بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حسین حقانی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت کیوں دی گئی،یوسف رضا گیلانی

حسین حقانی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت کیوں دی گئی،یوسف رضا گیلانی


اسلام آباد۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیرحسین حقانی کو ملک سے باہر کیوں جانے دیاگیا جبکہ میموگیٹ اسکینڈل سے تعلق کے باعث ان کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں شامل تھا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا نام لیے بغیریوسف رضاگیلانی نے کہاکہ حسین حقانی کی امریکا واپسی کا سوال ان سے پوچھا جاناچاہئیے جنھوں نے انھیں ملک سے جانے کی اجازت دی۔یوسف رضاگیلانی نے سوال کیا،میری حکومت نے حسین حقانی کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تاکہ انھیں ملک سے باہر جانے سے روکا جائے،پھر کس نے انھیں ملک سے جانے کی اجازت دی؟۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری ملک سے باہر تھے تو میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ حسین حقانی پاکستان میں ہی رہیں۔

یوسف رضا گیلانی نے سوال کیا کہ موجود حکومت جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں بننے والے ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ اپنے پاس رکھ کر کیوں بیٹھی ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ میری حکومت نے2مئی 2011کو امریکا کی جانب سے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے ایبٹ آباد آپریشن کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا، لیکن موجودہ حکومت اس رپورٹ کو منظرعام پر کیوں نہیں لارہی۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اگر اس رپورٹ کومنظرعام پر لایا گیا تومیموگیٹ اسکینڈل میں حسین حقانی کا نام بھی سامنے آجائے گا۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ نہ ہی میں نے اور نہ ہی سابق صدر زرداری نے امریکی عہدیداروں کو ویزوں کے اجرا کے سلسلے میں قوانین کی خلاف ورزی کی، اس طریقہ کار میں ریاستی اداروں کی جانب سے اسکریننگ کا عمل شامل ہوتا ہے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ملک سے ان کی وفاداری کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق وفاقی حکومت افتخار محمد چوہدری پر اپنی حکومت کی مدت کے دوران ایک متوازی حکومت چلانے کا الزام عائد کرتی ہے۔واضح رہے کہ حسین حقانی ایک وقت میں آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی شمار کیے جاتے تھے جن پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو مسدود کرنے کے سلسلے میں انھوں نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک پراسرار میمو بھیجا جاتا تھا۔