بریکنگ نیوز
Home / کالم / حادثات اور ذمہ داریاں

حادثات اور ذمہ داریاں

ایک وقت تھا کی جب ہم ٹی وی آن کرتے تو سب سے پہلے ہمیں ’’اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں‘‘ کی آواز سنائی دیتی تھی۔یہ ہمارا پاکستان ٹیلیویژن تھا۔ پھر آہستہ آہستہ نجی ٹیلی ویژن میدان میں آنے شروع ہو گئے۔ ان میں بھی ابتدا میں اسلامی شعائر کو مد نظر رکھا جاتا تھا مگر کچھ ہی عرصہ بعد ان چینلوں میں آزادی کی دوڑ شروع ہو گئی۔ اس میں بھی جب کوئی ایسا سین آتا کہ جو ہماری تہذیب کے خلاف ہوتا تو سکرین پر پردہ پڑ جاتا اور ناظرین کو وہ مناظر نہ دکھائے جاتے جو لوگ اپنے گھروں میں اپنی ماں بہن سے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔پھر ہمارے لبرل معاشرے نے اس کو بھی مسترد کر دیا بلکہ مسترد کروا دیا گیا کہ یہ آزادئی اظہار پر قدغن ہے اس لئے آپ جو کچھ بھی دکھانا چاہیں اس پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتا۔اس میں جان بوجھ کر آئین کی دفعہ 19 کی کھل کر خلاف ورزیاں کی گئیں۔جس میں کہا گیا ہے کہ آپ اسلامی شعائر کے خلاف اور نظریہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کا مواد نہ چھاپ سکتے ہیں اور نہ دکھا سکتے ہیں۔مگر اس کی طرف نہ کسی حکومت کی نظر گئی اور نہ عوام میں سے کسی نے نشان دہی کی۔ اگر کسی نے کچھ احتجاج کیا بھی تو اسے آزادی اظہار والوں نے کچل کر رکھ دیا۔ اسی طرح حادثات کی لایؤ کوریج پر بھی پابندی لگانی پڑی۔ اب حادثات کی خبر تو ہوتی ہے مگر اس کی لائیوکوریج سے منع کر دیا گیا ہے۔ پھر بھی کچھ نجی چینلوں سے اسکی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں سوائے حادثات اور ٹارگٹ کلنگ وغیرہ کے کوئی دوسری بات ہوتی ہی نہیں ہے۔

اب تو ٹی وی کا بٹن آن ہوتے ہی سب سے پہلے کسی حادثے کی رپورٹ نظر آتی ہے۔ کہیں کوئی ٹرک کسی سکول وین سے ٹکرا رہا ہوتا ہے اور معصوم بچوں کی لاشیں نظر آتی ہیں ‘کہیں استانیوں کی موت کی خبریں ہوتی ہیں‘ کہیں کوئی ڈمپر دسیوں کاروں رکشوں اور ویگنوں کو کچل کر جا رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی گاڑی ریلوے کراسنگ پر ریل کی زد میں آتی دکھائی یا سنائی دیتی ہے۔ اور سڑکوں پر ٹریفک جام تو اب اتنی عام خبر ہو گئی ہے کہ اب اسے دیکھے بغیر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کراچی کی کسی مصروف شاہراہ پر کار سواروں کا کیا حشر ہو رہا ہوگا کہ جنہوں نے کاریں اور دیگر سواریاں اس لئے لی تھیں کہ کام پر اور واپس گھر پہنچنے کیلئے بسوں اور ویگنوں میں دھکے نہ کھانے پڑیں مگر اب بے چارے سڑک کے بیچوں بیچ پھنسے اُس وقت کو کو س رہے ہیں کہ جب انہوں نے کار لینے کی غلطی کی تھی۔ ہر شہر او رشہر کی اپروچ کی سڑکیں دو رویہ کر دی گئی ہیں اور نہ صرف دو رویہ ہیں بلکہ ان کو تین تین چار چار لین بھی کر دیا گیا مگر اس کے باوجود بھی ٹریفک کا حال پتلا ہی ہے ۔ اور تو اور ہم چھوٹے سے شہر کے باسی ہیں مگر جب بھی ہم شہر سے باہر جاتے یں واپسی پر ہمیں تقریباً دو یا تین کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کیلئے کبھی کبھی تو تین تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔یہ وہ سڑک ہے کہ جہاں کبھی ایک وقت میں دو گاڑیاں بھی مشکل سے کراس کر سکتی تھیں مگر آج چار چار گاڑیاں بیک وقت ساتھ مل کر گزر سکتی ہیں ۔جب ہم نے کبھی ٹریفک جام کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ مگر آج کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ ٹریفک جام نہ ہوتی ہو۔

بڑے شہروں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔مسئلہ بالکل سادہ سا ہے کہ آپ تھوڑا سا صبر کا مظاہرہ کریں توسب کچھ اچھا ہو جائے گا۔ مگر ہوتا یوں ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی جلد از جلد منزل پر پہنچنے کی دوڑ میں ہے تاہم اس طرح وہ خود بھی وقت پر نہیں پہنچ پاتا اور دوسروں کا راستہ بھی کھوٹا کرتا ہے۔اور جو ریلوے کراسنگ پر حادثات پیش آتے ہیں وہ بھی اسی تیزی اور بے صبری کا شاخسانہ ہوتے ہیں۔ ریلوے لائنوں کی لمبائی اور دونوں جانب سے کراسنگ کو دیکھا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان سب کراسنگ پرگیٹ لگائے جائیں اور ان پر چوکیدار رکھے جائیں ۔اس لئے کہ بعض کراسنگ تو ویرانوں میں ہیں اسی لئے ان کراسنگ پر لکھا جاتا ہے کہ یہاں کوئی چوکیدار نہیں ہے اس لئے یہاں سے کراس کرتے وقت احتیاط کریں۔مگر ہماری تیزی ہمیشہ ہمارے لئے حادثات اور قیمتی جانوں کا ضیاع بنتی ہے۔اور حادثے کے بعد ہم ریلوے کے محکمے کو کوس رہے ہوتے ہیں مگر کوئی بھی اپنی غلطی کو تسلیم نہیں کرتا۔ہمار ے میڈیا کو بھی بجائے محکموں کو کوسنے کے عوام کو سکھانا چاہئے کہ ہمیں سڑکوں اور ریلوے کراسنگ پر کس طرح احتیا ط کرنی چاہئے اور سڑک پر چلتے ہوئے سڑک کے نشانات کا احترام کرنا چاہئے‘ اسی طرح ہم حادثات سے بھی بچ سکتے ہیں اور ٹریفک جام سے بھی بچنا ممکن ہو گا۔