بریکنگ نیوز
Home / کالم / مادری زبانیں اور تنوع!

مادری زبانیں اور تنوع!


مادری زبانوں کا عالمی دن ایک ایسے وقت میں آیا‘ جب پاکستان میں ’مردم شماری‘ کا عمل جاری ہے جس میں ایک سوال چند مادری زبانوں سے متعلق بھی پوچھا جا رہا ہے لیکن آخر کیا مجبوری تھی کہ پاکستان میں بولی جانے والی ہر ایک مادری زبان کو سروے میں شامل نہیں کیا گیا؟ کیا ہم نے خود سے طے کر لیا ہے کہ کچھ زبانیں بڑی اور باقی چھوٹی یا معمولی ہیں؟ اگر ہم پاکستان کے سیاسی و سماجی حالات کو دیکھیں تو کسی بھی ملک یاخطے میں بولی جانے والی زبان کی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ شناخت کا ذریعہ بن کر کسی ایک پوری قوم کے بارے قوی تاثر پیدا کرتی ہے اور پاکستان جیسے کثیر القومیتی ملک میں یہ کلیہ تسلیم کرنے میں ناکامی کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں سو بھلے ہی اس کام میں پانچ سال لگے ہوں مگر خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے علاقائی زبانوں کی ترویج و ترقی کے لئے ’’پروموشن آف ریجنل لینگویجز اتھارٹی ایکٹ 2012ء‘‘ کا نفاذ تاخیر کے باوجود بہتر اقدام ہے۔ ماہ اپریل میں شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کی ابتداء سے سرکاری پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی اداروں میں ان علاقوں کی مقامی زبانیں بھی لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جائیں گی۔ ان زبانوں میں پشتو‘ ہندکو‘ سرائیکی اور کھوار شامل ہیں جبکہ کوہستانی‘ جو خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پانچ علاقائی زبانوں کی فہرست میں شامل ہے‘ نصاب کا حصہ نہیں ہوگی کیونکہ اس کے بولنے والوں کے درمیان اس کے کسی ایک متفق لہجے پر اختلاف ہے لیکن اگر حکومت ہی اِس اختلاف کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لے گی تو پھر کون آئے گا۔

جو اِس بات کا فیصلہ کرے یا کسی متفقہ لہجے پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں دلچسپی لے؟
ہمارے ملک کی تاریخ اس بات کی واضح عکاس ہے کہ کس طرح مادری زبان آپ کی سیاسی قوت کی موجودگی یا عدم موجودگی کا فیصلہ کرتی ہے۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد اُس وقت مرکزی حکومت کی جانب سے مشرقی پاکستان میں بھی اُردو کو قومی زبان قرار دینے کے فیصلے نے بنگالی قوم پرست تحریک کی بنیاد ڈالی۔ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں سندھ میں سندھی اور اُردو بولنے والوں کے درمیان فسادات ہوئے۔ آج بلوچستان میں سرکاری سکولوں میں نہ بلوچی پڑھائی جاتی ہے اور نہ ہی براہوی‘ یہاں تک کہ اختیاری مضمون کے طور پر بھی نہیں لہٰذا یہ بات قابلِ غور ہے کہ تربت یونیورسٹی‘ جو دراندازی سے سب سے زیادہ متاثر علاقے میں واقع ہے‘ وہاں طلباء کسی بھی مضمون سے زیادہ بلوچی زبان بحیثیت مضمون کا انتخاب کرتے ہیں اگر ہم واضح سیاسی حقائق کو ایک طرف رکھتے ہوئے بھی دیکھیں‘ تب بھی مقامی زبانوں‘ خاص طور پر چھوٹی اور پسماندہ برادریوں کی زبانوں کو‘ ان کا جائز حق دے کر ہم ثقافتی رنگارنگی کو محفوظ بناتے ہیں۔ زبان لوگوں کی اجتماعی یادداشت کا خزانہ ہوتی ہے‘ ایک ایسی وراثت جو ایک لسانی گروہ کو دوسرے سے مختلف بناتی ہے۔

وفاقی اور صوبائی سطحوں پر حکام اس معاملے میں اپنے فرائض سے غافل رہے ہیں۔ سال دوہزار چودہ میں اسی مضمون پر ایک پارلیمانی دستاویز میں اس ملک میں بولی جانے والی بہتر زبانیں گنوائی گئی تھیں‘ جن میں سے دس یا تو ’’مشکلات کا شکار ہیں‘‘ یا ’’خاتمے کے قریب ہیں۔‘‘ اس دوران اس سال کے اوائل میں پشاور میں ایک کانفرنس کے دوران یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ دیگر درجنوں زبانوں کے بولنے والے بھی تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان زبانوں میں ہندکو بھی شامل ہے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت کا حالیہ اقدام بروقت معلوم ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے تمام علاقائی زبانوں کو پاکستان کی قومی زبانوں کا درجہ دینا نہ صرف ایک مناسب اقدام ہوگا بلکہ دور اندیش بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مادری زبان کی اہمیت مسلمہ ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کو رابطے کا اہم ذریعہ قرار دیاجارہا ہے، کیونکہ ہر قوم اپنی مادری زبان میں جو اظہار کرسکتا ہے وہ کسی اور زبان میں ممکن نہیں، ثقافتی سرگرمیوں میں بھی مادری زبان کا اہم کردار ہوتا ہے اور کسی بھی علاقے میں بولی جانیوالی زبان وہاں لوگوں کے مزاج اور عادات واطوار کی عکاسی کرتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں مادری زبان کو ابتدائی درجے پر سکول میں رائج کیاجائے۔(بشکریہ: ڈان۔ تحریر: عباس ناصر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)