بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / مردم شماری ‘ تحفظات اور اعتراضات

مردم شماری ‘ تحفظات اور اعتراضات


پاکستان میں جاری نویں مردم شماری کے پہلے مرحلے کو شروع ہوئے ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں کہ اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات اور تحفظات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں بعض سیاسی جماتوں کے اعتراضات اور خدشات کے باوجودجب مردم شماری کا سلسلہ شروع کیا گیا تو عمومی تاثر یہ تھا کہ تحفظات اور اعتراضات کی یہ گرد مردم شماری کے آغاز پر خود ہی بیٹھ جائے گی اور جلد ہی پوری قوم یکسوئی کیساتھ نہ صرف اس اہم ترین ریاستی عمل میں مصروف ہو کر اس کا حصہ بن جائے گی بلکہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان خدشات اور اعتراضات کے ازالے میں بھی سنجیدہ کردارا دا کرنے پر توجہ دیں گے جن کا اظہار مختلف حلقوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے لیکن تاحال نہ تو اعتراضات اور تنقید کا یہ سلسلہ تھم سکا اور نہ ہی متعلقہ اداروں کی جانب سے ان اعتراضات کے ازالے کیلئے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا ہے یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم من حیث القوم معاملات کو جوڑنے اور بگڑے ہوئے امور کو مزید بگاڑ سے بچانے اور اصلاح احوال کی کوششیں کم ہی کرتے ہیں کیا یہ مقام افسوس نہیں ہے کہ جو مردم شماری آئینی لحاظ سے ہمارے ہاں 2008میں ہونی چاہئے تھی وہ نوسال کی تاخیر سے اب 2017 میں ہو رہی ہے اور اب جب خدا خدا کر کے یہ عمل بخیر وخوبی شروع ہو چکا ہے تو بجائے یہ کہ ہم سب اس عمل کی کامیاب تکمیل اور صحیح نتائج کیلئے تگ ودو کے عمل میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کر یں ہم اس حساس اور اہم معاملے کو اپنی خود غرضانہ اور مفاد پرستانہ سیاست کی نذر کرنے کے درپے ہیں۔

کیا ہم اس تلخ حقیقت سے آنکھیں چرا سکتے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ مردم شماری کو ایک آئینی تقاضا قرار دیکر از خود نوٹس کے ذریعے اسکے انعقاد کا حکم نہ دیتی تو کیا موجودہ حکومت کے باقی ماندہ دور میں اس اہم قومی فریضے کا انعقاد ممکن تھااسی طرح اگر پاکستان کی مسلح افواج اس عمل کا حصہ بننے سے بوجوہ معذرت کر دیتیں تو کیا ریاست کا کوئی بھی دوسرا ادارہ اس آئینی فریضے کو انجام دینے کی بھاری ذمہ داری اٹھا نے کی پوزیشن میں تھا۔واضح رہے کہ مسلح افواج کے پاس دیگر اداروں کے برعکس مردم شماری میں حصہ لینے سے معذرت کے کافی وزنی دلائل اور زمینی حقائق موجود تھے لیکن فوج کی اعلیٰ قیادت نے تمام تر دباؤاور مشکلات کے باوجود مردم شماری کے عمل میں حصہ لیکر اگر ایک طرف اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے تو دوسری جانب سپریم کورٹ کے مردم شماری سے متعلق فیصلے کی لاج رکھتے ہوئے عدالت عظمیٰ کی آئینی حیثیت اور فیصلہ سازی کے اسکے آئینی کردار کو بھی تسلیم کیاہے حالیہ مردم شماری کے متعلق یہ بھگ بھی اڑائی جا رہی ہے کہ یہ انیس سال کے وقفے کے بعد کیوں ہو رہی ہے،پہلے اس تاخیر کے ذمہ داروں کا تعین ہوناچاہئے افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔

یہ اور اس طرح کے کئی دیگر اعتراضات اور خدشات شاید اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہوں گے لیکن کیا بیس کروڑ کی حامل آبادی کے ملک جس میں کئی لسانی اکائیاں آبادہوں اور دوسو سے زائدرجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہوں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے مفاداتی گروہ ہوں کیا ان سب کو راضی اور مطمئن کر کے اتفاق رائے سے مردم شماری کا ڈول ڈالنا ممکن ہوگاایسا یقیناًہرگز ممکن نہیں ہوگابدقسمتی سے حالیہ مردم شماری سے متعلق زیادہ تر اعتراضات ان حلقوں اور جماعتوں کی جانب سے سامنے آ رہے ہیں جو اپنے پانچ سالہ عرصہ اقتدار میں اس اہم قومی اور آئینی فریضے کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں اور اب جب یہ عمل شروع ہو چکا ہے تو اسے بلا وجہ اپنی خود غرضانہ سیاست کیلئے متنازعہ بنانا چاہتے ہیں۔