بریکنگ نیوز
Home / کالم / اس میں ایک پھول کھلے گا…….

اس میں ایک پھول کھلے گا…….

اگرآج ہمیں روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی‘ مستقبل کی جانب دیکھنے سے ڈر لگتا ہے…ہر کوئی سوال کرتا ہے‘ کل کیا ہوگا‘ کل آئے گا بھی یا نہیں‘ اس سرزمین کو گدھوں نے نوچ کھایا ہے‘ کبھی سیاست‘ کبھی عقیدے اور کبھی جمہوریت کے نام پر…اور ہر کوئی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے دوسروں کو قصور وار ٹھہراتا ہے…اور میں چشم دید گواہ ہوں کہ ایک حفل میں نہایت متمول اور غریبوں کا غم کھانے والے‘ مہنگائی کا رونا رونے والے‘ پاکستان کے مستقبل کیلئے فکر مند حضرات گفتگو کر رہے تھے اوران کی گفتگو اتنی جذباتی اور محب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھی کہ کم از کم دو حضرات کی آنکھوں میں نمی اتر رہی ہیں وہ اپنے پیارے ملک کے مستقبل کیلئے اتنی گہری دردمندانہ تشویش میں مبتلا تھے اور وہ سب ایک دوسرے کے درخشاں ماضی کے بارے میں خوب آگاہ تھے اور آگاہ تو میں بھی تھا اور ان میں سے ایک صاحب پانی اور بجلی کے محکمے میں کسی معمولی عہدے پر فائز تھے اوران کے بارے میں مشہور تھاکہ موصوف نے کبھی چار چھ ماہ سے زیادہ مسلسل نوکری نہیں کی‘ باقاعدگی سے رشوت کے الزام میں معطل ہو جاتے اور پھر تگ ودو کرکے باقاعدگی سے بحال ہو جاتے کہ ان کے جو افسران بالا تھے ان کی معطلی کی وجہ سے ان کی بالائی آمدنی میں بھی خلل آجاتا‘ وہ ادھر ڈوبے اور ادھر نکلے کے مصداق ڈوبتے تو تھے لیکن ہمیشہ غیبی ہاتھ انہیں ڈوبنے سے بچا لیتے اور وہ پھر سے ادھر آنکلتے‘ ان دنوں ان کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے اور اپنے پلے سے مذہبی کتابچے چھپوا کر مفت میں تقسیم کرتے ہیں اور شہر کے باہر ایک فارم ہاؤس میں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ سب سے بلند آواز میں ملک میں پھیلی کرپشن کے بارے میں احتجاج کر رہے تھے…ان میں کم از کم دو کاروباری حضرات ایسے تھے جنہوں نے تھڑوں پر بیٹھ کر کسی حد تک چھابڑیاں لگا کر کاروبار کا آغاز کیا اور اب کروڑوں میں کھیلتے ہیں‘ کروڑوں میں کھیلنے میں کچھ حرج نہیں لیکن یہ حضرات سرکاری ملازمین کو بھی لاکھوں میں کھلاتے رہے ہیں بلکہ کھلانے کے ساتھ پلاتے بھی رہے ہیں ۔

اور ان میں سے ایک صاحب کا پرائیویٹ فارم ہاؤس سیاست دانوں اور بیورو کریٹس اور صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے وقف ہے…یعنی وہ یک مدرتھرلیسا سے خدمت خلق میں کم درجے پر فائز نہیں…یہ حضرات ہر برس قرعہ اندازی سے اپنے دو ملازمین کو اپنے خرچے پر حج کیلئے بھیجتے ہیں‘ وہ بھی یہ پوچھنے میں حق بجانب تھے کہ آخر اس ملک کا کیا بنے گا…اس دوران گفتگو میں مزاج کا رنگ غالب آنے لگا اور کسی نے ایک خاں صاحب یا شاہ صاحب غیرہ سے پوچھا کہ حضرت آپ ایکسائز کے محکمے میں ایک کلرک ہوا کرتے تھے تو اتنی قلیل تنخواہ میں آپ نے دیگر جائیداد کے علاہ ایک چارکنال میں محیط شاہانہ گھر کیسے تعمیر کیا تو انہوں نے نہایت مدلل جواب دیا کہ جیسے دوسرے لوگ بناتے ہیں ویسے میں نے بھی بنالیا اورسب مطمئن ہوگئے اور میں مبالغہ نہیں کر رہا یہ صاحب ملک میں پھیلی کرپشن کے بارے میں اعداد وشمار جمع کرکے انہیں چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

