بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جماعت پنجم تک قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل منظور

جماعت پنجم تک قرآن پاک کی لازمی تعلیم کا بل منظور


اسلام آباد ۔قومی اسمبلی نے وفاقی تعلیمی اداروں میں قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دینے کے حوالے سے قرآن پاک کی لازمی تعلیم بل 2017 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی،وفاقی وزیر برائے مذہبی امورو بین المذاہب آہنگی سردار یوسف نے کہا کہ بل کی منظوری سے عوام کی دیرینہ خواہش اور بنیادی ضرورت پوری ہوگئی ہے،تمام صوبوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی یہ بل منظور کریں جبکہ وزیرمملکت برائے تعلیم انجینئر بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ یہ ایک تاریخی بل ہے،بل کی منظوری دینی اور آئینی فریضہ تھا جو حکومت نے پورا کیا ہے،بل کے تحت پہلی سے پانچویں جماعت تک قرآن پاک کی ناظرہ تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ چھ ویں جماعت سے 12 ویں جماعت تک قرآن پاک کا آسان ترجمہ پڑھایا جائے گا۔

اس سے قرآن پاک کو سمجھ کر عمل کرنے میں آسانیاں پیدا ہوں گی تمام مسالک نے بل کی حمائت کی ہے اور سراہا ہے،بل کا اطلاق وفاق کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں پر ہوگا،بل کا اطلاق مسلمان تعلیمی اداروں پر ہوگا،بل کا اطلاق مسلمان طالب علموں پر ہوگا،غیرمسلموں پر نہیں ہوگا۔بدھ کو وزیرمملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمان نے بل اسمبلی میں پیش کیا،لیکن پاکستان پیپلزپارتی کی رکن شگفتہ جمانی نے کورم کی نشاندہی کردی،گنتی کے بعد کورم مکمل نکلا جس کے بعد بل کی شق وار منظوری دی گئی،ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے بل پیش ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے کورم کی نشاندہی پر افسوس کا اظہار کیا۔وفاقی وزیر برائے مذہب امور و بین المذاہب سردار یوسف نے کہا کہ بل کو پیش کرکے عوام کی دیرینہ خواہش کو پورا کیا،اراکین پارلیمنٹ،وزارت تعلیم اور وزیر تعلیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،اس کا کریڈیٹ حکومت کو جاتا ہے،قرآن کی تعلیم بنیادی ضرورت ہے اور پرائمری سکول سے شروع کیا جارہا ہے،۔

بل سے قرآن کی تعلیم کی ضرورت پوری ہوگی،وزارت تعلیم صوبوں کو منتقل ہوچکی ہے،تمام صوبوں کی اسمبلیوں سے گزارش ہے کہ اس بل کو متفقہ طور پر منظور کرائیں،قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے گا۔جماعت اسلامی کے رکن صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ حکومت نے اچھا کام کیا یہ قوم یاد رکھا جائے گا۔ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے کہا گذشتہ کئی روز سے اجلاس ملتوی ہونے کی وجہ سے بل پیش نہیں ہوسکا لیکن آج پاکستان پیپلزپارٹی کو بل پیش ہونے کے بعد کورم کی نشاندہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔نعیمہ کشور نے کہا کہ یہ ایک اچھا قدم ہے،اچھا ہم اسلامی تعلیمات سے دور ہورہے ہیں،موجودہ حالات میں اچھال بل ہے ۔

اس پر عملدرآمد سے مثبت نتائج آئیں گے،قرآن کی تعلیم کو لاگو کرنے میں مدد ملے گی،حکومت کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قرآن کی تعلیمات پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جانا چاہیے،قرآن کا احترام ضروری ہے۔امیر اللہ مسروت نے کہا کہ آج بڑی خوشی ہوئی ہے کہ اہم بل منظور ہوا ہے،تمام ارکان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔راجہ جاوید اخلاص نے کہا کہ آج اہم بل پاس ہوا ہے،امت مسلمہ مسائل کا شکار ہے،قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل سے مسائل کا حل ممکن ہے،یہ ایک بنیادی قدم اٹھایا گیا ہے۔شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ آج اللہ کے حکم اور حضورؐ کی سنت پر عمل کیا ہے،والدین پر فرض ہے کہ بچوں کو ضروری بنیادی تعلیم دی جائے،اللہ سب کو اس کی جزائے خیر دے گا۔

وزیرمملک برائے تعلیم انجینئر بلیغ الرحمان نے کہا کہ بل کی منظوری ہماری دینی اور آئینی فریضہ ہے آئین کے تحت بنیادی ذہنی تعلیم ضروری ہے،اللہ کا شکر گزار ہیں کہ اس نے یہ سعادت بخشی،وزیراعظم کے شکرگزار ہیں جنہوں نے کابینہ سے منظوری کرائے،قائمہ کمیٹی کے چیئرمین امیراللہ مسروت،صاحبزادہ طارق اللہ کے شکرگزار ہیں سب نے بل پر کام کیا،پرائمری سطح پر ناظرہ قرآن پاک لازمی قرار دی گئی ہے،چھ ویں سے 12ویں تک قرآن کا آسان ترجمہ پڑھایا جائے گا۔

قرآن کے ترجمہ پڑھانے سے تربیت میں بہتری آئے گی اور قرآن پر عمل میں آسانی آئے گی،اسلامی نظریاتی کونسل کے تعاون پر شکرگزار ہیں،ملک کے تمام مکتبہ فکر اور مسالک نے اس بل پر خراج تحسین پیش کیا،امید ہے صوبے بھی جلد یہ بل پیش کریں گے،بل کا اطلاق وفاق میں پرائیویٹ اور نجی تعلیمی اداروں میں ہوگا،یہ تاریخی بل ہے،منظوری پر سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،بل صرف مسلمان طلبہ پر لاگو ہوگا،غیرمسلم پاکستانیوں کیلئے اسلامیات پڑھنا لازمی نہیں ہے،غیرمسلم یکساں پاکستانی ہیں،زبردستی غیرمسلم کو پڑھانے کی کوششوں کو حکومت برداشت نہیں کرے گی۔