بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی ہتھکنڈے

سیاسی ہتھکنڈے

معاملہ کراچی سے شروع ہوا۔ایم کیو ایم کے بہت سے حربوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اُن کے لوگ اٹھائے جا رہے ہیں۔ان گم شدہ لوگوں پر ایم کیو ایم نے کافی سیاست کی۔ پھر آہستہ آہستہ پتہ چلتا گیاکہ لوگ کہاں جا رہے ہیں اور ایم کیو ایم کیوں شور مچاتی ہے۔کئی لوگ جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے وہ غائب ہوئے اور بعد میں کوئی جنوبی افریقہ سے بولتا سنائی دیا تو کسی نے ہندوستان میں را کے سائے میں پناہ لی اور کوئی بانی بھائی کے ہاں انگلستان میں پایا گیا۔جانیوالوں کا اپنی قیادت کو تو پتہ تھا مگر شور ایسے مچایا جارہا تھا کہ جیسے رینجرز یا خفیہ ایجنسیوں نے یہ لوگ اٹھائے ہیں ۔ تقاضہ بار باریہی تھا کہ ہمارے جن لوگوں کو اُٹھایا جا رہا ہے اُن کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ سچ جھوٹ کا پتہ چلایا جا سکے۔ اس میں کچھ تنظیموں نے باقاعدہ گم شدگان کے حوالے سے دھرنے بھی دیئے اور ایک محترمہ جن کے خاوند لا پتہ تھے ایسی ایک تنظیم کی سربراہ بھی تھیں اور شاید اب بھی ہیں‘گم شدہ لوگو ں کی گمشدگی میں ایجنسیوں کو ملوث ہونے کے دعوے کئے گئے مگر صاف ظاہر ہے کہ جب کوئی حکومتی ایجنسی کسی کو اٹھائے گی تو اُس کو مار کر سڑکوں پر نہیں ڈالے گی اس لئے کہ اُس نے تو قانون کی پاسداری کرنی ہوتی ہے۔ اور اگر کسی کو ایسی ایجنسی پکڑتی ہے تو وہ اُس سے معلومات لیتی ہے اور اگر کوئی بے گناہ ہو تو اُسے باقاعدہ کورٹ کے ذریعے واپس بھیجتی ہے‘ کچھ عرصہ پہلے تک کہ جب تک ہندوستان کے ہاتھ ظاہر نہیں ہوئے تھے بلوچستان میں را کے کئی ایجنٹ تنظیمیں بنا کر لوگوں کو اٹھاتے اور اُن کو قتل کر کے الزام حکومتی اداروں پر تھونپتے تھے تا کہ اُن کے عزائم پورے ہو سکیں ۔ کلبھوشن کے پکڑے جانے کے بعد فراریوں کو بھی معلوم ہو گیا کہ وہ دشمن کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں اور ان کی بقا پاکستان میں ہی رہنے سے ہے۔اسی لئے جوق در جوق فراری حضرات حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال رہے ہیں۔

ہم جتنے بھی اپنی حکومتوں سے ناراض ہوں ہم کسی دشمن کے ہاتھ میں کھیل نہیں سکتے۔ خود ایم کیو ایم کے لوگوں پر جب ظاہر ہوا کہ الطاف حسین در اصل را کا ایجنٹ ہے تو انہوں نے بھی الطاف حسین کے ہاتھوں کھیلنے سے توبہ کر لی۔اصل بات یہ ہے کہ کوئی بھی مسلمان پاکستانی را کے ہاتھوں میں کھیل نہیں سکتا۔گو ہماری بھی کچھ کمزوریاں ضرور ہیں جن کو دشمن ایک کی سو بنا کر پیش کرتا ہے اور ناسمجھ یا ستائے ہوئے لوگ انکے جال میں پھنس جاتے ہیں‘ یہ بھی سچ ہے کہ جس نظام میں ہم جی رہے ہیں اس میں بہت سے مقامات پر جنگل کا قانون ضرور ہے جس کی وجہ سے لوگ حکومتوں سے ناراض ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ حکومتوں کا نہیں بلکہ افراد کا کام ہوتا ہے۔مگر انصاف نہ ملنے کی وجہ سے کچھ لوگ بد راہ ہو جاتے ہیں۔ اب کچھ اور اٹھائے جانے کے واقعات ہو رہے ہیں جن میں سے ایک کچھ یوں ظاہر ہوا ہے کہ میڈیکل کی ایک طالبہ جس کے والد بھی پروفیسر ہیں غائب ہو گئی۔ پہلی نظر تو ایجنسیوں ہی کی جانب گئی مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک سیکنڈ ایئر میڈیکل کی طالبہ سے آخر ایجنسیوں کا کیا کام پڑ سکتا ہے۔ مگر ایک آپریشن میں وہ داعش کے کارندوں کے ہاں سے بازیاب ہوئی جہاں وہ خود اپنی مرضی سے گئی تھی۔اسی طرح کی اور بھی کچھ گم شدگیاں ہیں جن کو پی پی پی کیش کروا رہی ہے اور جیسا کہ کافی عرصہ سے پی پی پی اور وزیر داخلہ کا قصہ چل رہا ہے یہ گم شدگیاں بھی اسی کھاتے میں ڈالی جا رہی ہیں۔اور جناب زرداری صاحب فرما رہے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کی گم شدگی سے گھبرانے والے نہیں اور گھبرانا بھی نہیں چاہئے اسلئے کہ بلاول ہاؤس کراچی اور لاہور میں رہائش کی کافی گنجائش ہے۔

ہم سندھ کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس بات پر یقین کرنے سے گریزاں ہیں کہ سندھ کے کسی بھی اندرونی علاقے سے پی پی پی کی قیادت کی خواہش کے بغیر ایک پتہ بھی ہل جائے۔ جب تک کوئی وڈیرہ نہ چاہے کوئی شخص اُس کی مرضی کے بغیر اٹھایا ہی نہیں جا سکتا۔ہم نے دیکھا اور سنا ہے کہ اگر سندھ کے کسی بھی علاقے سے ایک سوئی بھی گم ہو جائے تو اُس علاقے کے وڈیرے کو اس کا معلوم ہوتا ہے کہ کس نے اٹھائی ہے۔اگر آپ پردیسی ہیں اور آپ کی سندھ کے کسی بھی علاقے میں کوئی چیز چوری ہو گئی ہے تو آپ بغیر جھجک کے اُس علاقے کے وڈیرے کے پاس چلے جائیں وہ آپ کو وہ چیز بازیاب کروا دے گا اس لئے کہ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اُس ے علاقے میں یہ واردات کون کر سکتا ہے۔۔ یہ تو ماننے کی بات ہی نہیں ہے کہ ایک نامی گرامی آدمی اندرون سندھ سے اغوا ہو اور اُس علاقے کے وڈیرے کو معلوم نہ ہو۔تو بجائے وزارت داخلہ پر الزام لگا نے کے آپ اُس علاقے کے وڈیرے سے معلوم کریں کہ آپ کے آدمی کہاں ہیں آپ کو معلوم ہو جائے گا۔