یہ تو اندھیروں کے قصے تھے لیکن یقین کیجئے ان اندھیروں میں کہیں کہیں ایمانداری اور خوبصورتی کے چراغ روشن ہیں‘ اگرچہ وہ کم کم ہیں لیکن انہوں نے اندھیروں کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے اوریہ چراغ ہر محکمے میں کہیں کہیں روشن ہیں‘ پولیس‘ انکم ٹیکس‘ کسٹم‘ بیورو کریسی کی ہر شاخ میں‘ عدلیہ اور سیاست میں ایسے چراغ جلتے ہیں جو نامساعد حالات کے باوجود اندھیروں سے مفاہمت نہیں کرتے اور اکثر ایسے چراغوں پر ہی کرپشن کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں کہ بقیہ کرپٹ لوگ انہیں برداشت نہیں کر سکتے اور ان کے خلاف گواہ بن جاتے ہیں…ہر برس پاکستان بھر سے سول سروس کے امتحان میں سو ڈیڑھ سو امیدوار‘ دس بارہ ہزار امتحان دینے والوں میں سے کامیاب قرار پاتے ہیں‘ اور مختلف محکموں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر تعینات ہو جاتے ہیں‘ ان میں سے بیشتر بدقسمتی سے ہوس زر کا شکار ہو کر ایک کرپٹ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کا ضمیر‘ اخلاقی قدر میں یا خاندان پس منظر انہیں اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے روک دیتا ہے اور یاد رہے کہ گنگا میں مردے بہائے جاتے ہیں…میں ایک ایسے ہی سول سرونٹ کو جانتا ہوں جسکے لئے محکمے میں جینا مشکل ہوگیا کہ وہ اوپر کی جائز قرار کردہ آمدنی سے انکاری ہوگیا اور اس نے سنجیدگی سے سوچار کہ وہ یہ افسری چھوڑ کر کہیں چھابڑی لگا کر رزق حلال کمائے…تو ایک روز رکے ایک نہایت سینئر افسر نے اسے اپنے گھرمیں چائے کیلئے مدعو کیا اور اسکے…بیٹے…ہر برس جب نئے سول سرونٹ محکمے میں آتے ہیں تو کچھ دنوں بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے‘ ہم جان جاتے ہیں کہ کون رنگا گیا ہے اور کون اپنے دامن کو آلودہ نہیں ہونے دیتا تو تمنے حوصلہ نہیں ہارنا…ڈٹے رہو…سال دو سال میں صورت حال سدھر جائیں گی‘ ہمت نہ ہارنا…میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا لیکن میں نے کرپشن کے آگے ہتھیارنہ ڈالے اور یقین کرو اللہ تعالیٰ تم جیسے ایماندار افسروں کو پسند کرکے انہیں ہمیشہ نوازتا ہے… تم کسی گھاٹے میں نہیں رہو گے…ڈٹے رہو… میں بھی علامہ اقبال کی مانند اپنی کشت ویراں سے مایوس نہیں ہوں…میں جانتا ہوں کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی اور یہ نمی پاکستان کے ہرشعبے میں روشن ان چراغوں کی مرہون منت ہے۔

بچپن میں‘ یہی کوئی ساٹھ پینسٹھ برس پیشتر گاؤں سے ہماری برادری کی ایک پھوپھی نور بی بی لاہور ہمارے گھر میں کاج کاج کیلئے آئی…وہ گھریلو ملازمہ تونہ تھی‘ اگرچہ گھر کے سب کام کرتی تھی…تب اس مکان کی پہلی منزل پر ایک مختصر صحن تھا اوراس کی دیوار پر جانے کب سے پڑے کچھ گملے تھے جن کی مٹی خشک ہو چکی تھی‘ کبھی ان میں گل بوٹے ہوا کرتے تھے پر اب وہ بیکار ہو چکے تھے‘ اباجی نے انہیں اٹھواوایا‘ صرف ایک گملا رہ گیا کہ وہ بہت بھاری تھا‘ دیوار سے اٹھایا نہ جا سکتا تھا‘ پھوپھی نور بی بی جب دوپہر ڈھلتی تو مجھے کہتی’’ آؤ مستنصر اس گملے کو پانی دیں‘‘ اور وہ ایک لوگ سے اس گملے کی خشک ہوچکی مٹی کو سیراب کر دیتی اور میں پوچھتا’’ پھوپھی نور بی بی…اس گملے کی مٹی خشک ہو چکی ہے‘ بنجر ہو چکی ہے‘ اسے کیوں باقاعدگی سے پانی دیتی ہو‘‘ تو ’’ چٹی ان پڑھ پھوپھی کہتی‘‘ مستنصر یہ میرے اور تمہارے درمیان ایک راز ہے‘ کسی کو نہیں بتانا‘ تم دیکھنا کہ کسی نہ کسی دن اس کی مٹی میں سے ایک بوٹا پھوٹے گا اور اس میں ایک پھول کھلے گا…تم دیکھنا…‘‘

پھوپھی نور بی کو سب گھر والے پاگل سمجھتے تھے کہ وہ باقاعدگی سے اس گملے کی بنجر مٹی کو پانی دیتی رہتی تھی اور مجھے یاد ہے کہ ایک سویر واقعی اس کشت ویراں میں ایک بوٹا نمودار ہوا اور کچھ دنوں بعد ایک زرد رنگ کا پھول نمودار ہوگیا…
پھوپھی نور بی بی کا سرخ و سپیدچہرہ دمکنے لگا’’ دیکھا مستنصر‘ میں نہ کہتی تھی کہ ایک نہ ایک دن اس میں پھول کھلے گا‘‘
آج میں بھی ایک پھوپھی نوربی بی ہوں…میں اس کشت ویراں کو جس میں کہیں کہیں چراغ روشن ہیں‘ آرزوؤں اور امیدوں کے پانیوں سے سیراب کرتا ہوں اور مجھے بھی یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن اس میں ایک بوٹا پھوٹے گا اور اس میں ایک پھول کھلے گا…آپ دیکھ لیجئے گا!۔