بریکنگ نیوز
Home / کالم / تقسیم فیصلہ

تقسیم فیصلہ


سپریم کورٹ کے وسیع تر ’بنچ‘ نے وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کیخلاف پانامہ کیس کا تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے میاں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کا اہل قرار دے دیا اور پانامہ کیس کی تحقیقات کے معاملہ میں چیئرمین نیب کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کے لئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کے احکام صادر کردیئے جو ایف آئی اے‘ سٹیٹ بینک‘ نیب‘ ایس ای سی پی‘ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ایک ایک نمائندے پر مشتمل ہوگی‘ وسیع تر بنچ کا یہ فیصلہ اکثریت رائے سے صادر کیا گیا جس میں تین فاضل ججوں مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید‘ مسٹر جسٹس اعجاز افضل اور مسٹر جسٹس اعجازالحسن نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ صادر کیا جبکہ بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ اور مسٹر جسٹس گلزار احمد نے فیصلہ میں اپنے اختلافی نوٹ تحریر کئے اور اس رائے کا اظہار کیا کہ کیس میں سامنے آنیوالے حقائق و شواہد کی روشنی میں میاں نوازشریف صادق اور امین نہیں رہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران پوری قوم ہیجان کی کیفیت میں مبتلا رہی ہے‘ بالخصوص اس حوالے سے کہ کرپشن فری معاشرے کی تشکیل قوم کا مطمع نظر ہے جس کیلئے اس نے پانامہ کیس کیساتھ توقعات وابستہ کیں اور کیس کی سماعت مکمل ہونے تک اس حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے آراء اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ برقرار رہا جبکہ کیس کی سماعت کے دوران بنچ کے فاضل ارکان کی جانب سے دیئے جانے والے ریمارکس سے بھی مختلف حلقوں بالخصوص درخواست دہندگان کو میاں نوازشریف کے نااہل قرار پانے کی توقعات وابستہ ہوئیں۔

کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد قوم طویل انتظار کی سولی پر لٹکتی رہی ہے جبکہ اس دوران عمران خان‘ سراج الحق اور پیپلزپارٹی کے قائدین نے حکومت کیخلاف پوائنٹ سکور کرنیکی سیاست خوب چمکائی اور فیصلہ صادر ہونے سے پہلے تک اتنی دھماچوکڑی مچائی گئی کہ میاں نوازشریف کا اقتدار ایک پل اور چند لمحوں کا مہمان نظر آتا رہا جبکہ فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد لارجر بینچ کے ایک فاضل رکن نے کسی دوسرے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ صدیوں تک یاد رکھا جائیگا۔ پانامہ کیس میں عدالت عظمیٰ کے فاضل بنچ نے بے شک انصاف اور قانون کے تقاضوں کے عین مطابق اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے فیصلہ صادر کیا ہے جس میں وزیراعظم کو کلین چٹ ہرگز نہیں دی گئی بلکہ جے آئی ٹی تشکیل دیکر انہیں بدستور ملزمان والے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے جس سے یقیناًیہ تاثر پختہ ہوا ہے کہ وزیراعظم سمیت کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اور وہ بے ضابطگی‘ کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر قانون اور انصاف کے اداروں کے سامنے جوابدہ ہے جس سے کرپشن فری معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی جس کے عوام متقاضی ہیں چنانچہ اس حوالے سے پانامہ کیس میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تاریخی اور یادگار ہے جس کیلئے بنچ کے فاضل ارکان کو دوران سماعت اور فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد باور کرانے اور ریمارکس دینے کی قطعاً ضرورت نہیں تھی عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر ہر فریق اپنی اپنی خواہشات ‘خوشیوں اور مایوسیوں کی مناسبت سے آراء کا اظہار کررہا ہے جن میں عدل گستری ماضی کی روایات کی روشنی میں تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔

سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ عدلیہ سے نوازشریف کے خلاف کوئی فیصلہ صادر کرنے کی انہیں توقع ہی نہیں ہے جبکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اس فیصلہ کو آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور عمران خان ’’سپریم کورٹ کے فاضل ججوں کو سلام پیش کرتا ہوں‘‘ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے اپنی باڈی لینگویج کے ذریعہ واضح طور پر اس فیصلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے نظر آئے ہیں جن کے بقول ایسے فیصلہ کی نوبت بھی انکے کارکنوں کے سڑکوں پر نکلنے کے باعث آئی ہے۔ اس صورتحال میں عدل گستری کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ضرور ہے کہ اسے بہرصورت ’’جج نہیں‘ ان کے فیصلے بولتے ہیں‘‘ کے زریں اصول کو فالو کرنا چاہئے اب جبکہ پانامہ کیس کے منطقی انجام کے لئے سپریم کورٹ کی جانب سے واضح لائن آف ایکشن دی جا چکی ہے اس لئے فریقین کی جانب سے اس فیصلہ کو اپنی جیت یا ہار سے تعبیر نہیں کرنا چاہئے اور انصاف کے بول بالا کیلئے عدالتی احکام کی تعمیل میں جے آئی ٹی کیساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)