بریکنگ نیوز
Home / کالم / اغیار کی چالاکیاں

اغیار کی چالاکیاں


اپنے ہاں میر جعفروں اور میر صادقوں کی کمی نہیں اور اغیار کے ہاں جاسوسوں کا فقدان نہیں۔ اپنی جاسوسوں میں سے آج ہم ایک بدنام زمانہ جاسوس کا تذکرہ کریں گے کہ جس کا نام لارنس آف عریبیہ تھا۔ سلطنت عثمانیہ کسی دور میں ایک عظیم سلطنت تھی کہ جس کا دنیا بھر میں طوطی بولتا تھا پر جس طرح دیگر کئی عظیم سلطنتیں اپنے بعض حکمرانوں کی لغزشوں سے ٹوٹ گئیں۔ سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں سے کئی ایسی فاش غلطیاں سرزد ہوئیں کہ جن سے اس سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا ‘لارنس آف عریبیہ کو انگلستان کی حکومت نے جو ٹاسک دیا تھا اس میں وہ کامیاب ہوگیا یہ اور بات ہے کہ بعد میں فرنگیوں نے شریف حسین کو بھی مکہ کی حکمرانی سے چلتا کیا اور اس کی جگہ سعود کو حجاز کا سربراہ بنا دیا اس دن سے حجاز سعودی عرب کہلانے لگا۔ شریف حسین کو البتہ انہوں نے بالکل سائڈ لائن نہ کیا اور اس کی آل اولاد کو عراق اور اردن کی بادشاہت دے دی۔ لارنس آف عریبیہ کو عربی زبان پر کافی عبور تھا اور اس نے اسلامی کتب بھی کافی پڑھ رکھی تھیں اور وہ عربی اچھی خاصی مقامی لہجے میں بول بھی لیا کرتا تھا وہ عربوں کے مزاج، ان کی نفسیات اور ان کے رواجات سے بھی کافی باخبر تھا یہ لارنس آف عریبییہ کی سازشوں کی وجہ تھی کہ مشرق وسطیٰ جو کسی زمانے میں ایک واحد سیاسی اور انتظامی یونٹ ہوا کرتا تھا ٹوٹ پھوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اس کے کئی حصے بخرے ہوگئے کوئی عراق کہلایا تو کوئی اردن، کوئی لبنان کہلایا تو کوئی فلسطین کوئی شام کہلایا تو کوئی کردستان حجاز کو سعودی عرب کا نام دے دیا گیا۔

تاریخ کی کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ لارنس آف عریبیہ نے کئی کئی مرتبہ اپنا نام بھی بدلا تاکہ اسے ڈھونڈ کر مارنے والے اس کے قریب نہ پہنچ سکیں کیونکہ اسے احساس تھا کہ اس نے سلطنت عثمانیہ کو توڑنے کیلئے جو حربے استعمال کئے ہیں وہ مسلمانوں پر آشکارا ہوچکے ہیں اسے خدشہ تھا کہ کوئی اسے قتل نہ کردے اور پھر انگلستان کی حکومت بھی اپنے اس کارآمد جاسوس کا مکمل تحفظ کرنا چاہتی تھی، جب مشرق وسطیٰ میں وہ اپنا مشن پورا کرچکا تو وہ واپس انگلستان چلایاگیا پر کچھ عرصے بعد اسے فرنگیوں نے ایک جونیئر کلرک اور ائیر مین کے روپ میں برصغیر بھجوایااور ہوتے ہوتے وہ وزیرستان پہنچ گیا اس نے جنوبی وزیرستان میں جنڈولا کے مقام پر قیام کیا اور پھر وہ رائل ائیر فورس کے میران شاہ شمالی وزیرستان میں واقع ایک ائیر پورٹ پر بطور ائیر مین تعینات ہوگیا اس کو مختلف زبانیں جلد سیکھنے میں ملکہ حاصل تھا کہا یہ جاتا ہے یہاں اس نے ایک مقامی پیر کا روپ دھار لیا۔ جُبّہ اور لنگی زیب تن کرکے وہ مقامی آبادی کو افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان کے خلاف اکساتا دراصل افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان برطانیہ کی آنکھوں میں اس لئے کھٹکتا تھا کہ ’’سویت یونین کی طرف زیادہ مائل تھا کہ جو فرنگیوں کا سخت دشمن ملک تھا نیز برطانیہ کی نظر میں امان اللہ خان کے خیالات سوویت یونین کے خیالات کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتے تھے لہٰذا برطانیہ چاہتا تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے افغانستان سے امان اللہ خان کا اقتدار ختم کیاجائے اس دوران جب سوویت یونین کو اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے پتہ چلا کہ وزیرستان میں لارنس آف عریبیہ اس کے خلاف کیا گل کھلا رہا ہے۔

تو وہ برطانیہ سے احتجاج کرتا ہے اور برطانوی حکومت لارنس آف عریبیہ کو فوراً واپس انگلستان بلالیتی ہے تاکہ اس کے سوویت یونین کے ساتھ تعلقات مزید کشیدہ نہ ہوجائیں لارنس آف عریبیہ کے انگلستان واپس جانے کے چند دنوں بعد ہی باغی امان اللہ خان کے خلاف بغاوت میں کامیاب ہوجاتے ہیں لارنس آف عریبیہ نے تین کتابیں بھی لکھیں کہ جن کے نام ہیں سیون پلرز آف وزڈم، دی مینٹ اوربیٹل آف ڈیزرٹ مشہور ڈرامہ نویس جارج برناڈشاہ اور معروف برطانوی سیاست دان ونسٹن چرچل لارنس آف عریبیہ کے قریبی دوست تھے اور انہوں نے لارنس آف عریبیہ کی ان کتابوں کی نوک پلک سنواری اور ان کی اشاعت میں اس کی معاونت کی۔ آج بھی امریکن سی آئی اے، بھارتی ’’را‘‘ روس کی کے۔ جی۔بی، اسرائیلی موساد اور دنیا کی دیگر کئی خفیہ ایجنسیوں میں آپ کو لارنس آف عریبیہ قسم کے کئی لوگ ملیں گے کہ جن کا مقصد یہ ہے کہ عالم اسلام کو انتشار کا شکار بنایاجائے۔