Home / پاکستان / زرداری نے پانامہ کیس فیصلہ مسترد کر دیا

زرداری نے پانامہ کیس فیصلہ مسترد کر دیا

اسلام آباد ۔سابق صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری نظر میں وزیراعظم کو اخلاقی طور پر استعفے دیدینا چاہیے، جو سپریم کورٹ نہ کر سکی وہ کیا وزیراعظم کے ماتحت لگے ہوئے 19 گریڈ کے افسر کر سکیں گے۔انہوں نے پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے چیرمین پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ نواز شریف کا بیان کیا تھانے میں لیا جائے گا یا افسران پی ایم ہاوس جاکر لیں گے،پیپلز پارٹی اور قوم کو ان ججز سے کبھی انصاف نہیں ملا ہے۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے عمران خان سے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ آو، قانون بنا کر سپریم کورٹ چلتے ہیں لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی، نا تجربہ کار ہیں، انہیں نہیں پتہ یہاں ججز کیسے انصاف چلاتے ہیں۔آصف زرداری نے کہا کہ آج پاکستان میں انصاف اور جمہوریت کا نقصان ہوا ہے اور پاکستانی عوام کو دھوکا دے کر بے وقوف بنایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو بات ہمارے سامنے آئی ہے اس پر ہمارا یہ تجزیہ ہے کہ سینئر ججوں نے بہترین فیصلہ دیا ہے تاہم جونیئر ججوں کی اکثریت نے عوام سے مذاق کیا ہے،دو سینئر ججوں نے کہہ دیا ہے کہ نوازشریف صادق اورامین نہیں رہے۔شریک چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو پتہ ہے کہ نواز شریف ، شریف نہیں ہیں ۔

اگر پاکستان نواز شریف کے ہاتھ میں محفوظ نہیں تو عمران خان کے ہاتھ میں بھی محفوظ نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے مایوس ہوا، میری نظر میں تو عمران خان نے نواز شریف کو بچالیا،اگر اعتزاز احسن عدالت میں کھڑے ہوکر دلیل دیتے تو کوئی اور بات ہوتی۔ زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو نااہل کرنے والے ججز کو سلام پیش کرتا ہوں مٹھائی بانٹنے والوں کو شرم آنی چاہئے کس بات کی مٹھائی بانٹی جا رہی ہے؟ کیا اس بات کی مٹھائی کھائی جا رہی ہے۔ 2 سینئر ججوں نے کہہ دیا ہے کہ آپ نااہل ہیں اور آپ صادق اور امین نہیں رہے۔ قوم کو یہ پوچھنا چاہئے کہ یہ کیسے ملا اور کس طرح ملا۔ سب کو فائدہ ہوا یہ سلسلہ مزید چلتا رہے گا۔ پیپلزپارٹی دوبارہ کہتی ہے کہ آج پاکستان میں جمہوریت اور انصاف کو نقصان ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ عوام کی بیوقوف بنایا گیا ہے۔ عوام کے ساتھ مذاق کیا جائے گا۔

