Home / کالم / عتیق صدیقی / عدالت اور عوامی امنگیں

عدالت اور عوامی امنگیں

کیا جج صاحبان کو فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق کرنے چاہئیں اگر قاضی القضات کو عدالت کے دروازے پر کھڑے ہجوم کے مطالبے کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو اس بات کا فیصلہ کون کریگا کہ کچہری کے احاطے میں کھڑے ڈھائی سو لوگ عوامی امنگوں کے ترجمان ہیں یا خلقت شہر کسی مختلف فیصلے کی منتظر ہے اگر عوام کو قانون اور انصاف کا رہنما تسلیم کر لیا جائے توپھرجج صاحبان کو عوامی امنگوں کی لہروں کے مدو جزر کا اندازہ لگانے کیلئے میڈیا سے رجوع کرنا پڑیگا وہاں جس گروہ کا دھوم دھڑکا زیادہ ہو گا اسی کی مرضی کے مطابق فیصلہ کر دیا جائیگامگرجہاں عدالتیں آزاد ہوں اور جج ذاتی تعصبات سے بلند ہو کر بلا خوف و خطر فیصلے کر سکتے ہوں وہاں نہ تو ہجوم کچہری کے احاطے میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی عدالت میڈیا ٹرائل کی گھن گرج کو خاطر میں لاتی ہے فیصلہ کرتے وقت منصف کے پیش نظرکیا ہونا چاہئے ایک احسن فیصلے او ر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا معیار اور کسوٹی کیا ہونی چاہئے یہ وہ سوال ہے جو قانون کی حکمرانی کی طویل تاریخ رکھنے والے اور خود کوNation Of Laws کہنے والے امریکی آج بھی اسی تجسس و اشتیاق سے پوچھ رہے ہیں کہ جس طرح یہ سوال بیس اپریل کو پانامہ کیس کے فیصلے کے آجانے سے پہلے اور بعد پاکستان میں پوچھا جا رہا ہے اس فیصلے سے پانچ روز پہلے امریکہ کے چیف جسٹس جان رابرٹس سے نیو یارک کے شہر Troy کی Rensselaer Polytechnic Institute میں بارہ سو طالبعلموں سے بھرے ہوے ہال میں ایک طابعلم نے پوچھا کہ کیا عدالتوں کو ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو معاشرے کے تمام طبقات کی ترجمانی کرتے ہوں عدالت عظمٰی کے سربراہ نے جواب دیا کہ. ” It is not our job to represent the people of the United States. Our job is to interpret the law to the best of our ability.”یعنی ہمارا کام امریکی عوام کی نمائندگی کرنا نہیں بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق قانون کی تشریح کرنا ہے چیف جسٹس نے ایک دوسرے سوال کے جواب میں کہا کہ ” We in the judiciary do not do our business in a partisan , ideological manner” ہم عدالتوں میں اپنا کام جماعتی یا نظریاتی طریقے سے نہیں کرتے اسی بات کو جاری رکھتے ہوئے جان رابرٹس نے کہا کہ جج ڈیموکریٹ یا ری پبلکن نہیں ہوتا وہ سپریم کورٹ کے بنچ کا ممبر ہوتا ہے وہ کس طرح سے اور کس فکری عمل سے گذر کر فیصلے تک پہنچتا ہے یہ بات لوگوں کیلئے سمجھنا مشکل ہے چیف جسٹس نے کہا کہ نظام انصاف کے برقرار رہنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ لوگوں کا عدالتوں کے فیصلوں پر اعتماد قائم رہے چیف جسٹس کیساتھ امریکی نظام انصاف اور عدالتوں کے طریقہ کار پر طالبعلموں کے سوال و جواب کی محفل کا اہتمام اسلئے کیا گیا کہ چودہ اپریل کو سینٹ میں ایک طویل اور زور دار سیاسی مباحثے کے بعد عدالت عظمٰی کے نئے جج نیل گور سوچ نے بنچ کے نویں ممبر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

اس سے تین ہفتے قبل نیل گور سوچ مارچ کے آخری ہفتے تین دنوں میں بیس گھنٹے تک Senate Judiciary Committee میں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن سینیٹروں کے سوالات کے جواب دیتے رہے سپریم کورٹ کے نئے جسٹس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلئے چنا کہ وہ انکے ووٹروں کی توقعات کے مطابق قدامت پسند مانے جاتے ہیں امریکہ میں ہمیشہ سے ڈیموکریٹ صدرعدالت عظمٰی کیلئے ایسے جج چنتے رہے ہیں جنکے عدالتی فیصلے لبرل انداز فکر کی عکاسی کرتے ہوں اور انکے برعکس ری پبلکن صدر قدامت پسند خیالات رکھنے والے جج نامزد کرتے رہے ہیں اس تا حیات عہدے کو حاصل کرنے والے جج کو کیونکہ سینیٹروں کی اکثریت کے ووٹ حاصل کرنے ہوتے ہیں اسلئے وہ سینٹ کی عدالتی کمیٹی کو اپنے غیر جماعتی اور غیر نظریاتی ہونے کا یقین دلاتے ہیں نیل گورسوچ اپنے عدالتی کیرئیر میں زیادہ تر قدامت پسند فیصلے کرتے رہے ہیں اسلئے انہیں اڑتالیس ڈیموکریٹک سینیٹروں میں سے صرف دو نے ووٹ دےئے وہ بڑی مشکل سے سادہ اکثریت حاصل کرکے نامزد ہوئے ہیں۔

