بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / گومل یونیورسٹی کے مالی مسائل

گومل یونیورسٹی کے مالی مسائل


گومل یونیورسٹی ڈیرہ خیبر پختونخوا کی دوسری بڑی درسگاہ ہے‘ ذوالفقارعلی بھٹونے 1974 میں اس وقت اس یونیورسٹی کاافتتاح کیاجب مملکت عزیز میں صرف کراچی، لاہور ، پشاور،کوئٹہ اوراسلام آباد میں گنتی کی صرف پانچ یونیورسٹیاں تھیں ڈیرہ اسماعیل خان سے باہرملتان ر وڈپراس یونیورسٹی کے قیام کیلئے ڈیرہ شہرہی کے نواب اللہ نوازخان سدوزئی نے 11 ہزار ایکڑ اراضی عطیہ کی تھی ویسے تواس یونیورسٹی کی ابتدائی ایک دوعمارتوں کی تعمیرلگ بھگ دوسال میں مکمل ہوگئی تھی مگرایک دہائی تک اس یونیورسٹی کا دارومدارٹانک اڈے کے قریب برطانوی دورمیں تعمیرکئے گئے فوجی قلعوں اور بیرکوں پر تھا جہاں پروائس چانسلر‘ رجسٹرار اور دیگر انتظامی افسر اوراہلکاروں کے دفاتر کے علاوہ سنٹرل لائبریری ‘ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،فزیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اورطلباء وطالبات کیلئے تین ہاسٹل تھے 1983 اور 1984کے دوران یونیورسٹی کے تمام شعبے اورکالجزنئی تعمیرشدہ عمارت جیسے نیو کیمپس کانام دیاگیاتھامیں منتقل ہوگئے تھے اوراسی طرح ابدالی ہاسٹل کے علاوہ تین نئے ہاسٹلوں کی تعمیرسے طلباء وطالبات کی رہائش کامسئلہ بھی کافی حدتک حل ہوگیاتھامملکت عزیزکے تین صوبوں کے سنگم اوروزیرستان کے قبائلی خطے سے نزدیک ترین فاصلے پرقائم گومل یونیورسٹی نے ملک بھرکے نوجوان طبقے کوایک دوسرے کی ثقافت اور رسومات سے روشناس کرانے کابھی ایک موقع فراہم کیاتھا اسی طرح اس یونیورسٹی میں فارمیسی اور دیگرنئے شعبوں کا قیام نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ افریقہ کے کئی ایک ممالک کے طلباء وطالبات کو بھی اپنی طرف کھینچ کرلایاتھااسی طرح نواب اللہ نوازخان سدوزئی کے علاوہ اس یونیورسٹی کاتذکرہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا۔

جب تک مرحوم خان عبدالعلی خان‘مرحوم پروفیسرمحمداسماعیل سیٹھی‘مرحوم قلندر مومند اورمحمداجمل خان کی کاوشوں کو یاد نہ کیا جائے اسی طرح اس یونیورسٹی کے ہزاروں فارغ التحصیل طلباء وطالبات میں جماعت اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم خان نمایاں اس لحاظ سے ہیں کہ وہ اس کے تین شعبوں میں طالبعلم رہے تھے اور بعدمیں شعبہ صحافت میں مدرس کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیتے رہے اسی طرح موجودہ وزیرقانون امتیازشاہد قریشی کوبھی گومل یونیورسٹی کے طالبعلم ہونے کا اعزازحاصل ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماخوشدل خان ایڈوکیٹ نہ صرف گومل یونیورسٹی کے طالبعلم رہے بلکہ انکواس درسگاہ کی طلبا یونین کے پہلے صدر ہونے کا اعزازبھی حاصل ہے پختونخواکی سول انتظامیہ میں شامل انتہائی قابل‘ خوش اخلاق اور دیانتدار افسرمحمدہمایون خان نے بھی اس اہم درسگاہ میں مدرس کی حیثیت سے فرائض سرانجام دئیے محکمہ اطلاعات کے سابق ڈائریکٹرشعیب الدین‘ ڈاکٹر سیدامیرحسین شاہ سمیت متعدد افسران بھی اس درسگاہ سے فارغ التحصیل ہیں ملک بھرکے ذرائع ابلاغ میں اہم عہدوں پر فائز صحافیوں کاتعلق بھی اسی درسگاہ سے رہاہے چند روز قبل لگ بھگ 15 سال بعدگومل یونیورسٹی جانے کاموقع ملا‘چندایک عمارات پرمشتمل یونیورسٹی اب یورپ جیسا شہربن چکاہے جدیدطرزکے مرکزی دروازے سے داخل ہونے کے بعد خوبصورت اورصاف ستھری سڑکوں کے دونوں جانب سرسبزوشاداب باغات‘ کھیل کے میدانوں اورعمارات کودیکھ کر انسان دنگ رہ جاتاہے۔

اس مختصردورانیے کے دوران اس ہاسٹل میں بھی چندمنٹ گزارے جہاں پرخوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمرزاجان‘گومل یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر ڈاکٹر بختیار خٹک ، محکمہ اطلاعات کے سابق ڈائریکٹرشعیب الدین سمیت درجنوں دوستوں کیساتھ لگ بھگ ایک سال گزاراتھا ڈاکٹر بختیار خٹک کے گھر میں چندمنٹ گزارنے کا موقع ملا جہاں پر CPEC کے ڈائریکٹر میڈیا شوکت خٹک بھی انکے ہمراہ تھے اس دوران معلوم ہواکہ حکومت کی سردمہری کے باعث گومل یونیورسٹی شدیدمالی بحران شکار ہے مختلف شعبوں‘ کالجوں اور درسگاہوں میں اساتذہ کی 165 اسامیاں خالی ہیں اسی طرح اس یونیورسٹی کودرپیش مالی وسائل کے نہ صرف درس وتدریس پرمنفی اثرات پڑرہے ہیں بلکہ اس سے انتظامی معاملات بھی متاثر ہو رہے ہیں مالی وسائل پرقابوپانے کیلئے یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر میجر جنرل (ر) حامدشفیق نے بھی کافی کوششیں کی تھیں مگرابھی تک یہ مسائل جوں کے توں ہیںیوں دکھائی دیتا ہے کہ فی الوقت وفاقی اورصوبائی حکومتیں اس مادر علمی کواپنے اپنے سیاسی مقاصدکے حصول کیلئے استعمال کررہی ہیں جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ قومی اسمبلی میں ڈیرہ اسماعیل خان کی نمائندگی کرتے ہیں انکا فرض ہے کہ وہ گومل یونیورسٹی کے مسائل حل کرنے میں مدد دیں یہ فرض تحریک انصاف کے منتخب ممبران صوبائی اسمبلی کا بھی ہے اس درسگاہ کیساتھ ڈیرہ ،ٹانک اورملحقہ علاقوں کے لاکھوں لوگوں کا مستقبل وابستہ ہے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کافرض ہے کہ وہ اس درسگاہ کے مالی وانتظامی مسائل حل کرنے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