بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / افغان فوجی اڈے پر حملہ

افغان فوجی اڈے پر حملہ

افغانستان میں مزار شریف کے فوجی اڈے پر ہونیوالے حملے میں تادم تحریر مارے جانے والے افغان فوجیوں کی تعداد150 بتائی جا رہی ہے جس میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق فوجی وردیوں میں ملبوس حملہ آوروں نے بیس میں داخل ہو کر مسجد اور کینٹین کو نشانہ بنایا کئی گھنٹے جاری رہنے والی لڑائی میں11حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی ہیں حملے میں رائفلوں کیساتھ دستی بم بھی استعمال ہوئے میڈیا رپورٹ کے مطابق حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کی سخت مذمت کرتا ہے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے افغانستان اور عالمی برادری کیساتھ مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارکیا ہے آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغان قوم کیساتھ کھڑے ہیں ۔

آرمی چیف نے افغان سکیورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی بھی کیا ہے دریں اثناء خبررساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں امریکی نان نیوکلیئر بم حملے میں15بھارتی شہری بھی ہلاک ہوئے جن میں سے چند کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تھا اور وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی ریکارڈ کا حصہ ہے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کیساتھ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کی کوششیں بھی کرتا رہا ہے اس سب کے باوجود کابل کے ذمہ دار پاکستان کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرتے رہتے ہیں کیا ہی بہتر ہو کہ امن کے قیام کیلئے افغان حکمران بھارتی زبان بولنے کی بجائے پاکستان کیساتھ مل کر اقدامات اٹھائے اور عالمی برادری بھی کابل کو پاکستان کا موقف سمجھنے کا کہے تاکہ خطے کی غربت کا خاتمہ بھی ممکن ہو۔
اصلاح احوال کے دعوے؟

صوبائی دارالحکومت میں ہر بارش شہر کی صفائی‘ بلاک سیوریج اور نظام کی بحالی سے متعلق دعوؤں کو بے بنیاد اور عملی اقدامات کو ناکافی قرار دیتی ہے شہر کی مین شارع جی ٹی روڈ کی صفائی اور خوبصورتی کیلئے اقدامات سے انکار نہیں تاہم اس ایک سڑک کو پورا پشاور کسی صورت قرار نہیں دیا جا سکتااس سڑک پر بھی سروس روڈ کی حالت زار سب کے سامنے اور نکاسی آب کے مین نالے کی تعمیر میں سست روی سوالیہ نشان ضرور ہے اس شارع پر جگہ جگہ یوٹرن بننے سے قبل ٹریفک اپنے اپنے ٹریک پر تھی جبکہ اب ٹرن تک پہنچنے کیلئے غلط ہاتھ پر گاڑیاں چلنا معمول ہوگیا ہے اندرون شہر حالات روز بروز تشویشناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں جہاں تک اصلاح احوال کا تعلق ہے تو اس حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ یہ کام کسی ایک محکمے کا نہیں اس میں سارے سٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ اکٹھا کرکے برسرزمین تلخ حقائق کا کھلے دل سے اعتراف کرنا ہوگا سب اچھا کی تمام رپورٹس مسترد کرنا ہونگی اور بہتری کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس پر عملدرآمد کے ہر مرحلے میں چیک اینڈ بیلنس ناگزیر ہے تاکہ تبدیلی عملی طورپر نظر آئے۔