بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہمارا المیہ

ہمارا المیہ


سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اچانک ہی سارے دانشوروں اور بڑے سیاست دانوں کو جو حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہیں کے پیٹ میں مروڑ پڑنے شروع ہو گئے ہیں او رسب کو وزیر اعظم کی حیثیت یا د آ گئی ہے ۔ کچھ تو اس خیال میں ہیں کہ وزیر اعظم تو سب اداروں کے ہیڈہیں اس لئے وہ ادارے کس طرح انکی تفتیش کریں گے ۔ کچھ کا خیال ہے کہ وزیر اعظم سے تفتیش کرنا اس عہدے کی توہین ہے اور دونوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وزیر اعظم اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں تا کہ تفتیش محمد نواز شریف سے ہو وزیر اعظم سے نہ ہو۔ یہ خیال لوگوں کو بڑی دیر سے آیا ۔ بات تفتیش کی تھی اسلئے یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں لے جانے سے قبل ہی ایسی کورٹ کو جانا چاہئے تھا کہ جو ٹرائل کورٹ ہو جسکا کام ہی ایسی باتوں کی تفتیش کرنا ہوتا ہے اگر ایسا نہیں تھا تو جیسا وزیر اعظم نے مقدمہ کے شروع میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ ایک ایسا کمیشن تشکیل دے جسکی پاورز سپریم کورٹ کی ہوں اور وہ ڈائرکٹ سپریم کورٹ کو جواب دہ ہو ۔ مگر ایسا نہیں ہوا ۔اب جو کمیشن بنایا گیا ہے تو یہ سپریم کورٹ خود بنائے گی اور جیساکہ سب نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے دیئے گئے ہر فیصلے کو مانیں گے تو جو فیصلہ انہوں نے دیا ہے اس لئے سب پر یہ فرض ہے کہ جو کچھ کورٹ نے کہا ہے اُسے من و عن مانیں ورنہ انکے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چل سکتا ہے۔

ہم کو ان لوگوں سے تو کوئی شکوہ نہیں کہ جن کا کام ہی روڑے اٹکانا ہے اس لئے کہ یہ سیاسی لوگ ہیں یہ تو کسی بھی طرح اپنے مخالف کو بدنا م کریں گے مگر وکلاء توقانون کو سمجھنے والے اور کورٹ کی تعظیم کرنے والے لوگ ہیں انہوں نے کس طرح یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے جہاں تک وزیر اعظم کے استعفے کا تعلق ہے تو اگر کورٹ یہ سمجھتی ہے کہ انکی طرف سے کچھ دباؤ ہو سکتا ہے تو وہ یہ حکم بھی دے سکتی تھی کہ تفتیش کے مکمل ہونے تک وزیر اعظم اس عہدے پر نہ رہیں مگر جب انہوں نے کمیشن کو پابند کر دیا ہے کہ ایک تو اس کے ممبران کا تعین خود کورٹ کرے گی او ردوسرے ہر ہفتے اس کی تفتیش جہاں تک بھی پہنچی ہو اس کا جواب انہوں نے کورٹ کو دینا ہے۔ جب کورٹ اتنی احتیاط کر رہی ہے تو پھر اس میں ریلیاں نکالنا اور کورٹ پر دباؤ ڈالنا کون سی دانشمندی ہے۔ ان حالات میں دو ماہ تک صبر کرنا ہی بہتر ہے ہاں سیاسی لوگوں کی بات الگ ہے۔ اس بات کو لے کر کہ ادارے چونکہ وزیر اعظم کے تحت ہیں اس لئے ان سے صحیح تفتیش کی توقع نہیں کی جا سکتی تو کیا یہ بات سپریم کورٹ کو معلوم نہیں تھی کہ ادارے وزیر اعظم کے تحت ہیں ۔ جہاں تک نیب کے چیئر مین کی تفتیش سے ا نکار کی بات ہے تو جس کیس کی بات ہو رہی تھی وہ پانچ دفعہ عدالتوں نے ریجیکٹ کر دیا تھا۔

اس لئے اس نے اسکی تفتیش سے انکار کیا تھااور اس کے انکار ہی کی وجہ سے کورٹ نے کمیشن میں اس کو نہیں رکھا۔اب جو بھی ممبر اس کمیشن کے ہوں گے ان کے نام کورٹ کے سامنے جائیں گے اورجس پر کورٹ کوذرا بھی شک ہو گا اس کو کمیشن سے نکال دے گی اس کے باوجود اگر کوئی شک کرے اور سڑکوں پر نکلے تو وہ کورٹ پر اعتبار نہیں کرتا اور ہمیں سو فیصد یقین ہے کہ ہمارے وکلاء حضرات کورٹ پر پورا اعتماد کرتے ہیں اسی لئے وہ کیس ہار کر بھی کورٹ کے فیصلے پر تنقید نہیں کرتے چاہے و ہ ٹرائل کورٹ ہی کیوں نہ ہواور کورٹ کے ہر فیصلے پر آمناو صدقنا کہتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ہمارے محترم وکلاء بھی اس فیصلے کیخلاف ریلیوں کا اہتمام کر رہے ہیں اب عمران خان جب بھی بات کرتے ہیں تو وہ معاشرے کی بات کرتے ہیں تو معاشرہ وہ درست ہوتا ہے جو اپنی عدالتوں کا احترام کرتا ہے اور ایسی زبان استعمال نہیں کرتا جو شیخ رشید جیسے لوگ کرتے ہیں آپ جو بھی کریں کریں مگر عدالت کی تضحیک نہ کریں ۔ ریلیاں نکالنا اس وقت توہین عدالت ہے ۔ باقی جو آپ کے جی میں آئے۔