بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / یوم پاکستان گزر گیا لیکن…

یوم پاکستان گزر گیا لیکن…


23مارچ (یومِ قرارداد پاکستان)کو پروقار انداز میں منایا گیاپاکستان کی دفاعی صلاحیت کے اظہار کی حامل شاندار پریڈ کا انعقاد، خصوصی تقاریب میں خوبصورت الفاظ سے سجی تقاریر‘ مشاعرے اور مقابلے اس دن کا خاصہ رہے، موقع کی مناسبت سے ہونے والی سرکاری چھٹی کو زیادہ تر تھکاوٹیں اتارنے یا پھر ضروری ذاتی امور کی انجام دہی کیلئے استعمال میں لایا گیااورزندگیاں روزمرہ کے معمولات کی جانب لوٹ گئیں۔

قرارداد پاکستان کے نتیجے میں آنکھوں میں جاگنے والے خوابوں کا کیا بنا؟۔24مارچ 1940ء کو ابھرنے والے روشن جذبے‘سنہری توقعات اور درخشاں احساسات کن نتائج سے دوچار ہوئے ‘لاکھوں زندگیوں‘ لاتعداد عزتوں ‘بے شمار جائیدادوں اور بے حساب مال ودولت کی قربانیاں کیا رنگ لائیں ؟قیامِ پاکستان کو69برس سے زائد کا عرصہ مکمل ہونے کے بعد بھی یہ وطن ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست کیوں نہیں بنا؟اس آزاد ریاست کا نظام دنیا بھر کیلئے قابل تقلید حیثیت کیوں نہ اختیار کر سکا؟

یہ مملکت سیاسی ، جمہوری اور دیگر میدانوں میں اپنا لوہا کیوں نہیں منوا سکی؟ان تمام سوالات کے جوابوں تک پہنچنے اور ان سوالوں سے متعلق بگڑے معاملات کو تیز تر انداز میں سیدھے راستے پر ڈالنے کا احساس تاحال ایک قومی جذبے کی حیثیت اختیار نہیں کر سکا 23اور24مارچ 1940ء کی درمیانی رات منعقدہ اس تاریخی اور انقلابی اجتماع میں شرکت کرنیوالے یااس سے اگلے روز اس اجتماع کی روداد سے آگاہی حاصل کرنیوالے کئی نفوس آج بھی حیات ہونگے یہ لوگ اس رات کی تاریکیوں میں بکھرنے والی روشنیوں کی چکاچوند آج بھی اپنی آنکھوں میں محسوس کرتے ہونگے کیا سماں رہا ہوگا

اس تاریخی جلسہ عام کے شرکاء نے قیام پاکستان کیلئے قرارداد پاکستان کی شکل میں راستے کا تعین ہوتے ہی اپنی آنکھوں میں کیسے کیسے خواب سجائیں ہونگے۔ اپنے ذہنوں میں اس مملکت کے کیسے کیسے نقشے تراشے ہونگے جسکا حصول انہیں چندقدم دور لگ رہاتھا اپنے دلوں میں اس ماحول کے حوالے سے کیسے کیسے جذبات کو جگہ دی ہوگی جو انکے خیال میں انہیں اپنے آزاد وطن میں میسر آناتھا 24 مارچ 1940ء کی صبح مسلمانان برصغیر کیلئے سنہری توقعات اور روشن امیدوں سے بھرپور صبح رہی ہوگی‘ انہیں قرارداد لاہور کی شکل میں وہ راستہ جو مل گیا تھا جس پر چل کر انہیں اپنے خوابوں کی جنت (پاکستان) پہنچنا تھا۔

جلسے کے شرکاء اور جلسے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی وساطت سے جب قرارداد پاکستان اور جلسے کی کاروائی کی تفصیلات برصغیر کے کونے کونے میں مسلمانوں تک پہنچی ہونگی تو مسلمان آبادیوں کے ہر گھرہرمحلے اور ہر شہر میں کس کس انداز سے جشن منائے گئے ہونگے تاریخ کی کتابوں میں ان توقعات ‘امیدوں ‘جذبات و احساسات کااحوال بھی ملتاہے اور اس انداز کا ذکر بھی موجود ہے

جس انداز سے برصغیر کے مسلمانوں نے قرارداد پاکستان کی منظوری کا جشن منایاتھاانہی توقعات انہی امیدوں انہی احساسات اور انہی جذبات نے مسلمانان ہندکے دلوں اور ذہنوں میں اس جدوجہد کی شمع روشن کی تھی جس جدوجہد کے نتیجے میں سا ت سال کے قلیل عرصے میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک آزاد ریاست کا قیام ممکن ہوا وہ آزاد ریاست جس میں مسلمانوں کو اپنے مذہب‘ تشخص‘ ثقافت اور اقدار کے مطابق مکمل آزادی کیساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملنے والاتھا

وہ آزاد ریاست جس کے نظام کو مسلمانان عالم کیلئے زندہ و جاوید قابل تقلید مثال بننا تھا 24مارچ 1940ء کو برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں میں بیدار ہونے والی توقعات کی تکمیل ہوجاتی اور ان لاکھوں زندگیوں‘ لاتعداد عزتوں‘ بے شمار جائیدادوں اور بے حساب مال ودولت کے نذرانوں کی لاج رکھ لی جاتی جوتحریک پاکستان کے دوران قیام پاکستان کیلئے پیش کئے گئے تو آج پاکستان ایسا نہ ہوتابڑھاپے کا بوجھ اٹھائے زندگی کے آخری دور سے گزرنے والے وہ لوگ جنہوں نے قیام پاکستان کے وقت پھیلنے والی چکا چوند اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی آج بھی اسی روشنی سے امیدکی شمعیں جلائے قرارداد پاکستان کے مقاصد کی حقیقی تکمیل کے منتظر ہیں ان افرادکا ہونا یا نہ ہوناتو شاید نئی نسل کیلئے کوئی معنی نہ رکھتا ہو لیکن وہ روشنی ،وہ امید جو ان بزرگوں نے اپنے اندر سنبھال رکھی ہے نہات قیمتی ہے۔