بریکنگ نیوز
Home / کالم / تحریک انصاف: عمران خان کے بعد!

تحریک انصاف: عمران خان کے بعد!


بھارت کی سیاست کے مبصرین اتر پردیش میں بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی شاندار فتح سے دو نتائج اخذ کرتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ فتح کے مارجن سے واضح ہے کہ وزیرِ اعظم مودی اور ’بی جے پی‘ کو دوہزار نو میں دوبارہ منتخب ہونے کے لئے فیوریٹ ہیں۔ دوسرا یہ کہ غیر مؤثر راہول گاندھی کے تحت کانگریس کا زوال اب ایک واضح حقیقت ہے اور اگر یہ زوال ایسے ہی جاری رہا‘ تو توقع ہے کہ ’بی جے پی‘ وہ واحد جماعت رہ جائے گی جو خود کو قومی سطح کی جماعت کہلوا سکے گی۔‘ یہ ایک قومی جماعت ہے جس کا تنظیمی ڈھانچہ بہت مضبوط ہے۔ پارٹی کا یہ ڈھانچہ نہ صرف ووٹرز اکھٹے کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ قیادت کی جانشینی کے بنیادی مسئلے کا حل بھی پیش کرتا ہے۔بھارت میں قیادت کی منتقلی کا ذکر کرنے کا مقصد پاکستان کی نوزائیدہ جمہوریت میں مستقبل کی رسہ کشی کا سیاق و سباق پیش کرنا ہے۔ سال دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات صرف ایک سال کے فاصلے پر ہیں اور یہ جمہوریت کو پاکستان کے واحد سیاسی نظام کے طور پر راسخ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرینگے چنانچہ اس کھیل میں قومی سیاسی جماعتوں کا استحکام اور ان کا قائم رہنا بھی نہایت اہم ہے۔ رائے شماری کے سرویز اور سال دوہزار پندرہ کے بلدیاتی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم پنجاب میں تو مسلم لیگ نواز کا پلڑا بھاری ہے۔

یہ جماعت قیادت کی پہلی دفعہ منتقلی کیلئے غیر رسمی طور پر وزیرِ اعظم کی بیٹی کو مرکز میں جبکہ وزیرِ اعلیٰ کے بیٹے کو پنجاب میں سامنے لا رہی ہے۔ اب طویل مدت میں پارٹی کی انتخابی قسمت ان دو افراد کی اندرونی خاندانی جھگڑوں کو سلجھانے کی قابلیت اور پارٹی کے بڑوں کی اخلاقی حمایت پر منحصر ہے لہٰذا ہم اپنے پچھلے نکتے پر واپس آتے ہیں: بی جے پی نے یہ طویل کھیل قیادت کی منظم انداز میں منتقلی کے ذریعے کھیلا اور کانگریس کے اپنی قیادت کی وجہ سے زوال پذیر ہونے کا فائدہ اٹھایا۔ پاکستان کے معاملے میں کیا تحریک انصاف وہ واحد جماعت جو فی الوقت قومی اہمیت رکھتی ہے‘ نواز لیگ کے زوال پذیر ہونے پر فتح کے لئے تیار ہے؟دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں عمران خان پینسٹھ برس کے ہوجائینگے‘ وہ اب بھی جسمانی طور پر تندرست ہیں مگر ان کی اتنی تندرست و توانا جماعت نہیں ہے۔ زیرِ سطح کئی ابال ہیں جو اس جماعت میں اٹھ رہے ہیں۔ مختلف مواقع پر پارٹی میں آنیوالے کئی قائدین ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ چند لوگ اپنی رنجشوں کا عوامی سطح پر اظہار کر چکے ہیں‘ جبکہ کچھ دیگر آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ اب بھی ایسا کوئی جانشین سامنے نہیں آیا ہے جو ووٹروں اور دیگر رہنماؤں کے درمیان اخلاقی طور پر اتنا ہی مقبول ہو جتنے کہ عمران خان ہیں‘ ایک ایسی جماعت جو خود مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ شروع ہوئی تھی تاکہ درمیانے درجے کے رہنماؤں کی تربیت کر کے انہیں تیار کیا جا سکے‘ اب قابلِ انتخاب اور بڑے نام رکھنے والے سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے چنانچہ اگر موجودہ حکومت چلی بھی جاتی ہے‘ تب بھی پی ٹی آئی کے اس جماعت کے نعم البدل کے طور پر سامنے آنے کی صلاحیت پر اثرات پڑتے ہیں۔ تصور کریں کہ نواز لیگ میں قیادت کی منتقلی آپسی جھگڑوں یا جانشینوں کی جانب سے ووٹروں اور پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پاتی۔جنوبی ایشیاء میں تاریخی طور پر اسکی وجہ سے جماعتیں دھڑوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔

‘ اندرا گاندھی کے دور میں کانگریس کے ساتھ بھی یہی ہوا جبکہ بے نظیر کے حکومت میں آنے کے بعد ’پی پی پی‘ میں بھی کچھ حد تک یہی ہوا اُور نواز شریف کی فتح کے بعد مسلم لیگ میں بھی یہی ہوا۔ اگر اگلے سال نواز لیگ دوبارہ منتخب ہوتی ہے، تو دوہزار اٹھارہ اور دوہزار تئیس کے بیچ میں ایسا کچھ ہونا خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے لئے اس کا مطلب بحیثیت اپوزیشن ایک اور پارلیمانی دور گزارنا اور اس دوران اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنا ہے مگر ستر کی عمر کو پہنچتے ہوئے رہنما کے ساتھ۔ کوئی بھی سیاستدان‘ چاہے وہ ایتھلیٹ ہی کیوں نہ رہ چکا ہو‘ ستر سال کی عمر تک اپنی پارٹی کو تن تنہا قائم رکھ کر لڑائی جاری نہیں رکھ سکتا۔ ان سے ایسی توقع رکھنا بے وقوفی ہوگی چنانچہ پارٹی کیلئے ابھی سے خود کو منظم کرتے ہوئے قیادت کی منتقلی کی تیاری کرنا نہ صرف اس کے اپنے حامیوں کیلئے‘ بلکہ پاکستانی جمہوریت کی صحت کے لئے بھی ضروری ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عمیر جاوید۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)