بریکنگ نیوز
Home / کالم / خیرسگالی‘مگر یکطرفہ کیوں؟

خیرسگالی‘مگر یکطرفہ کیوں؟


وزیراعظم صاحب نے پاک افغان سرحد کھولنے کاحکم صادر کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ اقدام وہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت کر رہے ہیں سوال مگر یہ ہے کہ اس قسم کے کئی خیر سگالی کے جذبے پر مبنی اقدامات پاکستان نے ماضی میں بھی کئے لیکن ان کا افغانستان نے ہمیں کوئی صلہ نہ دیا یہ ون وے ٹریفک آخر کب تک چلتی رہے گی ؟ افغانستان آخرکب تک بھارت کی کاسہ لیسی کرکے اس کے اشارے پر پاکستان کی بیخوں میں پانی دیتا رہے گا؟ یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ ہر مرتبہ ہم ہی خیر سگالی کے مظاہرے کرتے رہیں اور اس کے جواب میں افغانستان چالاکیاں کرتا رہے؟

کیا یہ حقیقت نہیں کہ 1947ء سے لیکر اب تک تقریباً ہر دور میں کابل نے ہمارے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیا کب تک ہم افغانستان کا معانذانہ رویہ برداشت کرتے رہیں گے بعض لوگ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ وزیراعظم صاحب کا تعلق بزنس کمیونٹی سے ہے یہ اقدام انہوں نے ملک کے تجارتی حلقوں کے دباؤ میں یا انہیں خوش کرنے کیلئے اٹھایا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تجارت ملکی بقاء اور سا لمیت سے زیادہ اہم ہے ؟ حکومت نے تو چند ہی روز پہلے یہ کہا تھا کہ بارڈر پر بندش جاری رہے گی تاوقتیکہ افغانستان بارڈر مینجمنٹ پر پاکستان کے موقف کی تائید نہیں کرتا یہ آناً فاناً لندن میں برطانیہ ‘ پاکستان اور افغانستان کے امور خارجہ سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کا جو ہنگامی اجلاس ہوا تھا کہ جس کے بعد وزیراعظم کا مندرجہ بالا فیصلہ آیا اس اجلاس کا آخر ایجنڈاکیا تھا ؟

وہ کس کے اشارے پر بلایا گیا؟ اندرون خانہ کیا بات ہے ؟ کیا وزیراعظم نے بارڈر پر بندش ختم کرنے سے پہلے افغانستان سے تحریری گارنٹی لی ہے کہ وہ پاکستان افغانستان سرحد پر جگہ جگہ باڑ لگانے میں پاکستان کی معاونت کرے گا اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پید کرنے کی کوشش نہیں کرے گا ؟ اگر اس قسم کی کسی گارنٹی کے بغیر بارڈر کو کھول دیا گیا ہے تو پھر یقیناًوزیراعظم سے بھاری بھول ہو رہی ہے اور اس کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑے گا آج نہیں تو کل!وزیراعظم کو فوراً سے پیشتر پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر اس میں بارڈر کے متعلق ایک پالیسی بیان دینا چاہئے پاک افغان بارڈر ایک لمبی پٹی ہے کہ جس میں دو سو سے زائد ایسے مقامات ہیں کہ جہاں سے پاکستانی افغانستان میں اور افغانی پاکستان میں با آسانی پیدل یا گھوڑوں پر یا جیپوں میں بیٹھ کر آ جا سکتے ہیں۔

ان مقامات کا ہماری افواج کو بخوبی علم ہے کیا حکومت ان مقامات پرباڑ لگا کر یہاں پکٹیں قائم کر رہی ہے تاکہ افواج پاکستان کے جوانوں کی ان میں تعیناتی کی جائے اور وہ بارڈر پر ہر قسم کی نقل و حمل پر کڑی نظر رکھ سکیں؟ افغانی بے شک ہمارے ہاں آئیں کہ وہ ہمارے ہمسائے ہیں لیکن ان کا پاکستان میں داخلہ ایک منظم سسٹم کے تحت ہو ویزہ وغیرہ کے بغیر دنیا کا کوئی ملک غیر ملکیوں کو اپنے ہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا خدا لگتی یہ ہے کہ جہاں تک افغانستان کے حکمرانوں کی پالیسی کا تعلق ہے ۔

اس ملک کا عام آدمی اسے شک کی نظر سے دیکھتا ہے اسکی اس شک کو ختم کرنے کیلئے افغانستان کے حکمرانوں کو بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے سے اجتناب کرنا ہو گا تب کہیں جا کر اسکا افغانی حکمرانوں پر کھویا ہوا اعتماد بحال ہو گاہمیں افغانستان اور بھارت کے دو طرفہ تعلقات سے کوئی چڑ نہیں لیکن اگر بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کریگا تو اسے کوئی پاکستانی بھی برداشت نہیں کرے گا۔