بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی گرماگرمی اور سردخانہ

سیاسی گرماگرمی اور سردخانہ


وطن عزیز میں سیاسی گرماگرمی مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے،تند وتیز بیانات کا سلسلہ ہر جانب سے جاری ہے،و زیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے 5سال اقتدار کے مزے لوٹے اور آج بھی سندھ میں ان کی حکومت ہے، عوام ان سے سوال کریں کہ تم نے ملک کی یہ حالت کیوں بنادی ہے، دوسری جانب پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انہوں نے چار سال جمہوریت کیلئے بہت مفاہمت کی سیاست کرلی، اب جارحانہ اننگز کھیلیں گے اور مخالفین کے ہر حملے کا جواب دیاجائیگا، سابق صدر مملکت نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حلقے میں جاکر جلسہ کرنے کااعلان بھی کیا ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سیاست میں مال پانی بنانے نہیں آئی ہم صرف خدمت کے جذبے سے آئے ہیں، اسی طرح کے گرما گرم بیانات دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی آرہے ہیں، یہ سب پارلیمانی جمہوری نظام کا حصہ اور حسن ہے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ایک دوسرے پر تنقید، غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی اور اپنا منشور اور پروگرام پیش کرنا کوئی عیب نہیں تاہم اصل ضرورت اس سرد خانے کو دیکھنے کی ہے جس میں عام شہری کے مسائل پڑے ہیں، اس سرد خانے میں لوڈشیڈنگ بھی ہے جس کے برسرزمین نتائج کا ہنوز انتظار ہے اور موسم گرما میں ایک بارپھر صورتحال تشویشناک ہونے کا خدشہ اپنی جگہ برقرار ہے، اس سردخانے میں مہنگائی بھی ہے جو اس وقت فوری نوعیت کے اقدامات کی متقاضی ہے، اس کولڈ سٹوریج میں وطن عزیز کے آبی ذخائر بھی ہیں جن پر قومی قیادت کو سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا۔

اس میں تعلیم اور علاج کے انتظامات بھی ہیں یہ سردخانہ اربن انفراسٹرکچر میں بہتری کیلئے ضروری اقدامات پر مشتمل ضروریات اور سفارشات سے بھی بھرا ہے، اب جبکہ ہماری قومی قیادت ایک بارپھر انتخابات کے قریب ہوتی جارہی ہے مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتوں سے ان کی کارکردگی کے عملی نتائج کا تقاضا بھی ہوگا اسی کارکردگی کی بنیاد پر ان جماعتوں کے مستقبل کی پلاننگ پر لوگوں کا اعتماد سامنے آئے گا اس سب کے ساتھ سیاسی گرما گرمی میں اصول اور اقدار کو مدنظر رکھنا بھی ناگزیر ہے جو ہماری سیاست کا حسن کہلائے گا اس ضمن میں سینئر سیاسی قیادت پر لازم ہے کہ وہ نچلے لیول تک کارکنوں کو نظم و ضبط کا پابند بنائیں۔

حج پالیسی کے خدوخال

وفاقی وزارت مذہبی امور کے ذرائع نے نئی حج پالیسی کے خدوخال اجاگر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس سال حج اخراجات میں10ہزار روپے کا اضافہ ہوگا اور یہ سعودی عرب میں رہائش گاہوں کے کرائے بڑھنے پر کیا جا رہا ہے جہاں تک مجبوری کے عالم میں اخراجات بڑھانے کا تعلق ہے تو اس پر فوری اعتراض نہیں کیا جاسکتا تاہم اخراجات میں اضافے کے ساتھ سہولیات کی فراہمی کو ہر حوالے سے مشروط رکھنا ہوگا اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ وطن عزیز میں حج انتظامات کے حوالے سے شکایات میں کمی آئی ہے اور وفاقی وزیر سردار محمد یوسف مزید بہتری کیلئے بھی پرعزم ہیں تاہم ضرورت نگرانی کے کڑے انتظام اور موقع پر ریلیف کی ہے ایک سال کی شکایت پر اگلے سال میں انکوائری عازمین حج کی مشکلات کا ازالہ نہیں حکومت کو حجاز مقدس میں ایسے شکایات مراکز کا قیام یقینی بنانا ہوگا جہاں لوگوں کو فوری ریلیف مل سکے۔