Home / کالم / پھر وہی دہشت گردی

پھر وہی دہشت گردی

خدا جانے ہم کن گناہوں میں پکڑے ہوئے ہیں کہ کوئی دن جاتا ہو گا کہ ہمارے ہاں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہ ہو رہا ہو یا دہشت گردوں کو حملے سے پہلے ہی پکڑا نہ جارہا ہو۔ یہ بھی اچھی بات ہے کہ ہم ضرب عضب کے بعد یا اس کے زور میں کمی کے بعد سو نہیں گئے بلکہ ہمارے قانون نافذ کرنیوالے ادارے ابھی تک ہوشیار ہیں اسی لئے بہت سے لوگ پکڑے جا رہے ہیں جن میں دہشت گرد بھی ہیں خود کش دھماکے کرنے والے بھی ہیں اور انکے سہولت کار بھی ہیں ابھی لاہور سے دھماکہ کرنے والے دہشت گرد کے ساتھی اور سہولت کا ر پکڑے گئے ہیں

وہ کسی اور دھماکے کی تیاری کر رہے تھے اسی طرح مردان میں جو دہشت گرد اور خود کش بمبار ٹریننگ کرنیوالے فوجیوں کو نشانہ بنانے والے تھے ان تک پہنچنے سے قبل ہی ختم کر دےئے گئے اگر ہماری فورسز آرام کر رہی ہوتیں تو ایک بڑی تباہی ہو سکتی تھی پہلے تویہی کوشش رہی ہے کہ دہشت گردوں ہی کو پہنچا جائے مگر اب جو فیصلہ ان کے سہولت کاروں تک پہنچنے کا ہوا ہے تو اس میں کافی کامیابیاں مل رہی ہیں اور دہشت گردوں کو نشانے پر پہنچنے سے قبل ہی ختم کیا جا رہے

اس سے قبل بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے مگر کیا کیا جائے کہ ہمارا میڈیا کچھ ایسا کردار ادا کر رہا ہے کہ ایک طرف تو عام عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا جا رہا ہے اور دوسرے خبر کی وقت سے پہلے اطلاع یا سب سے پہلے خبر کے افشاء کی دوڑ نے بہت سی کاروائیوں کو ضائع کیا ہے اگر دہشت گردوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کیخلاف کاروائی کیلئے فورسز آ رہی ہیں تو کیا وہ وہیں بیٹھ کر انتظار کریں گے ؟

ظاہر ہے کہ وہ اپنے ٹارگٹ کو تبدیل کریں گے یا وقت کو آگے پیچھے کر لیں گے اسی لئے ہم اس بات کیخلاف ہمیشہ لکھتے رہے ہیں کہ کسی بھی میڈیا پر سن کو کسی بھی ایکشن کی پہلے سے اطلاع نہیں ملنی چاہئے اور خود میڈیا کے لوگوں کا بھی فرض ہے کہ کاروائی سے قبل خبر کو لیک نہ کریں مگر کیا کیا جائیکے بے تحاشا نجی ٹی وی چینلوں اور نجی ریڈیو چینلوں میں دوڑ لگی ہے اور وہ صرف خبر لیک کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں یہ نہ جانتے ہوئے کہ ان کی خبر کی پہلے اطلاع کیا کچھ بگاڑ سکتی ہے ہم اس کے بھی خلاف ہیں کہ میڈیا پر کوئی پابندی لگائی جائے مگر یہ بھی تو ضروری ہے کہ اس کے لئے ایک ضابطہ اخلاق مرتب کر دیا جائے اور اس میں اس بات کو شامل کیا جائے کہ ایسی خبروں کی اشاعت اور وقت سے پہلے لیکج پر پابندی لگائی جائے

یہ کام اگر حکومت کی جانب سے ہو تو اعتراض اٹھ سکتے ہیں مگر ہماری یونینز کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور میڈیا کیلئے از خود ضاابطہ اخلاق مرتب کر لیاجانا چاہئے دیکھا یہ گیا ہے کہ سب سے پہلے کی دوڑ میں بہت سے ٹی وی چینلز اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ اس خبر کے نشر کرنے میں کیا نقصان ہو سکتا ہے بس نمائندے نے خبر پہنچائی تو وہ فوراً بغیر سوچے سمجھے آن ائیر کر دی جاتی ہے حالانکہ کوئی بھی بات آن ائر کرنے سے قبل مدیروں کاپینل اس کا جائزہ لے اور اس کے بعد خبر نشر کی جائے اگر خبر میں ملکی اداروں کی کارکردگی پر اثر پڑتا ہو تو اس کو کسی بھی صورت نشتر نہ کیا جائے

یہ مدیروں کے پینل کی اولیں ترجیح ہونی چاہئے اسی طرح اگر کوئی آپریشن ہو رہا ہو تو اس میں میڈیا کو دور ہی رہنا چاہئے اور جب آپریشن ختم ہو جائے تو اس کے بعد خبر کو اپنے چینل کو ارسال کرنا چاہئے ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ پولیس یا رینجرز ایک آپریشن کر رہے ہیں اور ہمارے ٹی وی چینل اسے براہ راست دکھا رہے ہیں ظاہر ہے کہ وہ دہشت گردوں کی پوزیشن تو بتانے سے رہے۔

وہ فورسز کی پوزیشن نشر کر رہے ہوتے ہیں اس کا فائدہ ہمیشہ دہشت گردوں کو پہنچتا ہے وہ ایک تو ٹارگٹ کو ٹھیک نشانہ بنا سکتے ہیں اور دوسرے وہ فورسزکی کمزور پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاگ سکتے ہیں بہت سے کیسزمیں جو دہشت گرد بھاگ جاتے ہیں تو وہ ٹی چینلز ہی کی مدد سے بھاگتے ہیں ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں سمت کو نفری کم ہے یا موجود ہی نہیں ہے اس لئے وہ ا س سمت سے بھاگ جاتے ہیں اور پھر سے خود کو منظم کر کے کوئی دوسر ٹارگٹ چن لیتے ہیں کراچی کے بہت سے آپریشنوں میں گینگ کے لوگ یا دہشت گرد ان ہی ٹی وی چینلوں کی مدد سے فورسز سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں اس لئے ان باتوں کا ہمارے رپورٹروں کو خیال رکھنا چاہئے۔