بریکنگ نیوز
Home / کالم / نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں

نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں


یہ پرسوں صبح کی بات ہے جب احباب کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے ہوئے پیغامات سے میں لطف لے رہا تھا جب ایک دوست کا فون آیااحوال پرسی کیلئے وہ ہفتہ دس دن میں ایک آدھ بار رابطہ کرتا ہے مختصر سی بات کر کے اور دعاؤں میں یاد رکھنے کی یاد دہانی کرا کے فون بند کر دیتا ہے اس بار بھی ایسا ہی ہوا بس حکمت عملی کیخلاف میرے منہ سے جانے کیوں یہ سوال پھسل گیاکہ آج کل کیا ہو رہا ہے جواب تو اسکا بھی مختصر ہی ملا مگر مجھے جیسے میرے سینے کے اندر دور تک چھیل گیاچھلنی چھلنی کر گیامیں نے کہیں بہت پہلے کہا تھا
فلک کو پوری خوشی کب کسی کی بھاتی ہے
گلوں کو رنگ بھی خوشبو بھی دے تو خار بھی دے
اصل میں اس فون سے پہلے میری دلی کیفیات کچھ اور نوعیت کی تھیں میں نے یہ فون بھی اسی تسلسل میں لیا تھا ۔ہوا یہ تھا کہ گزشتہ دو تین دن عجب سرشاری میں گزرے تھے،گزر رہے تھے خود مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے احباب اس طور میری خوشی میں شریک ہو جائیں گے فیس بک،ٹوئیٹر اور مختصر پیغامات کے ذریعے میں دوستوں کی کی محبتوں سے مسلسل شرابور رہا۔ اس پر مستزاد ٹیلیفون،میسنجر کالز اور سکائپ کالز بشمول امریکہ کے ریڈیو چینل ’’ پنج‘‘ کے یوم پاکستان کے حوالے سے خصوصی پرگرام ’’آن لائن مشاعرہ ‘‘کے دوران پوری اردو دنیا کے بہت سے دوست شعرا کی مبارکباد نے بھی سینے کے اندر دل کی ہلچل میں اضافہ کر دیا تھا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور لگتا ہے کہ زندگی کے باقی کے دو چار دن ان محبتوں کے سہارے آرام سے کٹ جائیں گے دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ میرے ان سٹوڈنٹس کے بھی فون اور پیغامات آئے جن سے آخری رابطہ کو شایدبیس برس سے زیادہ گزرچکے ہیں گویا جس نے بھی پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا یا پھر سب سے مقبول سوشل میڈیا پر مجھے ملنے والے اعزاز کے بارے میں سنا دیکھا یا پڑھا اس نے رابطہ کیا مبارکباد دی انکی ان محبتوں کے سیلاب سے سیراب ہوتے ہوئے مجھے بہت شدت سے اپنے کہے گئے کچھ اشعار یاد آتے رہے جس میں کچھ یاروں سے کچھ شکایتیں تھیں مگر اب میں ان اشعار سے آنکھیں چرا رہا ہوں۔ کئی ایک ہیں

بڑے تپاک سے ملتا ہوں اپنے یاروں سے
دیا ہے مجھ کو مرے رب نے حوصلہ کیسا
یا پھریہ شعر بھی بہت تنگ کرتا رہا
مرے احباب مجھ سے بے تحاشا پیار کرتے ہیں
چلو ! بغدا د جا کر یہ کہانی بیچ آتے ہیں
اور اس شعر کے حوالے سے بھی احباب کی محبت کو کسی امتحان میں ڈالنے کی ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ بھی اب مجھے کھل رہی تھے
آنے والی ہے مری سالگرہ ، دیکھتا ہوں
یاد کس کس کو ہے اب بھی مرے دن رات کی بات

کیونکہ یہ وہی احباب ہیں جنہوں نے ان تین دنوں میں اتنی محبت اور خلوص سے مجھے صدارتی اعزازکی مبارکباد دی ہے گویا وہ سب نہ جانے کب سے یہ خوشخبری سننے کے منتظر بیٹھے تھے انسان ہر چند اپنے زعم میں اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کے ’پرخچے اڑانے ‘کے دعوے کرتا رہتا ہے‘ویسے یہ قول مغرب کے ایک بڑے لکھاری کا ہے مگر یہ حقیقت بھی وہیں کے ایک بڑے ادیب نے بتائی ہے کہ سامنے آنیوالی ہر چیز میرے پرخچے اڑا دیتی ہے شاید یہی پورا سچ ہے کیونکہ حضرت انسان اندر سے بہت عاجز اور بہت کمزور ہے اور میں نے یہ اشعار بھی ایسے ہی کسی کمزور لمحے سے مغلوب ہو کر کہے ہوں گے گزشتہ دو تین دن سے احباب کی جتنی محبتیں میں نے سمیٹی ہیں ان کیلئے خدا وند بزرگ و برتر کا شکر ادا کرنے کیلئے نہ میرے پاس لفظ ہیں اور نہ مجھے سلیقہ آتاہے بس اتنا ہے کہ یہ دن بہت ہی پرلطف ہیں اور سرشاری سے گزر رہے ہیں مگرمیرے اس بظاہر عام سے سوال کے جواب نے مجھے موجودہ کیفیت سے کسی اور دنیا میں پہنچا دیا میں سوچنے لگا کہ یہ دنیا جس میں رہنا ہماری اولین ترجیح ہے کبھی کبھی ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر لیتی ہے کہ ہم کہیں کے بھی نہیں رہتے، سیانے کہتے ہیں کہ تندرستی سے بیماری اور زندگی سے موت کا فاصلہ ایک سانس سے بھی کم وقت کا ہے کب کوئی گزرتا ہوا شوخ لمحہ ہمیں کیا سے کیا بنا دے
نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں
ابھی تو چاک پہ ہوں دستِ کوزہ گر میں ہوں
میرے سامنے دو مثالیں ایسی ہیں کہ جنکی کایا کلپ نے بیس ،پچیس سال بھی نہیں لئے وونوں واقعات میں بمشکل چار پانچ بر س کا عرصہ ہی لگاناصر کاظمی نے کہا تھا
اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

