بریکنگ نیوز
Home / صحت / نشہ آور جڑی بوٹی سے مرگھی کا علاج ممکن

نشہ آور جڑی بوٹی سے مرگھی کا علاج ممکن

نیویارک: ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مرگھی کا علاج نشہ آور جڑی بوٹی کینابیس (قنب)سے ممکن ہے، اس جڑی بوٹی کے پتوں سے بھنگ یا حشیش بھی تیار کی جاتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق مرگھی ایک قابل علاج مرض ہے، جو دراصل ایک ذہنی بیماری ہے، اور دنیا بھر میں 55 کروڑ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔

مرگھی کا علاج مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے، دور دراز اور قدرے پسماندہ علاقوں میں اس مرض کو قابو کرنے کے لیے دیسی طریقے بھی اپنائے جاتے ہیں۔

تاہم حال ہی میں امریکی نیورو سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مرگھی کا علاج کینابیس (قنب)نامی نشہ آور جڑی بوٹی سے بھی ہوسکتا ہے۔

امریکن اکیڈمی آف نیورولاجی (اے اے این) کے مطابق کینابیس کے پتے مرگھی کے مرض میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے پتوں سے تیار کردہ نشہ آور پاؤڈر مرگھی کے دوروں میں کمی لاتا ہے۔

کینابیس کی جڑی بوٹی—فائیل فوٹو

تحیقق کاروں کی جانب سے مرگھی کے 225 مریضوں پر تجربہ کیا گیا، جن مریضوں پر تجربہ کیا گیا ان کی عمریں 16 سال کے ارد گرد تھیں۔

مریضوں کو 2 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا،ایک گروپ کویومیہ 20 گرام کینابیس سے تیار شدہ نشہ آور خوراک دی گئی، جب کہ دوسرے گروپ کو یہی خوراک یومیہ 10 گرام دی گئی۔

نتائج سے پتہ چلا کہ جن مریضوں کو یومیہ 20 گرام نشہ آور خوراک دی گئی، ان میں مرگھی کے دوروں میں 42 فیصد تک کمی آئی، جب کہ دوسرے گروپ کے دوروں میں بھی 37 فیصد کمی واقع ہوئی۔

نیورو سائنس دانوں کے مطابق یہ تجربہ ان مریضوں پر کیا گیا جنہیں ماہانہ بنیادوں پر 85 فیصد مرگھی کے دورے پڑتے تھے، اور تجربہ سے ثابت ہوا کہ کینابیس سے تیار شدہ دوائی مرگھی کے مرض میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ مرگھی ایک ایسا مرض ہے، جس میں مریض کو بے ہوشی کے دورے پڑتے ہیں، یہ بیماری یا تو موروثی ہوتی ہے، یا پھر کسی واقعے کے بعد لاحق ہوتی ہے۔

یہ دماغی بیماری ہوتی ہے، بے ہوشی کے دورے کے بعد مریض کی یادداشت کئی منٹوں تک چلی جاتی ہے، تاہم وہ آہستہ آہستہ واپس آنے لگتی ہے۔

مرگھی کے مریض کو اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ اسے کب بے ہوشی کا دورہ آنے والا ہے، پاکستان میں بھی ہزاروں افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔

مرگھی کا مرض زیادہ تر کم عمری میں ہوتا ہے، اور جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے، اچھی خوراک اور مناسب علاج اور بہتر سوچ کے باعث یہ مرض ختم ہوجاتا ہے، تاہم کچھ مریضوں کو یہ مرض عمر بھر لاحق رہتا ہے۔