بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے ٗاسفندیار ولی

کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے ٗاسفندیار ولی

پشاور۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اے این پی پانامہ لیکس پر عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اسے قبول کرتی ہے اور وزیر اعظم کے استعفے کے حوالے سے اے این پی کسی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی۔ ملکی حالات یکسر مختلف ہیں اور ایسی صورتحال میں مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں ۔بلور ہاؤس پشاورمیں پارٹی کے مرکزی تھنک ٹینک کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ کے دوران اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہم کسی ایک فرد یا جماعت کیساتھ نہیں بلکہ ہم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں اور وزیر اعظم کے استعفے کی حمایت کسی صورت نہیں کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اپنی مرضی سے وزارت عظمیٰ چھوڑ دیں تو وہ ایک الگ بات ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نے جس طرح سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا اسی طرح جے آئی ٹی کے بعد آنے والے عدالتی فیصلے کو بھی تسلیم کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے پانامہ کا کیس خود سپریم کورٹ لیکر گئے اور دُنیا کے آگے بارہا تسلیم کیا کہ جو بھی عدالتی فیصلہ ہو گا وہ اُسے تسلیم کریں گے۔ اب پہلے وہ یہ بتائیں کے اُنہوں نے عدالتی فیصلہ تسلیم بھی کیا ہے یا نہیں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عدالت کی جانب سے نواز شریف کو کلین چٹ نہیں دی گئی تاہم اختلافی نوٹ ہر جگہ ہوتے ہیں فیصلہ وہی ہوتا ہے جو اکثریت کا ہو۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ جو لوگ آج عدالتی فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے وہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے حوالے سے فیصلہ کیسے قبول کرینگے۔

ایک اور سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ پختونوں کیساتھ زیادتی ہو رہی تھی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام پختونوں کے شناختی کارڈز بلاک کیے گئے اور اس حوالے سے ہماری کوئی آواز نہیں سنی گئی۔ تاہم جب اے این پی نے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا تو وزیر داخلہ نے شناختی کارڈز کے بحالی کا اعلان کر دیا ۔ اُنہوں نے کہا ہمارا پہلے دن سے یہ مطالبہ تھا کہ 1978 سے قبل کے جو شناختی کارڈز بلاک کیے تھے اُنہیں فوری بحال کیا جائے۔ البتہ اُنہوں نے کہا کہ ہم قومی مفادات کی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عمران خان کے دس ارب روپے کی پیش کش کے انکشاف سے متعلق سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے یہ کلئیر کریں کہ ارب ’’ع‘‘ والا تھا یا ’’ ۱ ‘‘ والا صرف الزام سے کام نہیں چلتا اگر ایسی کوئی بات ہے تو اُنہیں تفصیلاً عوام کے سامنے لانا چاہیے۔

آئندہ الیکشن میں اے این پی کی پالیسی بارے اُنہوں نے کہا کہ جو لوگ اے این پی کے خاتمے کے دعوے کرتے رہے ہیں اُنہوں نے دیکھ لیا ہے کہ اے این پی زندہ ہے اور 2018 کے الیکشن میں ایک مضبوط قوت بن کر سامنے آئے گی ۔ گزشتہ الیکشن میں ہمیں ہرایا گیا کیونکہ جب لوگ ووٹ پول کر رہے تھے تو ہم جنازے اُٹھا رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ملکی حالات یکسر مختلف ہیں اور ایسی صورتحال میں مارشل لاء کا کوئی امکان نہیں ۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایسے خدشات کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

حکومت کی مدت چار سال کیے جانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے بعد اگر تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہوئیں تو اے این پی بھی اسے قبول کرے گی۔ مشال قتل کیس کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ملزموں کا تعین کیا جائے اور پھر اُنہیں ایسی عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص اس قسم کی انسانیت سوز کارروائی سے گریز کریں۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کیلئے مجرموں کو سخت سے سخت سزادی جانی چاہیے۔ عوام کے ہجوم کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی ایک شخص کو بنا ثبوت کے ملزم نامزد کرے اور پھر خود ہی منصف بن کر اُس کو سزا سنائے اور پھر اُسے قتل کر کے اُس کی لاش کی بے حرمتی کرے۔

قبل ازیں پارٹی کا تھنک ٹینک اجلاس مرکزی صدر اسفند یار ولی خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پانامہ لیکس پر عدالتی فیصلے مشال قتل کیس کی صورتحال اور ملک کی دیگر مجموعی صورتحال پرتفصیلی غورو حوض ہوااور اہم فیصلے کیے گئے۔