بریکنگ نیوز
Home / بزنس / چینی سرمایہ کاروں کو نمایاں ٹیکس رعایتیں حاصل

چینی سرمایہ کاروں کو نمایاں ٹیکس رعایتیں حاصل

اسلام آباد: 56 ارب ڈالر کے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر کام کرنے والے چینی سرمایہ کار کسٹمز، انکم، سیلز، فیڈرل ایکسائز اور ودہولڈنگ ٹیکس میں رعایتیں حاصل کررہے ہیں۔

چینی سرمایہ کاروں کو ٹیکس کی مد میں دی جانے والی اس چھوٹ کی وجہ سے حکومت کی آمدنی میں 150 ارب روپے تک کا نقصان ہوگا تاہم حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے کہ اس کے مقامی صنعتوں اور سرمایہ کاروں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں وزارت خزانہ نے تحریری جواب جمع کرایا جس میں چینی سرمایہ کاروں کو ٹیکس کی مد میں دی جانے والی ان رعایتوں اور چھوٹ کا تذکرہ کیا گیا۔

ٹیکس میں دی جانے والی ان چھوٹ کا نوٹیفکیشن قانونی ریگولیٹری آرڈرز (ایس آر او) کے ذریعے جاری کیا گیا۔

واضح رہے کہ ماضی میں حکمراں جماعت ن لیگ خود ایس آر او کو امتیازی قانون اور ملکی خزانے میں نقصان کا سبب قرار دے کر تنقید کرتی رہی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اپنے جواب میں یہ واضح نہیں کیا کہ ٹیکس استثنیٰ کی کل مالیت کتنی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ درآمد کے مرحلے میں سڑکوں، ماس ٹرانزٹ اور گوادر پورٹ کے منصوبوں پر کام کرنے والے بعض چینی کںٹریکٹرز کو کسٹمز ڈیوٹی میں رعایت دی گئی تھی۔

کراچی پشاور موٹر وے کے سکھر تا ملتان سیکشن اور قراقرم ہائی وے فیز ٹو کی تعمیر کے لیے درآمد کی جانے والی پلانٹ مشینری اور آلات پر کسٹمز ڈیوٹی میں استثنیٰ دی گئی۔

اس کے علاوہ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کے لیے آلات اور میٹریل کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی مستثنیٰ کی گئی، اس سلسلے میں پہلے 25 جنوری کو اور پھر 6 مارچ کو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔

اسی طرح گوادر پورٹ کی تعمیر، آپریشنز اور ڈویلپمنٹ کے لیے رعایت حاصل کرنے والوں اور ان کی آپریٹنگ کمپنیوں کو بھی کسٹمز ڈیوٹی پر استثنیٰ دیا گیا۔

مزید برآں بعض تھر کول فیلڈ سیکٹرز پر پہلے ہی اشیاء کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی میں استثنیٰ موجود تھا جسے وسعت دے کر سی پیک کے منصوبوں تک پھیلا دیا گیا۔

تھر کول فیلڈ پر کان کنی کے لیے ایسی مشینری، آلات اور اسپیئر پارٹس کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دی گئی جو مقامی سطح پر تیار نہیں کی جاتیں۔

توانائی کے شعبے میں تیل، گیس، کوئلہ، ہوا اور پانی کے ذریعے بجلی بنانے کے منصوبوں کے لیے مشینری، آلات اور اسپیئر پارٹس کی درآمد پر صفر فیصد، تین فیصد اور 5 فیصد کا رعایتی ڈیوٹی ریٹ مقرر کیا گیا۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ چائنا اووسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ، چائنا اووسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی پاکستان (پرائیوٹ) لمیٹڈ، گوادر انٹرنیشنل ٹرمینل لمیٹڈ، گوادر میرین سروسز لمیٹد اور گوادر فری زون کمپنی لمیٹڈ کو پورٹ آپریشنز کے ذریعے ہونے والی آمدنی پر 23 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دی گئی جس کا اطلاق 6 فروری 2007 سے ہوا۔

یہ بھی کافی نہیں تھا کہ فنانس ایکٹ 2016 کے تحت چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی پاکستان پرائیوٹ لمیٹڈ اور اس کی آپریٹنگ کمپنیوں، کنٹریکٹرز اور سب کنٹریکٹرز کو گوادر پورٹ اور گوادر فری زون کی تعمیر و آپریشن میں استعمال ہونے والے آلات اور میٹریل پر سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی معاف کردی گئی۔

کراچی پشاور موٹر وے اور قراقرم ہائی وے فیز ٹو کے لیے درآمد کی جانے والی پلانٹ مشینری اور آلات بشمول ڈمپرز اور اسپیشل پرپز وہیکلز پر بھی انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس چھوٹ دی گئی۔

اسی طرح اورنج لائن ٹرین پروجیکٹ کے لیے چائنا ریلوے کارپوریشن کی جانب سے درآمد کیے جانے والے سامان، مشینری اور آلات وغیرہ کو بھی سیلز اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے استثنیٰ دیا گیا۔

4 صوبائی میٹروپولیٹن شہروں میں ریل بیسڈ ماس ٹرانزٹ پروجیکٹس کو بھی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 148 کے تحت استثنیٰ دیا گیا جو کہ درآمدی مرحلے میں ایڈوانس انکم ٹیکس سے متعلق ہے۔

اس کے علاوہ سی پیک کے توانائی منصوبوں سے متعلق نومبر 2014 میں ہونے والے انرجی پروجیکٹس کوآپریشن ایگریمنٹ سے متعلق جاری کیے جانے والے قرضوں سے حاصل ہونے والے منافع اور آمدنی پر بھی انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (آئی سی بی سی) اور سلک روڈ فنڈ کو استثنیٰ دیا گیا۔

ان تمام رعایتوں کے باوجود وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے وضاحت کی کہ دی جانے والی تمام رعایتیں اور چھوٹ اس شرط پر ہیں کہ درآمد کی جانے والی اشیاء مقامی طور پر دستیاب نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ صرف 25 میگا واٹ سے زیادہ استعداد رکھنے والے پاور پلانٹس کے معاملے میں یہ شرط نہیں ہے البتہ اس سلسلے میں مقامی صنعتوں کو سی پیک منصوبوں کے لیے ہونے والی درآمداد کے اثرات سے بچانے کے لیے ضروری معاونت فراہم کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کے جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں، کنٹریکٹرز، سب کنٹریکٹرز کو آمدنی پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ سے مقامی کنٹریکٹرز اور سب کنٹریکٹرز کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا امکان نہیں۔