بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سپریم کورٹ نے مردم شماری میں معذور افراد کا ڈیٹا بھی اکھٹا کرنے کا حکم دے دیا

سپریم کورٹ نے مردم شماری میں معذور افراد کا ڈیٹا بھی اکھٹا کرنے کا حکم دے دیا


اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے مردم شماری میں معذور افراد کے کوائف سے متعلق معاملہ نمٹا تے ہوئے حالیہ مردم شماری میں معذور افراد کا ڈیٹا بھی اکھٹا کرنے کا حکم دے دیا،جمعرات کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو محکمہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ موجودہ فارم میں معذور افراد کا کالم شامل کرنے سے مطلوبہ درست نتائج کا حصول ممکن نہیں اور ستمبر اکتوبر میں معذور افراد کے کوائف سے متعلق سروے بھی کرایا جارہا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہ استفسار کیا کہ معذور افراد کا نام۔شامل کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں اور کیا معزور افراد کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جائیگا۔

چیف شماریات آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے فارم 2اے پرنٹ کیا ہوا ہے جس میں اس نوعیت کی تفصیلات مانگی جائینگی اور مردم شماری کے تین ماہ بعد گرین فارم میں تمام ڈیٹا دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ ادارہ شماریات کی کیا مجبوری ہے کہ پنک اور گرین فارم اکٹھے نہیں دیئے جا رہے۔دنیا بھر میں یہ ڈیٹا مردم شماری کے وقت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ مردم شماری کمشنرنے عدالت کو بتایا کہ ہمیں فوج کی خدمات صرف دس دن کے لئے ملی ہیں۔وقت اور افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے تمام ڈیٹا ایک وقت میں اکٹھا نہیں کیا جاسکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اب جب مردم شماری کا کام شروع ہوگیا ہے اب مجبوریاں بتا رہے ہیں جسٹس اعجازالحسن نے استفسارکیاکہ خواجہ سر اوں کا کالم فارم میں کیوں موجود نہیں۔ کمشنر مردم شماری کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے عدالت نے 2012 میں حکم دیا تھا لیکن فارم 2007 میں شائع ہوئے تھے کیونکہ 2008میں مردم شماری کا ارادہ تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب عدالت نے حکم دیا تھا تو نئے فارم کیوں نہیں شائع کئے گئے۔

جب آپ کو خواجہ سراں اورمعذوروں کے شمار ہونے پر اعتراض نہیں۔مگر آپ کا مسئلہ ہے کہ فارم پہلے ہی چھاپے جاچکے تھے اورفنڈز کا مسئلہ ہو۔چیف محکمہ شماریات آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ موجودہ فارم میں معذور افراد کا کالم شامل کرنے سے مطلوبہ درست نتائج کا حصول ممکن نہیں، ستمبر اکتوبر میں معذور افراد کے کوائف سے متعلق سروے بھی کرایا جارہا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ سروے بھی کرایا اور مردم شماری میں تما ڈیٹا اکھٹا کیا جائے، محکمہ شماریات نے مردم شماری فارم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہیں بنایا،2007 کا پرانا فارم ہی استعمال کیا جارہا ہے اس معاملے سے متعلق عدالت کو پہلے ہی اعتماد میں لینا چاہیئے تھاہم سب نے اس مسئلے کا حل نکالنا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر مردم شماری کو روکنا نہیں چاہتے، سپریم کورٹ نے مردم شماری میں معذور افراد کا ڈیٹا بھی اکھٹا کرنے کا حکم دیتے ہوئے مردم شماری میں معذور افراد کے کوائف سے متعلق معاملہ نمٹا دیا۔