بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سی پیک کیوجہ سے خیبر پختونخوا سرمایہ کاری کا مرکز

سی پیک کیوجہ سے خیبر پختونخوا سرمایہ کاری کا مرکز

پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سی پیک کا مغربی روٹ مختصر اور مناسب ترین روٹ ہے جس کو سی پیک کا حصہ بنانے کیلئے ہم نے طویل جدوجہد کی حالانکہ وفاقی حکومت نے شروع میں ہمیں سی پیک کے معاملے میں اندھیرے میں رکھا تھا۔ ماضی کی کرپشن ، اداروں کی غیر فعالیت ، قانون کی بالادستی نہ ہونے اور امن عامہ کی ابتر صورتحال کی وجہ سے ہمارا صوبہ کاروباری لحاظ سے بیٹھ چکا تھا جوانڈسٹری تھی وہ بھی بند ہو چکی تھی ۔

ہمارے تین سال جدوجہد اور خصوصی طور پر سی پیک کی وجہ سے خیبرپختونخوا سرمایہ کار ی کیلئے دیگر صوبوں سے زیادہ موزوں اور سرمایہ کاری کا مرکز بن چکا ہے۔ بیجنگ روڈ شو انتہائی کامیاب رہا۔ ہماری سوچ سے زیادہ سرمایہ کاروں نے دلچسپی لی۔ ہمارے پیش کئے گئے 100 منصوبوں میں سے 82 منصوبوں پر ایم او یوز ہوئے ہیں۔ زیادہ ترمنصوبے BooT اور BoT کے طریق کار پرکریں گے ہم منصوبوں کیلئے قرضہ نہیں لیں گے ۔

دیر پاقومی ترقی کیلئے کرپشن کو زیر و لیول پرلانا ناگزیر ہے ۔ کرپٹ عناصر کو اُٹھا کر دریا برد کرنا چاہیئے ۔ کرپشن کی وجہ سے بحیثیت قوم ہماراامیج بہت خراب ہو چکا تھا باہر جائیں تو ہمارے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے لگتا ہے کہ ہم ڈاکو نگر سے آئے ہیں۔ جس ملک کا وزیر اعظم حساب دینے سے قاصر ہوا اس پر اعتماد کون کرے گا۔ تحریک انصاف کی کرپشن کے خلاف جدوجہد جاری تھی ۔ جاری ہے اور جاری رہے گی کیونکہ ہم پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک اور باعزت قوم دیکھنا چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے پشاور کلب میں خیبرپختونخوا اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے زیر انتظام خیبرپختونخوا میں سی پیک کے تناظر میں معیشت اور روزگار کے مواقعوں پر ایک روزہ کانفرنس اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صنعت عبد الکریم ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے قانون عارف یوسف ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، چینی سرمایہ کاروں سمیت نجی سرمایہ کار کمپنیوں، چیمبر آف کامرس اور دیگر تاجرتنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کے مواقعوں پر شاندار کانفرنس اور نمائش کا انعقاد کرنے پر ازمک اور دیگر اداروں کو مبارکباد پیش کی اور اسے سرمایہ کاری کیلئے اہم قرار دیا ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب انہوں نے صوبے میں حکومت سنبھالی تو کاروبار کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی دہشت گردی عروج پر تھی ، ادارے غیر فعال تھے ، قانون کی بالادستی مفقود تھی جس کی وجہ سے صنعتکاروں کا اعتماد یہاں سے اُٹھ چکا تھا ۔صنعتکاروں کیلئے قانونی اور محفوظ راستہ نکالنے کیلئے ہم نے تین سال مربوط جدوجہد کی ایک شفاف نظام وضع کیا ۔صنعتی پالیسی مرتب کی ۔ کئی محکموں میں آزاد اور بااختیار بورڈ ز بنائے اور کہیں اتھارٹیاں تشکیل دیں سیاسی مداخلت ختم کرکے اداروں کو ون لائن بجٹ دیا تاکہ وہ میرٹ پر کام کر سکیں۔ ہمارے اقدامات کے نتائج دیکھے جاسکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے حکومت چین کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سی پیک کے ذریعے ترقی کا راستہ کھولا۔ سی پیک کے مغربی روٹ کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جدوجہد پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ سی پیک پر 2013 میں کام شروع ہوا تھا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وفاق نے ہمیں اس معاملے میں بھی اندھیرے میں رکھا ۔ہم نے شور مچایا اور وزیراعظم کو آل پارٹیز کانفرنس بلا کر مغربی روٹ پر آمادہ کیاحالانکہ انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ وفاقی حکومت سب سے پہلے پسماندہ صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا سوچتی مغربی روٹ 500 کلومیٹر مختصر اور مناسب ترین روٹ ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم سی پیک کے تحت اپنے حقوق کے حصول کیلئے کھڑے رہے اور اس نادر موقع سے فائدہ اُٹھانے کیلئے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھتے رہے ۔ہم نے بیجنگ روڈ شو کیلئے چارماہ دن رات محنت کی اور 82 منصوبوں پر ایم او یوز کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اُن کی کوشش ہے کہ کسی منصوبے کے لئے قرضہ نہ لیں تاہم اگر کچھ منصوبے بی او ٹی پر نہ کرسکے تو اُن کیلئے طریقہ کار نکالیں گے کیونکہ ہم کاروباری لحاظ سے بہت پیچھے رہ گئے تھے اب ہمیں ہر قسم کا چانس لینا ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بیجنگ روڈ شو کیلئے پرائیوٹ سرمایہ کار کمپنیوں کے نمائندوں کو بھی ساتھ لے کر گئے خوشی کی بات یہ ہے کہ اُنہوں نے بھی تقریباً ایک بلین ڈالر کے معاہدے کئے۔