عدالت عظمٰی کا نویں جج بننے کیلئے انہوں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر سینیٹروں کو اپنے غیر متعصب، غیر جماعتی اور غیر نظریاتی ہونے کا یقین دلایا بیس گھنٹے کے سوال و جواب میں ڈیموکریٹک سینیٹر پہلے سے تیار کئے ہوئے سوالات پوچھ کر انکے سیاسی فلسفے کو طشت از بام کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر اس عہدے کو حاصل کرنے والے ہر جج کی طرح نیل گورسوچ بھی کسی کے ہاتھ نہ آئے وہ ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے مصداق ہر ایک کو مطمئن کرنے کی کوشش کرنے کیساتھ ساتھ اپنے ذاتی نظریات اور فلسفے کو بے نقاب ہونے سے بچاتے رہے آجکل کی طرح ان دنوں بھی پاناما کیس پر پاکستان کے میڈیا میں زورو شور سے بحث و تمحیص ہو رہی تھی میں یہ میڈیا ٹرائل دیکھتے ہوئے چینل تبدیل کر کے C-Span پر جج نیل گور سوچ اور سینٹ کمیٹی کا مکالمہ بھی سنتا رہا مجھے یوں لگا کہ پاناما کیس اور امریکہ کے عدالتی نظام پر ہونے والی گفتگو کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے اس تعلق کی گرہ کشائی سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ نئے جج صاحب تین دنوں میں بیس گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس مکالمے میں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا معرکہ بڑی شگفتہ مزاجی اور بذلہ سنجی کیساتھ لڑتے رہے بقول شاعر وہ یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے تھے

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
دوسری طرف ڈیموکریٹک سینیٹرزکے تندوتیز سوالات سنتے ہوئے مرزا غالب کا یہ شعر یاد آ رہا تھا
عجزو نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچئے
جج گورسوچ سے خاتون ڈیموکریٹک سینیٹر Dianne Feinstein نے ایک جملے میں دو سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے غیر جانبدار ہونے کے بارے میں کیا دلیل دے سکتے ہیں اور انکا قانونی فلسفہ کیا ہے اسکے جواب میں جج صاحب نے کہا کہ انہوں نے چند ماہ پہلے ایک سیمینار میں کہا تھا “Judges should apply the law as it is , focusing backward not forward, and looking to text, structure and history to decide .” یعنی ججوں کو قانون کا اطلاق اسی طرح کرنا چاہئے کہ جس طرح وہ ہے۔ انہیں اپنا فوکس آگے کی بجائے پشت کے رخ پر رکھنا چاہئے اور فیصلہ کرنے کیلئے قانون کے متن، ساخت اور تاریخ پر نگاہ رکھنی چاہئے ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ” He would go where the law took him” یعنی وہ اسی طرف جائیں گے جس طرف قانون انہیں لے جائیگا جج گور سوچ کو کیونکہ صدر ٹرمپ نے نامزد کیا تھا اسلئے ان سے پوچھا گیا کہ اگر صدر امریکہ کی اہلیت کے بارے میں کوئی مقدمہ سپریم کورٹ میں آیا تو انکا فیصلہ کیا ہو گا جج صاحب نے جواب دیا کہ” No man is above the law.” پاناما مقدمے کے فیصلے کے مطالعے کے بعد میری طالبعلمانہ رائے یہ ہے کہ ہماری عدالت عظمیٰ کے پانچوں ججوں نے بلا خوف و خطر غیر جانبدارانہ فیصلے کئے ہیں ( قارئین کرام گذشتہ ہفتے کے کالم کی دوسری قسط غلطی سے نظر ثانی کے بغیر “Send” ہو گئی تھی اسمیں ایک شعر نا گفتہ بہ حالت میں شائع ہوا میں اس کیلئے معذرت خواہ ہوں صحیح شعر یہ ہے
ایک حلقہ میں ہوں اسکا دوسرا حلقہ ہے تو……..دور تک پھیلا ہوا ہے سلسلہ زنجیر کا)