بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی و عسکری قیادت کے اہم اجلاس

سیاسی و عسکری قیادت کے اہم اجلاس


وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں اعلیٰ ترین سیاسی و عسکری قیادت کے اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد تیز کرنیکا فیصلہ کیا گیا اس اہم اجلاس میں پاک افغان بارڈر مینجمنٹ سے متعلق اٹھائے جانیوالے حالیہ اقدامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا ‘ عین اسی روز پشاور میں خیبر پختونخوا کی خصوصی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاویدباجوہ نے بھی شرکت کی‘ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اجلاس میں افغان مہاجرین بارڈر مینجمنٹ ‘ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے اور صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال پر غور کیا گیا ‘ اجلاس میں افغان مہاجرین کے باعث درپیش مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا ‘ اجلاس کو بتایا گیا کہ فاٹا کا 93 فیصد علاقہ محفوظ ہو چکا ہے جبکہ89 فیصد آئی ڈی پیز کی واپسی بھی مکمل ہو چکی ہے دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں بتایاگیا کہ قبائلی علاقہ جات سے متصل افغان سرحد پر باڑلگانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے 2 ہزار 430 کلو میٹر باڈر پر باڑدو مرحلوں میں لگائی جائیگی اس طرح فضائی نگرانی کیلئے خصوصی راڈار سسٹم بھی نصب کیا جائے گا پشاور میں ہونیوالے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈہ اہم اور ضروری نکات پر مشتمل تھا ۔

جس کی بریفنگ میں قبائلی علاقوں کے کلیئر ہونے اور89 فیصد آئی ڈی پیز کی واپسی کی بات قابل اطمینان ہے وفاقی حکومت نے قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کا ایک یادگار اعلان کیا جس کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی اصلاحات اور فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے اعلان میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کیلئے طویل المدتی شیڈول دیا گیا ہے جس پر خیبر پختونخوا حکومت کے تحفظات سامنے آ چکے ہیں خیبر پختونخوا حکومت افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کیلئے قائم کی گئی ٹاسک فورس اور سٹیرنگ کمیٹی کو بھی قبول نہیں کر رہی اس مقصد کیلئے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے فاٹا کا انضمام ہو یا افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور ان سے جڑے دیگر امور اس حقیقت کو کسی سطح پر نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ خیبر پختونخوا اس سارے عمل میں اہم سٹیک ہولڈر ہے یہ صوبہ ساری صورتحال سے براہ راست متاثر ہوتا ہے ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے برسرزمین حالات اور مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے پلاننگ کی جائے اور اس میں صوبے کی قیادت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو اہمیت دی جائے اس مقصد کیلئے صوبے اور وفاق کے ذمہ دار اداروں کے درمیان باہمی رابطے کیلئے موثرانتظام ناگزیر ہے۔

؂ناقص صفائی پر ایکشن

محکمہ خوراک نے یونیورسٹی روڈ پر کاروائی کے دوران صفائی کے ناقص انتظامات پر دو بیکریوں کو سیل کرتے ہوئے 2 افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے ‘ بڑی دکانوں کیخلاف محکمے کی کاروائی اس بات کی عکاس ہے کہ کریک ڈاؤن میں کسی کیساتھ رو رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ‘ اس سب کیساتھ صوبائی دارالحکومت کے گنجان آباد علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء جس طرح ملاوٹ شدہ اور ناقص معیار کی حامل ہیں ان کانوٹس لینے کیلئے محکمے کے پاس نہ تو اتنے وسائل ہیں نہ ہی افرادی قوت شہر کے گلی محلوں میں کھانے پینے کی اشیاء چیک کرنے کیلئے ایک بہت بڑے سیٹ اپ کی ضرورت ہے صوبے میں مجسٹریٹ ہیں نہیں جو ایک آزمودہ طریقے سے کام کرتے تھے اب ضروریات کا تقاضہ ہے کہ تاجر تنظیموں اور بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کو ساتھ ملاتے ہوئے سرکاری وسائل کو بھی یکجا کیا جائے تاکہ ثمر آور نتائج حاصل کئے جا سکیں۔