بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کا شغر

نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کا شغر


جنرل راحیل شریف اگلے روز اسلامی ممالک کی فوج کی کمان سنبھالنے ریاض چلے گئے ان کی اس نئی تقرری پر دو آراء ہیں ایک نکتہ نظر ان کی تقرری کے حق میں ہے تو دوسرا اس پر تحفظات رکھتا ہے کہا یہ جا رہا ہے کہ چونکہ عالم اسلام انتشار کا شکار ہے اس میں اختلافات ہیں اور تمام کے تمام اسلامی ممالک اس اسلامک فوج میں شامل نہیں لہٰذا اس کے قیام سے اسلامی دنیا بجائے متحد ہونے کے مزید منقسم ہو سکتی ہے اس اعتراض میں کافی وزن ہے اچھا ہوتا اگر اس فوج کے خالق ممالک ماضی کو بھلا کر کھلے دل سے ایران کو بھی اس میں شامل ہونے کاکہتے اور ان درجن کے قریب دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس لڑی میں پرو دیا جاتا جو اس کے رکن نہیں ہیں اب بھی اگر جنرل راحیل شریف اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران اور دیگر اسلامی ممالک کواس عسکری اتحاد کا حصہ بنانے کی کوشش کریں تو یہ عالم اسلام کے اتحاد کیلئے بڑا سو د مند ہو گا خدا کرے کہ اس نئے عسکری اتحاد کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ نہ ہو کیونکہ اس معاملے میں امریکہ کا ٹریک ریکارڈ کوئی تسلی بخش نہیں اس وقت عرب امارات ‘ سعودی عرب وغیرہ میں امریکہ کی فوجی موجودگی صاف نظر آ رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے سینے میں وہ ہر قسم کی جنگ کیلئے تیار بیٹھا ہوا ہے ویسے بھی کسی بھی ملک کی عسکری قوت یا تیاری اب امریکہ سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی کیا اس نئے اسلامی عسکری اتحاد کی فوجی تیاری‘ اس کے پاس جو اسلحہ وغیرہ موجود ہو گا ان کے بارے میں کوئی شے امریکہ سے چھپائی جا سکے گی؟ اسلامی ممالک میں عسکری اتحادہونا چاہئے لیکن اس کا محور غیر سیاسی اور غیر جانبدارانہ ہو اس اتحاد کا Corner stone یہ ہونا چاہئے کہ اولاً اس میں موجود مالدار اسلامی ملک غریب اسلامی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کی معاشی زندگی میں بہتری لانے کیلئے وہاں بھاری سرمایہ کاری کریں گے ثانیاً اگر اس اتحاد میں شامل کسی بھی مسلم ملک پر کسی غیرمسلم ملک کی طرف سے حملہ ہوتا ہے تو پورا عالم اسلام اس کی مدد کو پہنچے گا اسلامی اتحاد کے چارٹر میں جلی حروف سے یہ لکھنا چاہئے کہ اس کا مقصد کسی فرد واحد کو بچانا نہیں بلکہ اس کے قیام کے پیچھے جو جذبہ کار فرما ہے وہ یہ ہے کہ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے ‘۔

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر سردست عالم اسلامی کی جو دگرگوں صورتحال ہے وہ بھلا کس سے پوشیدہ ہے مسلمان ‘ مسلمان کومار رہا ہے کوئی مسلم ملک روس سے ڈکٹیشن لے رہا ہے تو کوئی امریکہ کے چرنوں میں بیٹھا ہوا ہے کسی نے اگر وائٹ ہاؤس کو اپنامرکز بنا رکھا ہے تو کسی نے کریملن کو ‘ کوئی اگر کمیونزم یا سوشلزم کو اپنے غموں کا مداوا سمجھ بیٹھا ہے تو کوئی مادر پدر آزاد کیپیٹل ازم کو‘ بس ہم مسلمان اس لئے کہلاتے ہیں کہ ہم مسلمان کے گھر پیدا ہوئے ہیں حقوق العباد کا ہمیں سرے سے پتا ہی نہیں عالم اسلام میں وہ اسلامی ممالک کہ جن کے حکمران بادشاہ ‘ شیوخ کھربوں میں کھیل رہے ہیں ان کی زندگی کا واحد مقصد یہ ہے کہ اپنے لئے قیمتی سے قیمتی محلات تعمیر کریں قیمتی سے قیمتی کاریں خریدیں کثیر المنزلہ عمارتیں کھڑی کریں ان کا خیال اس طرف گیا ہی نہیں کہ سائنس بھی کوئی چیز ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے میدان میں ہم کافی پیچھے رہ گئے ہیں۔