کر شادیوں میں حاضری لگا رہی ہیں ،اور ان کپڑوں پر کوئی اپر یا شال تک لینے کے لئے اس لئے تیار نہیں کہ پھر تو نئے کپڑوں کی سج دھج وہ نہیں رہے گی۔ سردی ویسے تو دن بھر بھی اپنے ہونے کا اعلان کرتی رہتی ہے مگر دھوپ اس میں بڑی حد تک کھنڈت ڈال دیتی ہے لیکن شام ڈھلے تو کوئی روکنے ٹوکنے والا ہوتا نہیں اور خصوصاََ شادی سے جب واپسی کا وقت ،جب آدھی رات اِ دھر اور آدھی اْ دھرہو تی ہے تو ان فیشن کی ماری خواتین کی حالت دیدنی ہو تی ہے، جیسا کہ ایک رات بھر جاری والے مشاعرہ میں جب میزبان نے نصف شب کے بعد بسمل صابری کو کلام سنانے کی دعوت دی اور وہ چادر میں لپٹی لپٹائی سٹیج پر آئی تو بذلہ سنج فراز سے رہا نہ گیا اور بہ آواز بلند کہہ اٹھا’ آخرِ شب دید کے قابل ہے بسمل صابری ‘‘ سومارچ کے مہینے کے شب و روز اس بار بھی اسی مصروفیت میں کٹ رہے ہیں، بلکہ اس موسم میں تو ادبی سرگرمیاں بھی بڑھ جاتی ہیں ،پشاور کی حد تک تو پھر بھی غنیمت ہے کہ چند لمحے میسر آ جاتے ہیں لیکن لاہور ،اسلام آباد بلکہ نوشہرہ اور مردان تک کے دوستوں سے معذرت کرنا پڑتی ہے۔ اس مارچ میں خودمجھے اپنے کنبہ کے ساتھ اکوڑہ خٹک اور پشاور کے ما بین پنڈولم کی طرح جھولنا پڑ رہا ہے، ایسا بھی ہوا کہ شام ڈھلے گاؤں پہنچے تقریب اٹینڈ کی اور بھاگم بھاگ واپس پشاور آ کر دوسری تقریب میں چہرہ کرا یا اور حاضری لگائی۔ خیر سے ا بھی آدھا مارچ باقی ہے اور بشرط زندگی ،کم و بیش یہی صورت حال ہو گی۔

شادیوں کے بیچ بیچ میں چند اہم ادبی تقریبات میں شرکت کی کمٹ منٹ بھی ہو چکی ہے۔دو ایک تقریبات تو ایسی ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے، جانا ہی جانا ہے ایک تو پشاور میں ہے مگر دن کے وقت ہے دوسری اسلام آباد کی ہے اور رات کا قیام بھی اس میں شامل ہے اور اسی رات ایک شادی کی تقریب کو چھوڑنا پڑے گا۔ گزشتہ ہفتہ تو عجیب کشمکش میں گزرا کہ پشاور میں اور گاؤں میں اتوار کی مصروفیت ایسی تھی کہ دونوں جگہ جانا ممکن نہ تھا اور دونوں از حد ضروری، ادھر پشاور میں یہ وعوت ولیمہ کی تھی اور ایک صورت امن کی یہ ممکن تھی کہ اگر ہم مہندی یا بارات اٹینڈ کر لیں تو جان بخشی کا امکان ہے لیکن شومئی قسمت ہم صرف ولیمہ میں مدعو تھے یہ تو سب جانتے ہیں کہ بارات میں کم کم لوگوں کو اس لئے کہا جاتا ہے کہ دراصل یہ لڑکے اور لڑکی والوں کے درمیان ایک خاموش ڈیل ہوتی ہے کہ کتنے مہمانوں کو لایا جائے گا۔ اس لئے اس میں تو دخل در معقولات مناسب نہیں ہوتا البتہ مہندی والے دن گنجائش نکل سکتی تھی سووہ کیا جو شایدہی کوئی کرے۔ گویا