ہم اس فیصلے کو دوبارہ پڑھیں گے۔ اس کے بعد اس پر تفصیلی تبصرہ کرینگے۔ عمران خان ناتجربہ کار سیاستدان ہیں۔ ان کو پتہ نہیں نہ وہ کبھی جیل گئے ہیں اور نہ ہی ایف آئی آر میں کوئی بیان لکھوایا ہے اور نہ ہی انہیں یہ پتہ ہے کہ یہاں جسٹس کس طرح چلتے ہیں اور جج یہاں کس طرح جسٹس چلاتے ہیں۔ اس لئے وہ نہیں سمجھ سکے انہوں نے اپنی شہرت اور سیاست چمکانے کے لئے ایک ڈرامہ کیا جس سے یہاں پیپلزپارٹی کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ پیپلزپارٹی یا قوم کو ان ججوں سے کبھی انصاف نہیں ملا۔ عمران خان کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ آپ سے ہم نے کہا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ آئیں۔ ہم مل کر پہلے قانون سازی کریں اور پھر اس قانون سازی کو لے کر سپریم کورٹ جائیں گے۔ انہوں نے ہماری بات نہیں مانی ۔ آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم دوسری جماعتوں کے لائحہ عمل اور عوام کی سوچ کو دیکھیں گے۔ عوام کی سوچ کو لے کر آگے چلیں گے ہم سمجھ رہے تھے کہ اگر پاکستان نوازشریف کے ہاتھ میں محفوظ نہیں ہے تو عمران خان کے ہاتھ میں بھی محفوظ نہیں رہے گا میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر کوئی بھی 25 سے 50 ہزار آدمی لے کر راستے میں آ جائے تو کیا میں اسے حکومت کا ترازو دے دوں۔ ایسا نہیں ہوتا۔ ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ضمنی الیکشن میں ضرور آئیں گے۔ آصف زرداری نے کہا کہ میں فیصلے کی مذمت ضرور کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی وہ فیصلہ کرے گی جو قوم کے مفاد ہو۔ قوم کے مفاد میں یہی ہے کہ میاں صاحب کو کسی بھی طریقے سے یہ باور کرا دیا جائے کہ آپ ناکام ہو چکے ہیں۔ آپ سے حکومت نہیں چل رہی۔ خدا کے واسطے آپ کسی اور کو موقع دیں وہ اگر پاکستان کو لیڈ کرے آپ نے پہلے 3 اور پھر 6 ماہ میں بجلی لانے کا وعدہ کیا تھا اب کہہ رہے ہیں کہ مجھے ووٹ دو 5 سال کے بعد بجلی لے آؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آپشن کھلے رہتے ہیں۔ ہم مولانا فضل الرحمن سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ ان کو چھوڑ کر ہماری طرف آ جائیں گے۔ ہم سب لوگوں کو بلاتے ہیں۔اس موقع پر سینٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ صادق اور امین نہ ہونے کے باعث 2 ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا ہے جبکہ باقی تین ججوں نے ان کی اس رائے کی تردید نہیں کی۔ 2 ججوں کی رائے دراصل سپریم کورٹ آف پاکستان کی رائے سمجھی جا سکتی ہے حالانکہ تین ججوں نے قوم کو مایوس کیا ہے جے آئی ٹی بنانا راہ فرار دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے بارے میں ہم پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ 1993ء سے سپریم کورٹ کی روایت یہ ہے کہ ان پر نرم ہاتھ دکھایا جاتا ہے۔ جب 1993ء میں نوازشریف کی اسمبلی کو کرپشن کے الزام میں برطرف کیا جاتا ہے تو سپریم کورٹ 6 ہفتے کے اندر اسمبلی کو بحال کر دیتی ہے جبکہ تین سال بعد 1996ء میں کرپشن کے مبینہ الزامات پر بے نظیر بھٹو کی اسمبلی برخاست ہوئی ہے تو اس وقت سپریم کورٹ یہ کہتی ہے کہ کرپشن کے الزامات پر اسمبلی معطل کی جا سکتی ہے۔ اصغر خان کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوتا جب ن لیگ نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تو ججز کی پچھلے دروازے سے بھاگنا پڑا آج تک ن لیگ والوں کا کچھ نہیں ہوا۔ 1999ء میں جب بے نظیر اور آصف زرداری کے خلاف ایک مقدمہ کا فیصلہ آتا ہے اور اس فیصلے کے خلاف اپیل ہوتی ہے، اپیل میں سپریم کورٹ میں آڈیو ٹیپ چلتی ہے جس میں سیف الرحمان ایک سینئر جج سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ آپ نے کل فیصلہ ضرور کر دینا ہے کیونکہ وزیراعظم چاہتا ہے کہ کل فیصلہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے جبکہ جج صاحب کہتے ہیں جی میں بالکل کروں گا۔ میاں صاحب کل تک موقع دے دیں۔ ہائیکورٹ لاہور سے بھی نوازشریف کے وزیر قانون کی ٹیپ چلتی ہے اس ٹیپ پر ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تین ججز فارغ ہوتے ہیں۔ میاں نوازشریف جن کے لئے وہ ساری گفتگو اور پیشکشیں کی جا رہی ہوتی ہیں ان کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ بدقسمتی سے یہ روایت جاری رکھی گئی ہے اس کی ہمیں پہلے سے توقع تھی ہم پہلے سے کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ کی نوازشریف پر نرم ہاتھ رکھنے کی پہلے سے روایت آج پھر ثابت ہو گیا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا یہ تجربہ بتاتا ہے اور آج ہمارا تجربہ سامنے آ گیا ہے کہ جب تک عدالت کے لئے حدود و قیود طے نہ کرا لیں اس وقت تک یہ عدالت میاں نوازشریف کا احتساب نہیں کر پائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے۔