Home / اداریہ / قومی بجٹ ٗترجیحات کا تعین

قومی بجٹ ٗترجیحات کا تعین

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 2017-18ء کا قومی بجٹ 26مئی کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے لئے تیاری کا کام مزید تیز کردیا گیا ہے اس سال میزانیہ رمضان المبارک کے باعث وقت سے پہلے پیش کیا جا رہا ہے موجودہ حکومت کا اپنی مدت انتخاب میں یہ آخری بجٹ ہوگا۔ قومی بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب ملکی معیشت کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی ہوئی ہے ایک قرضے کی قسط چکانے کے لئے دوسرا قرضہ لیا جاتا ہے ٗ توانائی کا بحران چیلنج کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ پر عوامی ردعمل بڑھتا جا رہا ہے گیس کے کیس میں سندھ حکومت وفاق کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہی ہے بجلی کے گردشی قرضے پھر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں آئل کمپنیاں مشکلات کا شکار ہیں دوسری جانب اقتصادی اعشاریوں میں بہتری بھی ریکارڈ کا حصہ ہے سٹاک ایکس چینج کے پوائنٹس ہوں یا زرمبادلہ کے ذخائر ان کا گراف بڑھا ہے سرمایہ کاری کے لئے اقدامات بھی قابل اطمینان سہی تاہم اس حقیقت سے صرف نظر بھی ممکن نہیں کہ مہنگائی کے ہاتھوں عام شہری کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اس شہری کو لوڈشیڈنگ کے ساتھ قرضے دینے والوں کی ڈکٹیشن پر بننے والے بھاری یوٹیلٹی بل بھی ادا کرنے پڑ رہے ہیں اس شہری کو بنیادی سہولیات نہ ملنے کا گلہ بھی ہے اسے تعلیم اور علاج کے اداروں پر بھی اعتماد نہیں جس کے باعث وہ معمولی استطاعت رکھنے پر بھی نجی شعبے کا رخ اختیار کرتا ہے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے باعث صنعتی و تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے پر عوامی مشکلات کی شرح نسبتاً زیادہ ہے اس صوبے کے پن بجلی منافع کی مد میں بقایاجات اور ریگولر اقساط کی ادائیگی مشکلات کے حل میں معاون ہو سکتی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے صوبے کے تحفظات اپنی جگہ ہیں اس سارے منظر نامے کا تقاضا ہے کہ حکومت اگلے میزانیہ میں برسرزمین حقائق کو مدنظر رکھے اور بجٹ ترجیحات کا درست تعین کیا جائے ٹیکس کا بوجھ عام شہری پر کم سے کم ہونا چاہئے جبکہ ٹیکس نیٹ پر نظر ثانی بھی ناگزیر ہے عوام پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کی بجائے غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جائے سمگلنگ کی روک تھام یقینی بنائی جائے اور ٹیکس ریکوری کے نظام میں بہتری لائی جائے حکومت کے فنانشل منیجرز کو یہ بات مدنظر رکھنا ہوگی کہ اگر ہم نے ارضی حقائق اور ضروریات سے صرف نظر کرتے ہوئے حسب سابق اعداد و شمار پر اکتفا کرتے ہوئے پیچیدہ بجٹ پیش کیا تو عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اس سب کے ساتھ حکومت کو19سال کے بعد ملک میں ہونے والی مردم شماری کے حاصل اعداد و شمار کی روشنی میں پلاننگ یقینی بناناہوگی۔ مرکزاور صوبوں میں برسراقتدار حکومت کو یہ بات ہر صورت مدنظر رکھنا ہوگی کہ عام شہری کو کسی ایسے حکومتی اعلان ٗاقدامات یا منصوبے کے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی جس میں براہ راست اسے ریلیف نہ مل سکے ٗ یہ ریلیف اسی صورت ممکن ہے جب مرکز اور صوبے پالیسیوں کی تشکیل کے ساتھ ان پر عمل درآمد کا فول پروف نظام وضع کرلیں اس میں مارکیٹ کنٹرول کے حوالے سے اہم مجسٹریسی نظام کی بحالی ہے جو جنرل مشرف کے دور میں ضلعی حکومتوں کا سسٹم آنے پر ختم کردیا گیا تھا اس کے ساتھ ہی مارکیٹ پر سے ایڈمنسٹریشن کا کنٹرول ختم ہوگیا اور نہ صرف مہنگائی نے زندگی اجیرن کی بلکہ اس کے ساتھ ملاوٹ نے انسانی صحت کو بھی بری طرح متاثر کرنا شروع کردیا ہے اس لئے مرکز اور صوبوں کو مارکیٹ کنٹرول کے مؤثر نظام کی بحالی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ کنٹرولڈ مارکیٹ ہی عوام کو تبدیلی کا خوشگوار احساس دے سکتی ہے۔