بریکنگ نیوز
Home / کالم / رحیم اللہ یوسفزیٰ / افغان قیام امن: غیر فوجی حل!

افغان قیام امن: غیر فوجی حل!

افغانستان میں قیام امن کیلئے بالآخر روس بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کوششوں میں شریک ہو گیا ہے جو افغانستان میں قیام امن کا غیرفوجی حل تلاش کرنے کیلئے جاری ہیں لیکن ماضی میں اس قسم کی کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہونے کی وجوہات بھی زیرنظر رہنی چاہئیں کہ جب تک امن کی خواہش رکھنے والی خطے کی دیگر بڑی قوتوں کو بھی شریک سفر نہیں کیا جائیگا اس مرتبہ بھی کوشش ناکافی ہی ثابت ہو گی افغان سرزمین پر قیام امن کیلئے دو بنیادی فریق ہیں ایک تو عالمی برادری کی حمایت یافتہ افغان حکومت ہے اور دوسرا مسلح مزاحمت کار افغان طالبان گروپ ہے اور ان دونوں کو ہی مذاکراتی میز پر اس امید کیساتھ لانا ہوگا کہ وہ امن کیلئے امکانات میں اضافہ اور ان سے بیرونی طاقتوں کی طرح استفادہ کرنے میں گرمجوشی سے حصہ لیں۔روس کے صدر مقام ماسکو میں 14 اپریل سے افغانستان سے متعلق ایک کانفرنس کا انعقاد ہونے جا رہا ہے جس میں شرکت سے امریکہ نے پہلے ہی معذرت کر دی ہے اور اگرچہ امریکہ کی جانب سے مذکورہ کانفرنس میں شریک نہ ہونے کا باقاعدہ اعلان تاحال سامنے نہیں آیا لیکن اس قسم کے واضح اشارے ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے امریکی اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے امریکہ کا مؤقف کا ہے کہ وہ کانفرنس میں شرکت اس وجہ سے نہیں کرے گا کہ روس نے کانفرنس کے بارے میں اس سے قبل ازیں مشاورت نہیں کی اور اسے صرف مدعوکیاگیاہے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماسکو میں طلب کی گئی کانفرنس سے جڑے روس کے درپردہ اغراض و مقاصد بھی واضح نہیں تاہم امریکہ مستقبل میں روس کیساتھ ایسی کسی مشترکہ امن کانفرنس میں شریک ہونیکاعندیہ دے چکا ہے جس سے افغانستان میں جاری سولہ سالہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہو اس سلسلے میں امید ہے کہ امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ ریکس ٹیلیرسن جو اپریل میں روس کا دورہ کرنے جا رہے ہیں‘ ۔

اپنے روسی ہم منصب اور قیادت سے افغانستان میں قیام امن سے متعلق بھی تبادلۂ خیال اور عالمی طاقتوں کے کردار و ذمہ داریوں سے متعلق بات چیت کریں گے امریکہ کے بناء اگر افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے کوئی بھی کانفرنس ہوتی ہے تو اسکی کامیابی کے لئے زیادہ پرامید نہیں ہوا جا سکتاکیونکہ امریکہ کا اثرورسوخ افغانستان کی داخلی سیاست اور فیصلہ سازی میں ڈھکی چھپی بات نہیں امریکہ یہ بھی نہیں چاہے گا کہ خطے میں روس کا کردار و اہمیت بڑھے جو پہلے ہی مشرق وسطیٰ بالخصوص شام میں صدر بشارالاسدکا حامی ہے اور روس ہی کی وجہ سے بشارالاسد کی حکومت برقرار ہے‘ جس سے اسکا خطے میں ایک اہم کردار ہے بہت سال پہلے روس عالمی سیاست میں اِس قسم کا کلیدی کردار ادا کر رہا تھا لیکن پھر شکست و ریخت کے بعد ولادی میر پیوٹن کے دور میں روس کی طاقت میں بحالی اور ساکھ میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔روس کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششوں کا حصہ بننے کا عمل نپا تلا اور سوچا سمجھا ہے روس اس سے قبل دسمبر میں چین اور پاکستان کیساتھ ملکر کانفرنس کر چکا ہے جسکامقصد افغانستان سے متعلق ان ممالک کی حکمت عملیوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا تھا اور اس کے ساتھ یہ مشترکہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ طالبان قیادت کیخلاف اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی پابندیاں ہٹائی جائیں تاکہ انہیں امن مذاکراتی عمل میں شریک کیا جا سکے ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ دو عالمی طاقتوں نے یہ مطالبہ کیا ہو ماسکو میں ہوئی دوسری کانفرنس کا انعقاد فروری میں ہوا‘ جسے توسیع دیتے ہوئے اس میں بھارت سمیت تین ممالک افغانستان اور ایران کو بھی شریک کر لیا گیاروس نے مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ کو ’افغانستان میں قیام امن اور تعمیروترقی کے عمل سے الگ رکھنے کا ایک جواز بھی روس کے ہاتھ تھا کیونکہ اس نے اپنی میزبانی میں طلب کی گئی کانفرنسوں کو علاقائی تعاون کی حد تک محدود رکھادسمبر دوہزار سولہ میں طلب کی گئی پہلی کانفرنس کے بعد روسی حکومت نے اِس مشاورتی عمل کو وسیع کرنیکا فیصلہ کیا اور14اپریل کی کانفرنس کو زیادہ بڑے پیمانے پر کرنے کا فیصلہ کیا۔

