بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا اصلاحات کا شیڈول

فاٹا اصلاحات کا شیڈول


وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے ساتھ اس کا کنٹرول وفاق کے پاس رہنے کو انضمام کی روح کے خلاف قرار دیا ہے، وزیراعلیٰ کاکہناہے کہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کا مکمل خاکہ یہی ہوسکتا ہے کہ صوبے ہی کے انتظامی اور قانونی اختیارات کو قبائلی علاقوں تک توسیع دی جائے،و زیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے میں رائج قوانین کو صرف تین ماہ کے عرصے میں قبائلی علاقوں تک توسیع دی جاسکتی ہے، خیبرپختونخوا کی جانب سے فاٹا اصلاحات کے لئے سفارشات تیار کرنیوالی کمیٹی کے سربراہ سرتاج عزیز کو ایک بارپہلے بھی اپنا موقف دیتے ہوئے بتایا تھا کہ قبائلی علاقوں میں نئے تجربات سے بچنا چاہئے اور اگر وفاق سنجیدہ ہے تو صوبے کی پولیس انتظامیہ اور قوانین کو فاٹا تک توسیع دی جاسکتی ہے، صوبے کی جانب سے یہ بھی کلیئر کیاگیا تھا کہ اس سے الگ سوچ پورے نظام اور سٹرکچر کو تباہ کرکے چھوڑے گی، وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے گزشتہ روز کے اہم اجلاس میں فاٹا کیلئے تجویز شدہ پلان پر کھل کر اعتراض کیا۔

فاٹا نے خیبرپختونخوا میں ضم ہونا ہے اس انضمام کی تیاری خیبرپختونخوا حکومت ہی نے کرنی ہے اس کے ہوم ورک کا تقاضا ہے کہ صوبے کے موقف کو کھلے دل سے سنا جائے، قبائل کو اعتماد میں لیاجائے اور اصلاحات کے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے پلان کی مدت میں کمی کی جائے اس کا سب سے بہتر راستہ بات چیت ہے، اس بات چیت کی ضرورت فاٹا کے ساتھ دیگر معاملات پر بھی ہے، پن بجلی کے خالص منافع اور اس کے بقایاجات کی ادائیگی این ایف سی ایوارڈ اور سی پیک سے جڑے تمام معاملات اس بات کے متقاضی ہیں کہ وفاق اور صوبے کے ادارے باہمی رابطوں کے ذریعے ان کو سلجھائیں اس عمل میں یہ بھی یقینی بنایاجائے کہ جو معاملات بات چیت میں طے ہوجائیں ان پر عمل درآمد کے پورے عمل کی نگرانی ہو اور وہ دستاویز کی صورت میں سامنے آئے، سی پیک پر غیر یقینی صورتحال بات چیت کی دستاویزی شکل سامنے نہ آنے پر ہی پیدا ہوئی جس کیلئے ایک بعد دوسرا اجلاس بلانا پڑا۔

دیہی مراکز صحت کی فعالیت؟

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں دیہی مراکز صحت کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ان مراکز میں سٹاف کی ڈیوٹی تین شفٹوں میں تقسیم کردی گئی ہے رات کی شفٹ میں ایک میڈیکل آفیسر موجود رہے گا حکومت کی جانب سے آر ایچ سی کی سطح پر سروسز کا پورا ڈھانچہ بلاشبہ قابل اطمینان ہے تاہم اس کو ثمر آور صرف اس صورت قرار دیا جائے گا جب واقعی میں مریض اور ان کے لواحقین ان مراکز کی خدمات سے مطمئن ہوں گے حکومت کی جانب سے مسائل کے حل کے لئے خلوص وادراک اپنی جگہ قابل تعریف سہی حکومتی مشینری کے پاس اس مکینزم کی کمی ہے کہ جو لوگوں کے لئے خدمات یقینی بناسکے صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں تمام تر اصلاحات اور فراخدلانہ فنڈز کے باوجود مریضوں کی شکایات کا انبار موجود ہے۔

اسی طرح متعدد ترقیاتی منصوبے ایسے ہیں جن کی تکمیل میں مسلسل تاخیر ان سے جڑے فوائد سے عوام کو محروم کئے ہوئے ہے حکومتی احکامات تعداد میں کم بھی ہوں تاہم ضروری یہ ہے کہ ان پر عمل درآمد ان کی روح کی مطابق بروقت ہو تاکہ لوگ ان سے تبدیلی کا احساس پاسکیں بصورت دیگر اب اعلانات سے کوئی مطمئن نہیں ہوتا۔