بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایک صائبہ مشورہ

ایک صائبہ مشورہ

اسلامی دنیا پچاس سے زائد ممالک پر مشتمل ہے لیکن شومئی قسمت دیکھئے کہ سیاسی طو رپر وہ منقسم ہے بعض مسلم ممالک امریکہ کے کاسہ لیس ہیں بعض روس کے اور بعض کسی اورسپر پاور کے‘ اغیار مسلمانوں کے درمیان تقسیم سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے ایک دوسرے کیخلاف جذبات کن کن طریقوں سے برآنگیختہ کرکے ان کو آپس میں لڑایا جا سکتاہے بدقسمتی سے مسلم ورلڈ میں دور دور تک دیکھو تو آج کوئی ایسا لیڈر دکھائی نہیں دے رہا کہ جس کے پاس عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا وژن ہو یہ ذوالفقار علی بھٹو کا عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے تقریباً تقریباً تمام اسلامی ممالک کے سربراہان کو 1974ء میں لاہور میں جمع کراکر اسلامی حکومتوں کے سربراہان کی ایک کانفرنس کا انعقادکر دیا تھا کہ جس سے اغیار کو کافی تکلیف ہو ئی تھی

کئی دانشوروں کا خیال ہے کہ اگر بھٹو اور سعودی عرب کے بادشاہ کنگ فیصل کو سازشوں کے تحت صفحہ ہستی سے نہ مٹا دیا جاتا تو شایداس عالمی کانفرنس کے بعد فالو اپ کے طو پر کافی اقدامات اٹھائے جاتے آپ ذرا غور سے اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو 1974ء کی اس کانفرنس سے پہلے اور بعد میں ماضی قریب میں اس نوع کی پھر کوئی کانفرنس منعقد نہ ہو سکی یہ لمبی تمہید ہم نے اس لئے لکھی کہ اگلے روز مرکزی وزیر عبدالقادر بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی زیر نگرانی چند اسلامی ممالک کی جو مشترکہ فوج بنائی جا رہی ہے اس کی قیادت کرنے سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے عبدالقاد ر بلوچ کی اس با ت میں کافی وزن ہے اسلامی دنیا میں بدقسمتی سے آج ایک سے زیادہ مسالک کے لوگ رہتے ہیں اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کوشش بسیار کے باوجود ان میں فروعی اور مسلکی اختلافات کو ختم نہیں کیا جا سکا

یہ کم ہونے کے بجائے ہمیں تو دن بہ دن زیادہ ہوتے نظر آ رہے ہیں جو ہمارے نزدیک ہمارے لئے سم قاتل ہیں اور یہ ہم کو اندر ہی اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں جنرل راحیل شریف کو چند ماہ قبل جب اس مشترکہ اسلامی فوج کی کمان کی پیشکش کی گئی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا یا ان سے یہ بیان منسوب کیاگیا تھا کہ اگر ایران کو اس میں شامل کر لیا جائے تو پھر انہیں اس کمان کو سنبھالنے میں کوئی اعتراض نہ ہو گا یہ آئیڈیا تو بہت اچھا ہے کہ تما م عالم اسلام کی ایک مشترکہ فوج ہو جس کے منشور میں لکھا جائے کہ اگر ان اسلامی ممالک کے کسی ملک پر بھی باہر کی دنیا سے کسی غیر مسلم نے حملہ کیا تو یہ فوج حملہ آور کے خلاف حرکت میں آ جائے گی اس ملک کے عوام یہ جاننا چاہیں گے کہ کیا ایسی کوئی شق اس مشترکہ اسلامی فوج کے منشور میں موجود ہے ؟ اگر نہیں تو پھر اس کا کیا فائدہ ؟ راحیل شریف نے پاکستان کی فوج میں بڑا بہترین وقت گزارا ہے اس ملک میں انکے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے ان کو سوچ سمجھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔لیکن ایک بات اور بھی ہے اگر راحیل شریف اس فوج کی قیادت سنبھالنے کے بعد جملہ اسلامی ممالک کے اختلافات ختم کرانے اور انہیں ایک جھنڈے تلے متحد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ خوش آئند ہوگا۔