بریکنگ نیوز
Home / کالم / جرائم اور انسداد جرائم کی کاوشیں!

جرائم اور انسداد جرائم کی کاوشیں!


قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان ہے پاکستان میں مجرمانہ روش شدید سے شدید تر ہو چکی ہے۔ کوئی بھی اس دور کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کی دغا بازی نہیں بھول سکتا جنہوں نے ان نڈرسپاہیوں کو ان وحشت ناک عسکریت پسندوں کے سامنے تنہا چھوڑ دیاجنہیں سیاسی طاقت کے بھوکوں کی پشت پناہی حاصل تھی وہ بلاروک ٹوک سپاہیوں کو کچلتے رہے یہ بدترین داستان کراچی پولیس کی ادارہ جاتی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پولیس میں اصلاحات کیلئے سیاسی ارادے کی کمی کا تذکرہ اکثر کیا جاتا ہے اگر ہم سندھ پولیس کی بات کریں توسال دوہزار گیارہ میں پیپلزپارٹی حکومت نے سال دوہزار میں نافذ ہونیوالے جدید پولیس قانون کو منسوخ کر دیا اور اس کی جگہ پولیسنگ کے کالونیل کانسٹیبلری ماڈل کو واپس لے آئی یہ اقدام پولیس اصلاحات کے سلسلے کو روکنے کا ایک بدترین اقدام تھا بلوچستان بھی جلد ہی اسی راہ پر گامزن ہوتا گیا اور اس قانون کو متعارف کروا دیا جو 1861ء کے پولیس ایکٹ کی کاربن کاپی تھی جبکہ ایگزیکٹو مجسٹریسی کو دوبارہ متعارف کرنے جیسی بے پرواہ کوشش کو بہرحال بلوچستان ہائی کورٹ نے ناکام بنا دیا تھا۔ ارسطو کے لفظوں میں کہیں تو‘ قانون ایک اصول کی صورت ہوتا ہے اور ایک بہتر قانون کا لازمی طور پر مطلب ایک بہتر اصول ہے اس تناظر میں دیکھیں تو پولیس آرڈر 2002ء ایک ایسا قانون ہے جو موجودہ وقت کی نوعیت کے اعتبار سے موزوں ہے یہ پانچ بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔

جسکے تحت پولیس ’کو آئین‘ قانون اور لوگوں کی جمہوری جذبات کے مطابق فرائض اور اپنی ڈیوٹی سر انجام دینی ضروری ہے۔‘‘سب سے پہلا اور اہم مقصد پولیس کو ادارتی تحفظ دیا جائے تاکہ پولیس پر سیاسی یا بیوروکریسی کے تسلط سے زیادہ جمہوری کنٹرول کو یقینی بنایا جاسکے‘ یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ سے غیر جمہوری روایات کے نتیجے میں پولیس سروسز سیاسی اور جانبداری کا شکار ہو چکی ہیں جدید قانون کی دوسری خصوصیت وفاقی اور صوبائی سطح پر آزادانہ پولیس شکایتی خود مختیار اداروں کو قائم کر کے پولیس کو بڑی حد تک احتساب کے تابع ادارہ بنانا ہے۔ اس بیرونی نگران مکینزم کا مقصد پولیس کے غیرجانبدارانہ احتساب کو ممکن بنانا ہے‘ جو کرپشن‘ اختیارات کا غلط استعمال‘ تشدد‘ ناجائز گرفتاریوں‘ نامناسب تحقیقات اور شہریوں کی ضروریات کو حساسیت سے نہ لینے کے باعث بدنام ہو چکی ہے تیسری خصوصیت یہ ہے کہ پولیس محکموں کو آپریشنل اور انتظامی خودمختاری دی جائے تاکہ پولیس کے کام میں حد سے زیادہ مداخلت اور غیر متعلقہ اثر و رسوخ صوبائی پولیس سربراہ کے اختیارات کو حکومت کے سیکرٹری کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے ختم کئے جا سکیں‘ مطلب یہ کہ صوبائی پولیس سربراہ کو محکمہ کے سربراہ کے طور پر انتظامی اور مالی طور پر خود مختاری حاصل ہو۔ علاوہ ازیں‘ قانون سینئر پولیس افسران کی مدت ملازمت کو صوبائی‘ علاقائی‘ شہری اور ضلعی سطح پر تحفظ فراہم کرے۔ سزا سے محفوظ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے وزرائے اعلیٰ کی جانب سے انتظامی استحکام اور خودمختاری کو یقینی بنانے والی اس اہم قانونی شرط کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے۔ چوتھی بنیادی خصوصیت منصفانہ اور غیر جانبدار تحقیقات کے لئے پولیس کو قانون کا آلۂ کار اور عدلیہ کے سامنے تابع تسلیم کرتی ہے۔

تحقیقاتی مراحل میں بڑے پیمانے پر پیشہ ورانہ صلاحیت کے استعمال کو یقینی بنانے اور عدالت میں سے مجرمان کی سزایابی کیلئے سائنسی طریقہ کاروں پر انحصار کے لئے قانون میں مہارت کا جدید نظریہ متعارف کیا گیا ہے۔ اس طرح ان خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں منطقی نتائج حاصل کر پائیں گی‘ جو انسانی حقوق کی بجاآواری اور حسب قانون کے تحت انصاف کے حصول کی خاطر سرکاری وکیلوں کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتی ہیں2002ء کے پولیس قانون کی آخری خصوصیت یہ ہے کہ پولیس کو ریاست کے جابرانہ ہتھیار کا تاثر دیئے جانے کے بجائے کمیونٹی خدمات انجام دینے والا محکمہ بنانیکی ضرورت ہے۔ پولیس عوامی خدمت کا محکمہ ہے اور صرف آئین اور قانون کے ہی ماتحت ہے۔ ایک طویل عرصے سے ہماری پولیس آئرش کانسٹیبلری کے چارلس نیپئر کے فوجی ماڈل پر عمل پیرا ہے اور عوام کی جمہوری خواہشات کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔ مذکورہ پانچ خصوصیات پولیس آرڈر 2002 کے بنیادی ڈھانچے کو تشکیل دیتی ہیں افسوس کی بات ہے کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں اس قانون کو نافذ کرنیکی کبھی کوشش ہی نہیں کی 2014 میں اعلان کردہ قومی داخلی سکیورٹی پالیسی پر نیشنل پولیس بیورو کے ذریعے نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن یا آزاد پولیس شکایتی خود مختار اداروں کو قائم کئے بغیر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: طارق کھوسہ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)