بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / جنوبی وزیرستان کے حالات اور مسائل

جنوبی وزیرستان کے حالات اور مسائل


دہشت گردی کی اس جاری لہرمیں سب سے زیادہ متاثرہونے والے علاقوں میں جنوبی وزیرستان سرفہرست ہے اس بدقسمت خطے میں نہ صرف دہشت گردی کاآغازافغانستان میں القاعدہ کے خلاف امریکی اتحادافواج کی کاروائیوں کے شروع ہونے کے بعدہواتھابلکہ دہشت گردی کے شروع ہوتے ہی پہلاامریکی ڈرون حملہ بھی اسی علاقے میں ہواتھا‘2003سے لے کر 2006تک جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں لگ بھگ 3 ہزارافرادتشدد کی کاروائیوں میں جاں بحق ہوئے جن میں تقریبا چھ سوسرکردہ رہنماء بھی شامل تھے جنکی فہرست بہت طویل ہے مگران رہنماؤں میں سابق وفاقی وزیرملک فریداللہ خان ‘ ملک گل سا خان‘ملک مرزاعالم خان انتہائی نمایاں تھے اسی طرح سب سے پہلے واناکے احمدزئی وزیرقبائل نے وسط ایشیاء سے آنے والے عسکریت پسندوں کیخلاف قومی لشکر بناکران عسکریت پسندوں کو علاقے سے نکلنے پرمجبورکیااسی جنوبی وزیرستان کے محسودقبائل نے2009 کے وسط میں حکومت کی دہشت گردوں کیخلاف نہ صرف فوجی کاروائی شروع کرنیکی حمایت کی تھی بلکہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے دیگراضلاع کے لوگوں کی نقل مکانی کو مدنظرکھتے ہوئے فوجی کاروائی راہ نجات کوکامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے نقل مکانی بھی کی تھی ‘یوں تو تمام ترقبائلی علاقوں کے لوگوں کی وطن سے محبت اورپیار شک و شبہ سے بالاتر ہے تاہم محسود اور اور احمدزئی وزیرقبائل کی حب الوطنی کی مثالیں دنیا بھر میں دی جاتی رہی ہیں ملک میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کی خاطرمحسودقبائل کے لگ بھگ ایک لاکھ پانچ ہزارخاندانوں نے چند دنوں کے اندر اندر گھر بار خالی کرکے فوج کو چندہی ہفتوں کے اندر اندرعسکریت پسندوں کاقلع قمع کرنے کا موقع فراہم کیاتھا۔

اس بھرپور اور کامیاب فوجی کاروائی کے نتیجہ میں نہ صرف جنوبی وزیرستان بلکہ ملک بھرمیں عسکریت پسندوں کی کاروائیوں کا خاتمہ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تاہم اب بھی لاکھوں کی تعداد میں محسود قبائل خیبر پختونخوا کے ملحقہ اضلاع ٹانک اورڈیرہ اسماعیل خان میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں چند روز قبل جنوبی وزیرستان کے انتظامی مرکزٹانک میں پولیٹیکل ایجنٹ سے چندمنٹ کیلئے بات چیت کا موقع ملاان کاکہناتھاکہ حقیقت میں 80 سے لے کر85فیصدمحسودقبائل کی بحیثیت نقل مکانی کرنے والوں کی ڈی رجسٹریشن ہوچکی ہے مگران کی اکثریت اب بھی ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم ہے جبکہ بقیہ 20-15 فیصدکی ڈی رجسٹریشن اپریل کے اواخرتک مکمل ہوجائے گی پولیٹیکل ایجنٹ فخرالاسلام نے یہ بھی بتایا کہ جنوبی وزیر ستان کے محسودقبائل کے زیرتسلط 95 فیصدعلاقے عسکریت پسندوں سے پاک کردئیے گئے ہیں ان علاقوں میں زندگی کی بنیادی ضروریات یعنی تعلیم،صحت،پینے کاصاف پانی وغیرہ کی سہولیات فراہم کردی گئی ہیں مگر ظفر الاسلام کے بقول زیادہ ترگھریاتوبالکل زمین بوس ہیںیارہنے کے قابل نہیں اسلئے لوگ وہاں جا کر واپس ٹانک اورڈیرہ اسماعیل خان آتے ہیں جنوبی وزیرستان کے ایک قبائلی رہنماملک ایازخان نے تصدیق کی کہ گھروں کی تباہی اورمسماری کے باعث نقل مکانی کرنیوالوں کی واپسی بروقت ممکن نہیں ہوئی ہے۔

پولیٹیکل ایجنٹ ظفرالاسلام نے بتایا کہ ان علاقوں میں35سے لے کر40 ہزار تک گھر بالکل تباہ ہیں حکومت پچھلے کئی مہینوں سے تباہ ہونیوالے گھروں کے مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کررہی ہے اب تک دو مختلف مرحلوں میں تقریبا 10 ہزار مالکان کوفی مکان ساڑھے چار لاکھ(مکمل تباہ) اور ایک لاکھ 60 ہزار (جزوی نقصان)کے حساب سے ادائیگی کی جارہی ہے ‘ جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی اورفوجی کاروائیوں کے باعث مکانات اور دکانوں کی تباہی کے علاوہ معاشی اور زرعی زندگیاں بھی متاثرہوئی ہیں‘حکومت بالخصوص ان تمام اداروں کے عہدیداروں کافرض بنتاہے کہ وہ قبائلیوں کو درپیش مشکلات اورمسائل کو خوش اسلوبی سے حل کرے ا ورایک ایسا لائحہ عمل اپنائے جس سے وطن عزیزکیساتھ پیارکرنے والے قبائلیوں کی عزت بحال ہواوروہ امن وسکون کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