بریکنگ نیوز
Home / کالم / جاسوس‘ جھوٹ اورنا قابل تردید ثبوت!

جاسوس‘ جھوٹ اورنا قابل تردید ثبوت!


پاکستان نے تین مارچ دوہزار سولہ کو ایک بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو اُس وقت گرفتار کیا جب وہ ہمسایہ ملک ایران سے صوبہ بلوچستان میں داخل ہو رہا تھا‘ کسی غیرملکی جاسوس اور وہ بھی حاضر سروس فوجی اہلکار کی یوں گرفتاری باآسانی گرفتاری سے زیادہ حیران کن امر یہ تھا کہ اُس جاسوس نے سب کچھ اگل دیا۔ تیس مارچ دوہزار سولہ کو‘ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں کلبھوشن یادو کو یہ بات تسلیم کرتے دکھایا گیا کہ وہ بلوچستان اور کراچی میں اشتعال انگیزی اور دہشت گردی پھیلانے میں ملوث رہا ہے۔ اقراری ویڈیو کے مطابق وہ بھارتی نیوی کا افسر ہے اور پھر اُس نے بھارت کے خفیہ ادارے ’’را‘‘ کیلئے کام کرنا شروع کیا۔ رواں سال دس اپریل کو‘ پاکستان آرمی کی کورٹ مارشل نے یادو کو جاسوسی اور دہشت گردی پھیلانے کے جرم میں موت کی سزا سنائی۔ اگرچہ اس کیس کو خاصی میڈیا کوریج حاصل ہوئی لیکن درحقیقت گزشتہ چھیالیس برس کے دوران یادو 14واں ایسا بھارتی جاسوس ہے جسے پاکستان کی جانب سے گرفتاری کے بعد سزا سنائی گئی ہے! ایسے کئی کیسز اب تو کافی مشہور ہیں مگر سب سے زیادہ متجسس کیس اُن دو بھارتیوں کا تھا جنہیں پاکستان کے چند حلقوں میں (اگرچہ تھوڑے ہی عرصے کیلئے ہی سہی) باقاعدہ ہیروز مانا جانے لگا تھا۔ جنوری 1971ء میں کشمیر کے دو نوجوانوں نے سری نگر سے انڈین ائرلائنز کا ایک جہاز اغوا کر لیا اور پائلٹ کو جہاز لاہور ائرپورٹ پر اتارنے کا حکم دیا۔

اغواکار ہاشم قریشی اور اس کا رشتہ دار اشرف قریشی تھے۔ دونوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا تعلق جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سے ہے۔ جہاز کو لاہور میں لینڈ کرنے دیا گیا۔ سینئر صحافی اور کالم نگار مرحوم خالد حسن نے اپریل 2003ء میں (دی فرائیڈے ٹائمز میں) لکھا کہ لاہور ائرپورٹ کے مرکزی دروازے پر جوشیلے ہجوم نے بھٹو کا استقبال کیا اور انکے حامیوں نے انہیں اغوا کاروں سے ملاقات کرنے اور انکے عمل کی ستائش کرنے پر زور دیا۔ حسن (جو اس وقت بھٹو کیساتھ سفر کر رہے تھے) یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے چند حامی انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر مغوی جہاز کی جانب لے گئے۔ بھٹو نے اغواکاروں سے ہاتھ ملایا‘ چند خوشگوار باتیں کیں‘ مگر پھر وہاں سے فوراً چلے گئے۔ اس وقت پاکستان میں جنرل یحییٰ خان کی مارشل لاٗ حکومت قائم تھی۔ ملک کا مشرقی حصہ‘ مشرقی پاکستان‘ خانہ جنگی کے دہانے پر تھا۔ حسن نے لکھا کہ بھٹو کو اس اغواکاری کے حوالے سے حکومتی مؤقف کا پتہ نہیں تھا۔ پاکستان کے چند حلقوں میں ان دو قریشیوں کو حریت پسند سمجھا جا رہا تھا‘ وہاں یحییٰ حکومت نے بڑی حد تک خاموشی اختیار کئے رکھی۔ طالب لکھتے ہیں کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما اور اشرف قریشی نامی اغواکار کو بھٹو کی آنے والی حکومت نے رہا کر دیا جبکہ دوسرے اغوا کار ہاشم قریشی کو نو سال بعد 1980ء میں جنرل ضیاء الحق کی آمرانہ حکومت کے دوران رہا کیا گیا۔ بعدازاں ہاشم نے دعویٰ کیا کہ جہاز کے اغوا کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تھا۔

ہاشم کے اس دعوے کے تیرہ سال بعد ’’را‘‘ کے ایک سابق سینئر جاسوس‘ آر کے یادو نے دوہزار چودہ میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’’مشن را‘‘ میں لکھا کہ: ’’را نے ہاشم قریشی کو اپنے لئے کام کرنے پر راغب کیا۔ منصوبے کو آخری شکل دینے کے بعد ہاشم کو ایک دوسرے جاسوس اشرف قریشی کے ساتھ انڈین ائر لائنز کی ایک پرواز کو اغوا کر کے لاہور لے جانے دیا گیا۔ ’’را‘‘ نے ہی ہاشم کو جہاز کے اندر ایک گرینیڈ اور ایک کھلونا پستول لے جانے میں مدد کی۔ لاہور ائرپورٹ پر موجود پاکستانی حکام کو جب یہ بتایا گیا کہ جہاز کو کشمیری حریت پسندوں نے اغوا کیا ہے تو انہوں نے جہاز کو لاہور میں اترنے دیا۔ آل انڈیا ریڈیو نے جلد ہی اس اغوا کاری کی خبر نشر کردی اور پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ جہاز کے اغوا میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اس واقعہ نے بھارت کو بڑے آرام سے پاکستان کی پروازوں کو منسوخ کرنے کا موقع فراہم کر دیا‘ جس نے یحییٰ خان کے مشرقی پاکستان میں بذریعہ ہوائی جہاز فوجی بھیجنے کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈال دی۔ ان دو آدمیوں پر یحییٰ کا شک درست تھا۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: ندیم ایف پراچہ۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)