جو نہ کرنا تھا محبت میں وہ بھی کر گزرے
رہن رکھی ہے انا کاسۂ سر سے پہلے

اور سارے تکلفات اور تحفظات بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کو فون کیا اور پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو ہم آج مہندی پر آجائیں۔ ظاہر جب آپ ڈھیٹ بن کر زبردستی خود کو مدعو کروائیں تو کون انکار کر سکتا ہے۔ سو رات کو ہم مہندی پر جا پہنچے جو ہال کی بجائے گھر پر ہی تھی خواتین تو مہندی کی رسومات کا حصّہ بن گئیں اور میں ایک کمرے میں بیٹھ گیا جہاں سارے ہنگامے کا شور سنائی دے رہا تھا، مہندی کے گیت بھی جاری تھے اچانک پنجابی کا وہ لوک گیت گایا جانے لگا جو نہ جانے کتنی دہائیوں سے شادی کی تقریبات اور رسومات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
لٹھے دی چادر،اتے سلیٹی رنگ ماہیاجو کسی کو بھی ساتھ بہا کر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،میں سوچنے لگا کہ کہ آخر اس گیت کا مزہ کم کیوں نہیں ہوتا جانے کب سے میں سن رہا ہوں اس سوچ کے آتے ہی یہ گیت مجھے اس زمانے میں ٹرانسپورٹ کر گیا جب میں بہت چھوٹا تھا شاید چار یا پانچ سال یا شاید ذرا زیادہ کیونکہ میں اپنے بڑے چچا زاد بھائی (سید عطاؤاللہ شاہ ،ڈائریکٹر پشاور ماڈل کالجز)کی انگلی پکڑے ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک گیت گاتی اور ہنستی کھیلتی بہت سی لڑکیاں سامنے سے آئیں‘ ایک بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی گلے میں ڈھولک ڈالے بجا بھی رہی تھے اور گا بھی رہی تھی۔۔لٹھے دی چادر۔۔ جب وہ ہمارے قریب پہنچے تو اس نے گانا روک کر کہا اوہ کتنا پیارا بچہ ہے( یقین مانو تب تھا ) کسی نے کہا تمہارا چچا زاد ہے،اچھا کہہ کر اس نے میرے گالوں کا بوسہ لیااور اسی طرح ہنستی گاتی آگے بڑھ گئی، بعد میں گھر آ کر بتایا تو معلوم ہوا کہ میرا ایک چچا پشاور میں رہتا ہے، مگر جن کے ساتھ ہماری نہیں بنتی کوئی بیس برس ہوتے ہیں کہ وہ گاؤں نہیں آئے ( آہ! گاؤں کی دشمنیاں) چچا کا گاؤں سے جاناکیوں اور کیسے ہوا یہ اس وقت نہ پوچھنے کا شعور تھا نہ سمجھنے کی عمر تھی۔

مگر وہ گیت کانوں میں ابھی تک گونجتا ہے اور محبت بھرے بوسے کا بھگا بھیگا احساس میرے ساتھ ہی عمر کی منازل طے کررہا ہے لیکن یہ ضرور ہوا کہ جب میں پشاور آیا تو ڈھونڈتا ہوا اپنے چچا کے پاس جا پہنچا،گاؤں میں کسی کو علم نہ تھا کہ میں باقاعدگی سے ان کے سلام کے لئے حاضر ہو تا رہا۔اور پھر یہ بھی ہوا کہ جب اب کا انتقال ہوا تو دکھ کے ساتھ ایک گونہ خوشی بھی ہوئی کہ گاؤں سے سب آگئے تھے۔ لٹھے دی چادر والا گیت جانے کب کا ختم ہو گیا تھا مگر میرے لئے تو وہ لمحہ رک سا گیا تھا میرے آنکھوں میں بس وہی تصویر تھی،کمرے میں گھر والے آنا جانا شروع ہو گئے تھے سب کے چہروں میں مجھے اپنے مہرباں چچا کی تصویر لگ رہی تھی اچانک دولہا جوزی کے بڑے بھائی نوید نے مجھ سے لپٹ کر کہا مجھے آپ کے چہرے میں اپنے بابو کی تصویر نظر آتی ہے ایسا ہی ہو گا اس کا مرحوم ابو (بابو) میرا چچا زاد بھائی تھا،میرا بوسہ لینے والی ملکہ کا سگا بھائی اور گاؤں سے بے دخل کئے جانے والے میرے چچا کے بچے تھے پھرسے گیت شروع ہو گئے تھے مگر میں تو ایک ہی تصویر کا ہو کر رہ گیا تھا،رشید قیصرانی نے کہا تھا

گاتا رہا تھا دور کوئی ’’ ہیر ‘‘ رات بھر
میں دیکھتا رہا تری تصویر رات بھر