چودہ اپریل کو طلب کی گئی ماسکو کانفرنس میں افغانستان کی شرکت مشکوک قرار دی جارہی تھی تاہم افغان حکومت کی جانب سے وضاحت سامنے آنے کے بعد یقین ہے کہ وہ ماسکو کانفرنس میں ضرور شرکت کریگاافغانستان کا ماننا ہے کہ افغان سرزمین پر قیام امن کی کوئی بھی کوشش یا مشاورت کیسے مکمل ہو سکتی ہے اگر اس میں خود افغان حکومت کی نمائندگی موجود نہ ہو افغانستان میں قیام امن کیلئے برطانیہ کا اپنا لائحہ عمل ہے جو افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوششیں کرتا رہا ہے اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کی اپنے افغان ہم منصب محمد حنیف اتمر سے مارچ کے دوران برطانیہ کے شہر لندن میں ملاقات بھی ہوئی یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ کی شہ پر برطانیہ افغان امن کی کوششوں میں نئے دور کا آغاز کرے تاکہ روسی اثرورسوخ کم کیا جاسکے اور اس کا درپردہ یہ مقصد بھی ہو سکتا ہے کہ پاک افغان خطے میں مغربی ممالک کا اثرورسوخ برقرار رہے سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پاکستان اور افغان رہنماؤں کے درمیان برطانیہ میں ملاقاتیں کروا چکے ہیں لیکن اس کوشش کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے لندن میٹنگ کے فوراً بعد پاکستان نے 32دن تک بند رہنے والی افغان سرحد کھول دی اگرچہ ابھی تک افغانستان نے پاکستان کے تحفظات دور نہیں کئے لیکن وزیراعظم نواز شریف نے یک طرفہ خیرسگالی کے طور پر پاک افغان سرحد کھولنے کا اعلان کیا۔سردست یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ روس اور برطانیہ کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں سے کسی قسم کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے روس کی کوشش ہے افغان حکومت اور طالبان ایک دوسرے سے بات چیت کریں جبکہ برطانیہ پاک افغان تعلقات میں بہتری چاہتا ہے جہاں تک روس کی کوششوں کی کامیابی کا تعلق ہے تو وہ اپنے طورپر جو کچھ بھی کر رہا ہے اس سے زیادہ توقعات اسلئے وابستہ نہیں کی جا سکتیں کیونکہ روسی افواج کی افغانستان میں موجودگی نہیں اور اسکا اثرورسوخ بھی ویسا نہیں جیسا کہ امریکہ کابل اسلام آباد یا دیگر جگہوں پر رکھتا ہے لیکن اسکے باوجود وہ ماہ فروری کے دوران کامیاب ہوا کہ خطے کے چھ ممالک کو ماسکو میں ایک دوسرے کے روبرو بٹھا سکے اور اب بارہ ممالک کو افغان قیام امن و استحکام جیسے بنیادی نکات پر چودہ اپریل سے ایک دوسرے کے پاس لا رہا ہے تو یہ کوشش اپنی جگہ غیرمعمولی ہے جس سے اگر کچھ بھی حاصل نہ ہو لیکن کم سے کم اتنا تو ضرور ہوگا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں قیام امن کیلئے کسی فوجی حل کی بجائے بات چیت کی جانب اپنی توجہات پھر سے مبذول کرنیکی ضرورت محسوس کریں گے۔ (بشکریہ: دِی نیوز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)