Home / کالم / تدبیر کند بندہ

تدبیر کند بندہ

بہت سے کام جسکی انسان کوئی پلاننگ کرتا ہے اس کیلئے بہت سی شماریات اکٹھی کرتا ہے اسکے مطابق آگے چلتا ہے مگر بہت دفعہ ان کاموں میں ناکامی کا منہ دیکھتا ہے جن میں فطرت کا ہاتھ ہوتا ہے وہ کام جن میں فطرت بلاواسطہ نہیں ہوتی وہاں آپ شماریات کے بھروسے پر اقدامات کر لیں تو آپ کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں مگر جہاں ایسا نہ ہو تووہاں کامیابی اور ناکامی کے امکانات برابربرابر ہوتے ہیں اسی لئے معاشیات میں جب کوئی پیشگوئی کی جاتی ہے تو اس میں ایک فقرہ سے ضرور شروعات ہوتی ہے اور وہ کہ ’’ اگر باقی چیزیں ویسی ہی رہیں ‘‘(Other things being the same) ۔ ہمارے ہاں ہر پیش گوئی سے قبل انشا اللہ کہنے کا رواج اور حکم ہے یعنی اگر اللہ نے چاہا تو اس دفعہ ہماری گندم کی فصل اتنی ہو گی مگر ہم چونکہ زیادہ تر انگریز کی لائی ہوئی حکمت عملیاں اختیار کرتے ہیں اس لئے ہم کہہ دیتے ہیں کہ اس دفعہ گندم کا ہدف اتنا ہے یعنی ہم یہ یقین سے کہہ دیتے ہیں کہ ہماری گندم کی فصل اس دفعہ اتنے ہزار میٹرک ٹن ہو گی اور چونکہ اس میں فطرت بلا واسطہ اپنا ہاتھ رکھتی ہے اس لئے جب فصل کچھ اٹھتی ہے تو اس کو سیلاب آ لیتے ہیں یا خشک سالی اس قدر ہو جاتی ہے کہ دریاؤں اور نہروں میں پانی ختم ہو جاتا ہے اور فصل کی تباہی ہو جاتی ہے اور ہمارے ہدف دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور ان اہداف پر ’’ ٹھٹھے ‘‘ کرنے والے اگلی دفعہ ان ہی ٹھٹھوں کا ہدف بن جاتے ہیں۔

چار پانچ سال پہلے اسی ملک میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ اتنا زیادہ ہوا کہ لوگ چیخ اٹھے ۔ مرکز میں حکومت پی پی پی کی تھی جس کو نشانہ بناتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب شہباز شریف مینارپاکستان کے پاس احتجاجی دربار لگا کر بیٹھے اور دستی پنکھے جھلتے ہوئے دکھائی دیئے۔ آج اللہ کا کرنا دیکھئے کہ مرکز میں حکومت ن لیگ کی ہے اور پی پی پی کے کار کن اسی طرح پنکھے لے کر اسی میدان میں اسی لوڈ شیڈنگ کیخلاف دستی پنکھے لے کر احتجاج کا پروگرام بنا رہے ہیں جب سے ن لیگ کی یہ حکومت آئی ہے ہم بجلی کے کارخانوں کا شور سن رہے ہیں اور کل تک ہمیں بتایا جا رہا تھا کہ سسٹم میں سترہ سو میگا واٹ بجلی کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ہر روز کہیں سولر اور کہیں کوئلہ کی بجلی کے کارخانے بنانے اور چلانے کا ہنگامہ تھا مگر جونہی سورج نے آنکھیں دکھانی شروع کیں تو نہ کہیں سولر بجلی ہے اور نہ کہیں کوئلے سے بجلی حاصل ہو رہی ہے ۔شہری اسی طرح دہائیاں دے رہے ہیں جیسے وہ پچھلی حکومت میں دے رہے تھے در اصل وجہ یہ ہے کہ ہم انشا اللہ سے آگے نکل گئے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ ایسا ہی پھل دے گا جیسا ہم چاہ رہے ہیں مگر بات تو قدرت کے ہاتھ میں تھی اس لئے اس نے دریاؤں میں پانی کم کر دیا ڈیم جن پر ہماری بجلی کی پیداوار کا بڑا دارو مددار تھا وہ خشک ہو گئے اور وہاں سے بجلی آنی بند ہو گئی اور جو منصوبے پائپ لائن میں تھے وہ پائپ لائن میں ہی کہیں پھنس کر رہ گئے اور ہمارے پانی و بجلی او ر فوج کے وزیر فرما رہے ہیں کہ گرمی زیادہ ہو گئی ہے اسلئے بجلی ناپید ہو گئی ہے ان کو پہلے جب پی پی پی کی حکومت تھی تو معلوم نہ ہو سکا تھا کہ گرمی زیادہ ہوجائے تو بجلی کا شارٹ فال ہو جاتا ہے۔

سچی بات کہیں تو اس شارٹ فال میں عوام اور خصوصاً امراء کا بھی بڑا ہاتھ ہے ہم جب گھریلو بجلی لگواتے ہیں تو ہم بجلی کے محکمے کو یک ڈیمانڈ نوٹس دیتے ہیں کہ ہمارے گھر میں اتنے بلب جلیں گے اور اتنے پنکھے چلائے جائیں گے محکمہ بجلی اس حساب سے ہمیں ٹرانسفارمر لگا کر دیتا ہے اور اسی ٹرانسفارمر کے مطابق بجلی مہیا کرتا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جہاں ہم نے ایک بلب اور ایک پنکھے کی ڈیمانڈ بتائی تھی وہاں ہم نے ایک عدد اے سی اور ایک عد د ہیٹر بھی جلا لیا ہے تو اب محکمہ کیا کرے اور بجلی کیا کرے۔امراء کے گھروں کا تو یہ حال ہے ( خصوصاً ہمارے بیوروکریٹس اور بجلی کے محکے کے کارندے ) کہ گھر کے ہر کمرے میں ایک عدد اے سی اور پنکھا استعما ل کر رہے ہیں۔اس لئے کہ ان کی بجلی فری ہے نہ صرف یہ بلکہ وہ اپنے اڑوس پڑوس کو بھی مفت بجلی فراہم کر رہے ہیں اسی طرح ہمار ے شہروں خصوصاً کراچی لاہور فیصل آباد وغیرہ میں میٹروں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اس لئے کہ وہ بجلی کے کھمبوں پر کنڈے ڈال کر گھر میں بڑے بڑے ہیٹر اور اے سی چلا رہے ہوتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے یہی حال کار خانوں کا ہے وہ ایک خاص رقم میٹر ریڈروں کو دے دیتے ہیں اور مزے سے جتنی چاہے بجلی جلا لیتے ہیں اور حکومتیں ان ہی چھوٹے چھوٹے کارندوں پر چلا کرتی ہیں جو چند روپوں پر اپنا ضمیر بیچ کر قوم کو بھاری نقصان پہنچاتے ہیں اور جن میں ضمیر نام کی کوئی شے نہیں پائی جاتی اور ہماری اجتماعی سوچ یہ ہے کہ ہم سرکاری چیز کو اپنی چیز سمجھتے ہی نہیں ہیں حالانکہ یہ دراصل یہی ہماری ہی چیز ہوتی ہے۔