بریکنگ نیوز
Home / کالم / کوئلہ بطور اِیندھن

کوئلہ بطور اِیندھن


سولہ جنوری: عوامی جمہوریہ چین میں توانائی کے پیداواری ادارے نے اعلان کیا کہ کوئلے کے ایندھن پر چلنے والے104زیرغور اور زیرتعمیر منصوبوں کو معطل کر دیا گیا ہے ان منصوبوں سے 120میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہونا تھی۔‘‘ چین کی حکومت داخلی سطح پر کوئلے سے حاصل ہونے والی بجلی والے پیداواری منصوبوں کو ختم کر رہی ہے اور صرف یہ بات 13 صوبوں کی حد تک محدود نہیں بلکہ دیگر 11 صوبوں میں اسی نوعیت کے پیداواری منصوبوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔اٹھارہ جنوری: چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن نے کوئلے کی طاقت سے چلنے والے 103 منصوبے جن میں کچھ پر تعمیراتی کام بھی جاری تھا معطل کیا‘ جن سے 120میگاواٹ بجلی حاصل ہونا تھی ان منصوبوں کا تعلق چین کے 13 مختلف صوبوں سے تھا چین کے شمال اور مغربی علاقوں میں تیل کے ذخائر پائے جاتے ہیں اور ان علاقوں میں قائم ہونے والے کوئلے کی مدد سے چلنے والے بجلی کے پیداواری منصوبے ختم کئے گئے ہیں اگر ہم چین کی جانب سے اب تک ختم کئے جانے والے بجلی کے ان پیداواری منصوبوں کی مجموعی صلاحیت کو دیکھیں جو کہ54 گیگاواٹ بنتی ہے تو اس قدر توانائی کوئلے کی مدد سے جرمنی کی مجموعی پیداواری صلاحیت کے مساوی ہے۔ستائیس جنوری: ’ساہیوال کول پاور پراجیکٹ‘ سے حاصل ہونے والی بجلی قومی نیٹ ورک کا حصہ بنائی گئی اس موقع پر وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی اور دفاع خواجہ محمد آصف نے کہاکہ ’’ساہیوال پاور پلانٹ اپنی تجرباتی پیداواری مرحلے کے بعد جون سے 1320 میگاواٹ بجلی دے گا۔‘‘بائیس فروری: وزیرمملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے اعلان کیا تھا کہ ’’کوئلے کی مدد سے بجلی کے پیداواری منصوبے پورٹ قاسم کی تعمیر کا 80فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ سے 1320میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی اور یہ منصوبہ 660 میگاواٹ صلاحیت والے دو حصوں پر مشتمل ہے جس پر کام مئی 2015ء سے جاری ہے۔

پانچ مارچ: چین کے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ انکا ملک سال 2017ء کے دوران کوئلے کی مدد سے چلنے والے مزید بجلی گھر بھی ختم کردیگا جنکی پیداواری صلاحیت 50گیگاواٹ سے زیادہ ہوگی۔پانچ مارچ: چین کی حکومت نے کوئلے کی طاقت سے چلنے والے بجلی کے پیداواری منصوبوں کو ماحول کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ نہ صرف پہلے سے کام کر رہے کوئلے کی مدد سے چلنے والے بجلی کے پیداواری منصوبے ختم کرے گی بلکہ ایسے نئے منصوبوں کی تعمیر بھی روک رہی ہے۔اٹھارہ مارچ: چین کے دارالحکومت بیجنگ کے قریب 845میگاواٹ بجلی کا پیداواری منصوبہ ختم کردیا گیا۔ یہ منصوبہ اٹھارہ سال تک بجلی دیتا رہا۔ بائیس مارچ: چین نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 2 ارب ڈالر مالیت کے بجلی گھر کی تعمیر کا کام شروع کیا گوادر بندرگاہ کی تعمیر کے بعد یہ ملک کا دوسرا بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا حصہ ہے۔ منصوبے کا سنگ بنیاد منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر احسن اقبال نے رکھا۔ ’حب کو‘ نامی اِس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر چین کے مہمان اور سفارتکار بھی موجود تھے۔بائیس مارچ: چین کے دارالحکومت بیجنگ کے آس پاس کوئلے کی مدد سے بننے والے بجلی گھر اس لئے ختم کئے گئے کیونکہ ان سے خارج مادے ماحول دوست نہیں تھے۔

بیجنگ سٹی کی انتظامیہ نے کوئلے کی مدد سے بجلی پیدا کرنے والے تمام منصوبے ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا سال دوہزار پندرہ تک چار میں سے تین ایسے بجلی گھر ختم کر دیئے گئے۔بائیس مارچ: تحفظ ماحول کیلئے کام کرنیوالی غیرسرکاری تنظیم ’’گرین پیئس‘‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین نے نہ صرف اپنے ہاں کوئلے کی مدد سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعداد کم کی ہے بلکہ اس نے بھارت میں ایسے بجلی گھروں کے تعمیراتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے سے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے‘ جن میں کوئلہ بطور ایندھن استعمال ہوگا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی سطح پر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور سال دوہزار پندرہ کے اختتام تک کوئلے کی مدد سے بجلی پیدا ہونے کے 62فیصد منصوبے ختم ہوئے۔پہلی حقیقت:پاکستان چین کی مدد سے کئی ہزارمیگاواٹ بجلی کے پیداواری منصوبے قائم کرنے جا رہا ہے۔دوسری حقیقت: چین اپنے ہاں کوئلے کی مدد سے چلنے والے بجلی گھروں کو ختم کر رہا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)