بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / خیبر تدریسی ہسپتال میں آئی بی پی کا تجربہ

خیبر تدریسی ہسپتال میں آئی بی پی کا تجربہ


اس بات سے شاید کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوگا کہ ایک ترقی یافتہ قوم اور خوشحال معاشرے کیلئے اس قوم کا صحتمند ہونا بنیادی ضرورت ہے ایک بیمار اور لاغر قوم جو مختلف امراض میں لتھڑی ہوئی ہو سے بہتر نتائج کی توقع کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگاشاید یہی وہ احساس ہے جس نے موجودہ حکومت کو اگر ایک جانب تدریسی ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے ایم ٹی آئی ایکٹ جیسے قوانین متعارف کرانے کا راستہ دکھایا تو دوسری طرف ہیلتھ کیئر کمیشن اور ہزاروں کی تعداد میں طبی عملے کی بھرتی کے علاوہ دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی خدمات انجام دینے والے محکمہ صحت کے ملازمین کو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کی منظوری کے ذریعے ان علاقوں میں صحت کی بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کی مثبت کوشش کی گئی ہے

یہ الگ بحث ہے کہ آیا اس ترغیبی پیکج کا عام شہریوں کو کوئی فائدہ پہنچا ہے یا نہیں اور اگر پہنچا ہے تو اس کا معیار اور پیمانہ کیا ہے۔ایم ٹی آئی ایکٹ کی پیچیدگیوں اور باریکیوں نیز اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پربات سے قطع نظر اس ایکٹ کا ایک قابل ذکر پہلو تدریسی ہسپتالوں میںآئی بی پی نظام کا اجراء ہے ۔

ماضی میں سابق گورنر افتخار حسین شاہ اور بعدازاں ایم ایم اے حکومت نے بھی اسی طرح کی کوششیں کی تھیں لیکن اس وقت یہ بیل منڈھے نہیں چڑ ھ سکی تھی بلکہ الٹا یہ کوششیں ان کے گلے پڑ گئی تھیں نہ صرف یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تھا بلکہ کئی سینئر ڈاکٹروں نے استعفے بھی دے دیئے تھے موجودہ حکومت اس حوالے سے خو ش قسمت واقع ہوئی ہے کہ تمام ترمخالفتوں،ہڑتالوں اور تحفظات کے باوجود یہ نہ صرف ایم ٹی آئی ایکٹ نافذکرنے میں کامیاب ہو گئی ہے بلکہ اس نے مذکورہ ایکٹ کے ایک اہم جزو آئی بی پی پر عمل درآمد کا آغازبھی کردیا ہے

ایل آر ایچ کے بعد خیبر تدریسی ہسپتال میں آئی بی پی کے افتتاح کے بعد اس میں ڈاکٹروں کی دلچسپی اورجوش وخروش کودیکھتے ہوئے جب 2002میں آئی بی پی کے ناکام تجربے کا نقشہ نظروں کے سامنے گھومتاہے تو کسی بھی ذی شعورانسان کے ذہن میں اس سوال کا اٹھنافطری امرہوگا کہ آخر وہ کیا اسباب اور عوامل تھے جن کے باعث اس وقت یہ نظام ناکامی سے دوچار ہوگیا تھا اوروہی فیصلہ جس پر پندرہ سال پہلے سارا محکمہ صحت سراپا احتجاج تھا اب بڑے بڑے نامی گرامی پروفیسر ز اور طبی ماہرین اپنی خوشی اور رضامندی سے بغیرکسی لالچ کے نہ صرف آئی بی پی کی تائید کر رہے ہیں بلکہ خود اس کا حصہ بن کر اس نئے تجربے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں بھی اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔

خیبر تدریسی ہسپتال میں شروع کی جانے والی آئی بی پی اس حوالے سے بھی قابل تعریف ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کے پیچھے اصل محرک جہاں ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر نیک داد آفریدی ہیں وہاں ہسپتال کے موجودہ ایم ڈی اور معروف سرجن پروفیسر ڈاکٹر روح المقیم اور انکی ٹیم خاص کر آئی بی پی کے کوآرڈینیٹر فرہاد خان کا رول بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے سینئر سپیشلسٹ ڈاکٹرزکی فیس نہایت معقول رکھنے کے علاوہ لیبارٹری اور پروسیجر چارجز بھی نہایت مناسب رکھے ہیں

ہسپتال میں ایڈمشن، پرائیویٹ رومز اور بعض دیگر سہولیات بھی متوازن قیمت پر فراہم کی جارہی ہیں واضح رہے کے ٹی ایچ کی آئی بی پی میں معائنے کی زیادہ سے زیادہ فیس چھ سو روپے مقرر کی گئی ہے جواسی سطح کی پرائیویٹ کلینکس کی فیس سے آدھی ہے۔اسی طرح لیبارٹریز ،پرائیویٹ رومز اور آپریشنو ں کے چارجز بھی پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس کی نسبت انتہائی کم ہیں گوکہ خیبر ہسپتال کی آئی بی پی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے تک شام کے اوقات میں جب یہی او پی ڈی سنسان پڑی رہتی تھی اب اس میں کافی چہل پہل نظر آتی ہے

یہاں آئی بی پی کے نفاذ کا تجربہ اس حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سارے عمل پر نہ تو حکومت اور ہسپتال کی انتظامیہ کو اور نہ ہی ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو کچھ اضافی اخراجات یا سرمایہ کاری کرنی پڑی ہے۔آئی بی پی کا ایک دوسرا مثبت پہلو ہسپتال کے انفراسٹرکچر کا بغیر کسی اضافی اخراجات کے استعمال ہے۔صبح سے دوپہر تک استعمال کے بعد اگلے سترہ اٹھارہ گھنٹے تک اوپی ڈی اور اس سے متعلقہ سہولیات کا پہلے کوئی مصرف نہیں تھا اب سہ پہر سے رات گئے تک آئی بی پی کی صورت میں یہاں جوپریکٹس شروع کی گئی ہے

اس سے عام مریضوں کو جہاں ڈبگری گارڈن کے دھکوں سے نجات مل گئی ہے وہاں انہیں ایک ہی چھت تلے معائنے تشخیص،پروسیجرزاور داخلے کی جملہ سہولیات بھی دستیاب ہوگئی ہیں۔کے ٹی ایچ میں آئی بی پی کی صورت میں پبلک اور پرائیویٹ پریکٹس کے اشتراک کا جو کامیاب تجربہ کیا گیاہے وہ اسی طرح کے دیگر اداروں کے لئے بھی ایک اچھا رول ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔ البتہ یہاں یہ احتیاط لازم ہے کہ یہ سب کچھ غریب مریضوں کو صبح فراہم کی جانے والی مفت سہولیات کی قیمت پرہرگز نہیں ہونا چاہئے۔