بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / چوہدری نثار کی وضاحتیں

چوہدری نثار کی وضاحتیں


وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 1 لاکھ 79 ہزار شناختی کارڈ60 روز کیلئے بحال کرنے کیساتھ اہم امور پر حکومتی پالیسی کے نمایاں نکات پیش کئے۔ وزیرداخلہ اس بات کا عندیہ بھی دے رہے ہیں کہ ڈان لیکس سے متعلق قائم کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے جس کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جا رہی ہے۔ سابق صوبائی مشیر نواب لغاری سے متعلق بھی حقائق وہ بہت جلد سامنے آنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ کلبھوشن تک قونصل رسائی سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ بھارتی درخواست اس لئے مسترد کی گئی کہ کلبھوشن عام شہری نہیں بلکہ جاسوس ہے۔ کرنل (ر) حبیب طاہر کیس سے متعلق وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو بھی 15 روز تک منطقی انجام تک لے جائیں گے۔ کرنل (ر) حبیب طاہر کے کیس میں ایک تیسرے ملک کی سرزمین استعمال کی گئی ہے اس کیس میں ایک شخص کو دھوکہ دے کر اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھایاگیا ہے ۔ قابل اطمینان ہے کہ نیپال اس سارے معاملے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاہم عالمی برادری کو بھی اس کا نوٹس لیناچاہئے۔ جہاں تک معاملہ بلاک شناختی کارڈ وں کی بحالی کا ہے تویہ مسئلہ1978ء سے پہلے کے کارڈ ڈومیسائل اور تعلیمی اسناد کی روشنی میں نمٹانے کا عندیہ دے دیاگیا ہے۔ وزارت داخلہ اور نادرا کے پاس مہیا اعداد وشمار کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد کارڈ بلاک ہوئے جن میں غیر ملکیوں کو جاری ہونے والے ایک لاکھ75 ہزار سے زائد کارڈ منسوخ کر دئیے گئے۔

بحال ہونے والے کارڈ ہولڈرزسے اپنے کوائف کی 60 روز میں تصدیق کرانے کا کہا گیا ہے۔ وزیرداخلہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ماضی میں لاکھوں غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ جاری ہوئے۔ وطن عزیز کے اپنے شہری خدمات کے فقدان کے باعث شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کیلئے قطاروں میں لگے رہتے ہیں ایسے میں لاکھوں غیر ملکی خاموشی کیساتھ پاکستان کاکارڈ لے جاتے ہیں۔ وزیرداخلہ صرف کارڈوں کو منسوخ کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ آئندہ کیلئے ایسے کارڈز اور پاسپورٹ کے اجراء کا راستہ بھی بلاک کریں۔ شناختی کارڈ بے توقیر کرنا قومی جرم ہے جس میں ملوث لوگوں سے پوچھ گچھ بھی ضروری ہے۔

ہیرٹیج ٹریل منصوبے کی منظوری

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی دارالحکومت کی عظمت رفتہ کی بحالی کے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ ہیرٹیج ٹریل پراجیکٹ کے خدوخال پشاور کو ایک تصوراتی شہر بنانے والے دکھائی دیتے ہیں۔ منصوبے کی تفصیلات میں اندرون شہر وہیکل ٹریفک پر پابندی سڑکوں اور بازاروں میں ٹف ٹائلز، سروسز کی فراہمی کیلئے زیرزمین پائپ اور تاریں بچھانے کا انتظام سب ایک اچھے وژن کا عکاس ہے تاہم دوسری جانب ایک خدشہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے حوالے سے ماضی کے تجربات کی روشنی میں اپنی جگہ موجود ہے دوسرا یہ کہ ہیرٹیج پراجیکٹ کے ساتھ شہر کی صفائی، تعمیر وترقی اور خدمات کی فراہمی کے ذمہ دار اداروں کے مہیا وسائل اور افرادی قوت کا استعمال ہے اس وقت صوبائی دارالحکومت کا حلیہ بگڑا ہوا ہے جی ٹی روڈ کیساتھ بعض دیگر سڑکوں پر صفائی کا کچھ اہتمام ضرور نظر آتا ہے تاہم اس سے ہٹ کر صورتحال اصلاح احوال کا تقاضا کرتی ہے حکومت ہیرٹیج منصوبے میں جب تمام محکموں کو یکجا کر رہی ہے توکیوں نہ صفائی اور دیگر خدمات کے کام میں بھی سارے محکموں کی افرادی قوت اور وسائل یکجا کر دئیے جائیں۔