بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 32نئے سول جج بھرتی کرنیکا فیصلہ

32نئے سول جج بھرتی کرنیکا فیصلہ


پشاور۔پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں ججوں پرکام کابوجھ کم کرنے کیلئے 32نئے سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ بھرتی کئے جائیں گے جس کے لئے پبلک سروس کمیشن کو کہہ دیاگیاہے جبکہ ماتحت عدلیہ کے ججوں کوبیرون ملک تربیت دینے کاعمل مستقل بنیادوں پرشروع کیاگیاہے پہلے مرحلے میں گیارہ جج30اپریل جبکہ6خواتین جج ستمبرمیں تربیت کے لئے برطانیہ کادورہ کریں گی صوبائی حکومت نے پشاورہائی کورٹ کے مختلف منصوبوں کیلئے 65کروڑ روپے کی منظوری دی ہے جس کے تحت صوبے کے دوردرازکے ایسے اضلاع میں جوڈیشل کمپلیکس تعمیرکئے جائیں گے جہاں انفراسٹرکچرموجود نہ ہوں ان خیالات کااظہارانہوں نے جمعہ کے روز پشاورمیں صوبے کی تاریخ میں سیشن ججوں کی پہلی کانفرنس سے خطاب کے دوران کیاکانفرنس میں صوبہ بھرکے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں نے شرکت کی کانفرنس میں سات شعبے زیرغورلائے گئے جس کے حوالے سے مختلف تجاویزپیش کی گئیں ان شعبوں میں ججوں کے استعداد میں اضافہ ٗ باہمی رابطوں میں اضافہ ٗ جدیدٹیکنالوجی کااستعمال جوکہ خدمات کی فراہمیں معاون ثابت ہوں اورڈسٹرکٹ جوڈیشری کے سیکرٹریٹ کاقیام شامل ہے اس موقع پرچیف جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری کاسیکرٹریٹ ڈیزائن کے سٹیج میں ہے اورانشاء اللہ ستمبر2017میں کام شروع کردے گا سیکرٹریٹ کے قیام سے نہ صرف ضلعی عدلیہ کو کام میں معاونت فراہم ہوگی بلکہ ان کی ضرورتوں کوبروقت پوراکرنے میں بھی مدد ملے گی انہوں نے کہاکہ ججوں کی بیرون ملک تربیتی عمل کو مستقل بنیادوں پرشروع کردیاگیاہے جس کے تحت گیارہ جوڈیشل افسران30اپریل کو جبکہ6خواتین جوڈیشل افسران ستمبراکتوبرمیں برطانیہ کادورہ کریں گی انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے ادارے اوردیگرڈونرایجنسیاں ہائی کورٹ کے اصلاحاتی پروگرام میں تکنیکی اورمالی امداد دینے کے لئے آمادہ ہیں ابتدائی طورپر ہائی کورٹ نے ان کو سائلین کے لئے سائبان ٗ واٹرفلٹریشن پلانٹس اورشمسی منصوبے تجویزکئے ہیں چیف جسٹس نے کہاکہ کمپیوٹرائزیشن کے بڑے منصوبے پرکام جاری ہے جس کے تحت مقدمات کے جلدازجلدنمٹانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ پبلک سروس کمیشن کوکہاگیاہے کہ32سول جج /جوڈیشل مجسٹریٹس کو بھرتی کیاجائے تاکہ مختلف اضلاع میں ججوں پرکام کابوجھ کم ہوسکے جبکہ سینئرسول ججوں کے لئے 25سوزوکی سوئفٹ گاڑیاں بھی منگوائی جارہی ہیں چیف جسٹس کاکہناتھا کہ صوبائی حکومت اس بات پررضامند ہوئی ہے کہ وہ مزید 65کروڑ روپے مختلف منصوبوں کے لئے ہائی کورٹ کو جاری کرے انہوں نے اس موقع پر سیشن ججوں کوکہاکہ وہ بارایسوسی ایشنزکے ایسی تقریبات میں شرکت سے گریز کریں جن میں سیاسی اکابرین بھی شامل ہوں انہوں نے کہاکہ پشاورہائی کورٹ صوبے میں پانچ نئے جوڈیشل کمپلیکس بنانے پرغورکررہی ہے جس میں دوردرازکے ایسے علاقوں کوفوقیت دی جائے گی جہاں انفراسٹرکچرکی کمی ہو چیف جسٹس کاکہناتھا کہ ڈسٹرکٹ اینڈسیشن ججوں نے اپنے متعلقہ اضلاع میں افسران کی کارکردگی کاجائزہ میرٹ پرنہیں کیاتھاجس کی وجہ سے یہ کام بھی ہائی کورٹ کے ججز کو سونپاگیاانہوں نے ڈسٹرکٹ ججوں پرزوردیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیارمیں موجود جوڈیشل افسروں کی کارکردگی کاجائزہ انصاف کی بنیاد پرلیں اسی طرح انہوں نے سیشن ججوں سے کہا کہ وہ مختلف جوڈیشل افسروں میں مساوات ک بنیاد پرکام تقسیم کریں ۔