مگر یہ واقعات تو ایسے ہیں کہ میں نے خود دیکھے ہیں اور میں ہی سنا رہا ہوں دونوں واقعات میں دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں کروڑوں میں کھیلنے والے کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے ایسی کہانیاں میں نے بھی بہت سی سنی ہیں کہ ماں باپ کی دولت اور جائیداد کو ان کے آوارہ گرد بیٹوں نے ہفتوں مہینوں میں غیر شرعی کاموں میں پڑ کر اڑا دیا اور اسکی آسانی سے سمجھ بھی آ جاتی ہے مگر میرے سامنے جو دو مثالیں ہیں اس میں دونوں جواں سال کاروباری لڑکے نہ تو کسی غیر شرعی فعل کے مر تکب ہوئے اور نہ ہی کبھی قابل گرفت یا قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملو ث رہے انتہائی سلجھے ہوئے،پابند صوم صلوۃ اور بلا کے مہذب اور منکسرالمزاج اور اسی وجہ سے وہ کچھ ایسے لوگوں پر اعتبار کر کے ان کو اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کر بیٹھے جن کے پاس پیسہ نہ تھا مگر پیسہ بنانے کا شاید تجربہ تھا اس لئے ہفتوں مہینوں میں ان کے پاس پیسہ توآگیا مگر جب تک ان لڑکوں کے پاس تجربہ آ تا وہ بیرون ملک شفٹ ہو گئے اور پیچھے ان کیلئے مارکیٹ سے اٹھایا ہوا اتنا قرضہ چھوڑ دیاکہ کروڑوں کی جائیداد اور لاکھوں کے گھر ، بنگلے،حجرے اور دکانیں فروخت کر نے کے بعداب بھی کروڑوں کے قرضدار ہیں اور اونے پونے کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں اور ان کے چھوٹے بچے خالی خالی نظروں سے انکو دیکھ رہے ہیں کہ اچھے سکولوں سے اٹھا کر عام سکولوں میں آنے کے بعد بھی ان کی فیسیں کیوں بروقت ادا نہیں ہوتیں اور وہ بیچارے عدالتوں میں حاضری لگاتے لگاتے عاجز آگئے قرض خواہوں سے چھپتے چھپاتے دو پیسے کی مزدوری بھی نہ کر سکے ایک تو کسی طرح باہر نکل گیا اور اتنے پیسے بھیجتا ہے کہ بچوں کی فیس ادا ہو توگھر کا کرایہ رہ جاتا ہے ؂

کچھ دن قبل ایک کی فیملی کو میں نے دیکھا جو اس گھر میں شفٹ ہو گئی جو ان کے ایک رشتہ دار نے کرایہ پر لیا تھا اور اس در بدر فیملی کو پناہ دی تھی مگر اس کی یہ نیکی بھی مجھے خون کے آنسو رلا گئی کیونکہ یہ گھر انکا وہی آبائی گھر تھا جو قرض خواہوں نے ان سے لے لیا تھااور دوسرے لڑکے جسکے پاس بیک وقت نئے ماڈل کی کئی ایک گاڑیا ں تھیں جس کے شو روم دو بڑے شہروں میں تھے مجھے کل اسکا ہی فون آیا تھا جس نے ساری خوشی ،سرشاری اور ساری دل خوش کن کیفیات کے غباروں سے ہوا نکال دی میں نے کہا نا کہ بس حکمت عملی کیخلاف میرے منہ سے جانے کیوں یہ سوال پھسل گیا کہ آج کل کیا ہو رہا ہے جواب تو اس کا بھی مختصر ہی ملا مگر مجھے جیسے میرے سینے کے اندر دور تک چھیل گیا،چھلنی چھلنی کر گیااور اس کا جواب تھا ۔بس جی اللہ کا کرم ہے گزر رہی ہے ایک دوست نے ملازمت دے دی ہے میں اسکی گاڑی چلاتا ہوں، میری چیخیں نکل گئیں۔شکر ہے کہ اس کا فون بند ہو چکا تھامیں نے ابھی ابھی کہا نا کہ یہ دنیا
جس میں رہنا ہماری اولین ترجیح ہے،کبھی کبھی ہمارے ساتھ ایسا سلوک کر لیتی ہے کہ ہم کہیں کے بھی نہیں رہتے سیانے کہتے ہیں کہ تندرستی سے بیماری اور زندگی سے موت کا فاصلہ ایک سانس سے بھی کم وقت کا ہے۔کون جانے کب کوئی گزرتا ہوا شوخ لمحہ ہمیں کیا سے کیا بنا دے۔
نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں
ابھی تو چاک پہ ہوں دستِ کوزہ گر میں ہوں