بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس

وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک مؤثر پلیٹ فارم پر صوبوں اور مرکز کے درمیان اہم رابطہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اجلاس کا 12 نکاتی ایجنڈا خیبرپختونخوا کے مطالبات کے حوالے سے بعض اہم پوائنٹس کا احاطہ کرتا تھا تاہم اجلاس میں معاملات پر غور کے باوجود حتمی فیصلوں پر پہنچنے اور پھر ان پر عملدرآمد ہی اس اہم میٹنگ کو ثمرآور بنا سکتا ہے۔ کونسل کے 31 ویں اجلاس میں پانی‘ بجلی‘ گیس کے ساتھ بعض اہم مالیاتی امور پر بھی بات ہوئی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم کی لیہ روانگی کے باعث گو کہ ایجنڈے کے بعض حصوں کو مؤخر کیا گیا تاہم کاروائی کے دوران خیبرپختونخوا کی جانب سے پن بجلی کے خالص منافع اور گیس کی رائلٹی کا سوال بھی اٹھایا گیا۔ وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی خیبرپختونخوا کا یہ موقف ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اسکے تسلیم کردہ آئینی حقوق بروقت ادا کئے جائیں۔

بجلی منافع کے بقایاجات کے معاملے پر وفاق کیساتھ بات چیت میں متعدد نکات پر اتفاق ہوچکا تھا تاہم خالص منافع اور اس کے بقایاجات کی ادائیگی ٹائم شیڈول کے مطابق بنانے کی ضرورت موجود ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خیبرپختونخوا اپنے مخصوص جغرافیے اور حالات کے باعث تعمیر و ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہا ہے اس صوبے کی معیشت مستحکم بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے کنکریٹ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ضرورت یہاں بجلی اور گیس کی فراہمی کیلئے مؤثر حکمت عملی کی بھی ہے تاکہ صنعتوں کو ان کی ضرورت کے مطابق توانائی مل سکے۔ این ایف سی ایوارڈ ہو یا مشترکہ مفادات کونسل ان کے اجلاسوں کا بروقت انعقاد اور ان اجلاسوں میں ہونیوالے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے طریقہ کار طے کرنا ضروری ہے اس مقصد کیلئے وفاق اور صوبوں میں ذمہ دار اداروں کے درمیان باہمی رابطہ یقینی بنانا ہو گا صوبوں کو اپنے لیول پر بھی تمام معاملات سے متعلق اعداد وشمار اور دوسری دستاویزات ہر وقت اپ ڈیٹ رکھنے کا پابند بنانا ہو گا۔

قومی بجٹ کیلئے ترجیحات؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اگلے مالی سال کیلئے بجٹ میں ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میزانیہ کیلئے متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے تجاویز بھی لی جا رہی ہیں ‘ وطن عزیز میں عام شہری کو درپیش مشکلات ‘ بنیادی سہولتوں کا فقدان‘ تعمیر و ترقی کے منصوبے اور توانائی بحران کیساتھ کمر توڑ مہنگائی جیسے اہم معاملات کو نئے بجٹ میں بھی صرف الفاظ اور اعداد و شمار کے ہیر پھیر میں رکھا گیا تو عوام میں سخت مایوسی پھیلے گی‘ ملازمتوں کے نئے مواقع قابل اطمینان سہی ان پر بھرتی کیلئے میرٹ یقینی بنانے کا مکینزم سوالیہ نشان ہی ہے ۔ ٹیکس ریکوری اور سمگلنگ کی روک تھام میں متعلقہ اداروں کی ناکامی کی سزا ریونیو پورا کرنے کیلئے نئے ٹیکس ہرگز نہیں اگر اب کی بار بھی یہی روش برقرار رہی تو اگلے انتخابات میں یہ ووٹرز کا اپنی منتخب قیادت سے اہم سوال ہو گا جس کا جواب ممکن ہی نہیں عوامی اور فلاحی بجٹ کی تیاری کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں غریب اور متوسط شہریوں کیلئے ریلیف ہو اس سے وہ خوشگوار تبدیلی کا احساس پائیں گے بصورت دیگر اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ صرف سرمایہ داروں کی دلچسپی کا حامل رہ جائے گا تاکہ وہ ٹیکس اور ڈیوٹی کا بوجھ مزید بڑھا چڑھا کر عوام پر ڈال کر خود حکومتی رعایتوں سے فائدہ اٹھائیں۔