وزیراعلیٰ نے عندیہ دیا کہ وہ آئندہ بھی نجی سرمایہ کاروں کو بھر پور موقع دیں گے ۔انہوں نے حکومت پاکستان سے بھی کہا کہ وہ اس ملک کے مقامی سرمایہ کاروں کو بائی پاس نہ کرے بلکہ ان کو کاروبار کیلئے سہولیات دے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ چین روڈ شو سے واپس آتے ہی ایم اویوز پر فالو اپ شروع کردیا ہے ۔ ہم تمام منصوبوں کو گراؤنڈ پر لانے کی کوشش کریں گے کیونکہ ہمارا صوبہ بیروزگار ہے ۔ ہم غریب عوام کے روزگار کے مسائل حل کریں گے ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سرمایہ کاری کے دیگر معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ غازی میں حلا ل فوڈ انڈسٹری کے قیام کیلئے سابق ملایشین وزیر اعظم کے ساتھ ایم او یو ہو چکا ہے ۔

پاکستان میں یہ پہلا ادارہ ہو گا جو حلال اور حرام اشیاء کی تصدیق کرے گا۔ ہم اﷲ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ دین کے حوالے سے بھی اقدامات کریں ۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مئی کے پہلے ہفتے میں ایف ڈبلیو او کے ساتھ آئل ریفائنری ، سیمنٹ فیکٹری ، دو ہاؤسنگ سکیموں اور پن بجلی کے منصوبوں پر چار معاہدے دستخط کرنے والے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان منصوبوں پر بغیر کوئی پیسہ لگائے ہم نفع میں آٹھ سے دس فیصد حصہ لیں گے اور ہماری کوشش ہے کہ یہی حکمت عملی چینی سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ اپنائی جائے۔

توانائی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ملک میں پانی کے ذریعے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا راستہ موجود ہے مگر بدقسمتی سے اس پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔توانائی کے شعبے میں سی پیک کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے صوبے کو صرف 700 میگاواٹ بجلی کا منصوبہ دیا جارہا ہے ۔ حالانکہ صوبائی حکومت خود 600 میگاواٹ کے منصوبوں پر کام کررہی ہے ۔700 میگا واٹ کے منصوبے پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے تعمیر کئے جائیں گے ۔300 سے زائد پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔

ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے انہیں 1000 تک لے جائیں گے ۔ 2000 میگاواٹ کے منصوبے سی پیک کا حصہ بنائے جارہے ہیں اگر بڑے بھائی کی نیت صاف رہی ہم اس میں مزید اضافہ کرلیں گے ۔ہماری کوشش ہے کہ 2018 تک 5000 میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کو گراؤنڈ پر لے آئیں حالانکہ پچھلی حکومتوں میں صرف 57 میگاواٹ کے منصوبوں پر کام ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم خیبرپختونخوا کو سرمایہ کاری کیلئے کھول چکے ہیں۔ ہمارے نظام میں نہ کمیشن ہے اور نہ ہی رشوت کیلئے کوئی جگہ موجود ہے ۔ہم سرمایہ کاروں کو ایک شفاف نظام اور طریقہ کار کی ضمانت دیتے ہیں۔

یہ آپ کا صوبہ ہے اس کی ترقی کیلئے آگے بڑھیں اگر کہیں شکایت ہو تو آگاہ کریں ۔صوبائی حکومت ہر ممکن مدد کرے گی ۔وفاق کے ساتھ معاملات اور تحفظات پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم اپنے آئینی حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور ہم اپنے آئینی حق سے بخوبی واقف ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی اگر مگر کرے گا تو ہم اُسے راستہ دکھا دیں گے ۔پاناما لیکس کے خلاف تحریک انصاف کی جدوجہد کے ایک سوال پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف کرپشن اور چوری کے خلاف ہے ۔کیا ہم چور کو چور نہ کہیں تو فرشتہ کہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ کرپشن اس معاشرے کا ناسور بن چکا ہے ۔

عمران خان واحد لیڈر ہے جس نے کرپشن کے خلاف جنگ شروع کی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ کرپشن کے خاتمے کا یہی حل ہے کہ جو بھی کرپشن کرے اُس کو اُٹھا کر دریا میں پھینک دیا جائے ۔ ہمیں کرپشن کو ختم کرنا ہو گاورنہ ہم ترقی نہیں کرسکیں گے ۔ بعدازاں وزیراعلیٰ نے اس موقع پر منعقدہ نمائش کا بھی معائنہ کیا۔