بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / تشددجمہوری معاشرے کی سوچ نہیں،رضا ربانی

تشددجمہوری معاشرے کی سوچ نہیں،رضا ربانی


پشاور۔چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ یونیورسٹی ایک ایسی جگہ ہے جہاں پرتمام طبقہ فکرسے وابستہ افرادموجودہوتے ہیں، جہاں پرٹالرنس جنم لیتی ہے اورجہاں پربھائی چارے کی فضاء ہوتی ہے،تشددکاراستہ اپنانے والوں کیخلاف آوازاٹھاناچاہئے،تشددجمہوری معاشرے کی سوچ نہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی عزت اور وقار جمہوریت اور وفاقی نظام میں ہے اور اسکی گارنٹی 1973کی آئین میں دی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج بینظیر وومن یونیورسٹی پشاور دو روزہ قومی کانفرنس کے افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر بینظیر وومن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی ، فیکلٹی ممبران اور طالبات کی کثیر تعداد موجود تھیں۔

چئیرمین سینٹ نے کہا کہ جمہوریت ہی میں تمام مسائل کا حل موجود ہے اٹھارویں ترمیم میں تمام صوبوں کو حقوق دیے گئے ہیں۔ اور اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے صوبے مزیدمضبوط ہوگئے۔ مضبوط صوبے ، مضبوط وفاق کے ضامن ہیں۔ اگر کوئی ادارہ اپنا کام صحیح طریقے سے نہ کریں تو پاکستان کی پارلیمنٹ و سینٹ کو اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم تمام سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے پاس ہوا ہے۔ اور اس پر مکمل عمل درآمد کی ضروت ہے اور صوبے اٹھارویں ترمیم کے تحت دیے گئے اختیارات سے بھر پور فائد ہ اٹھائیں۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ اگرکسی ایشو پر صوبوں کو تحفظات ہیں تو کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) میں اس کو اٹھائیں۔ سی سی آئی ایک معتبر ادارہ ہے اور پرائم منسٹر اس کا چیئرمین ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں لکھا گیا ہے 30دن کے اندر سی سی آئی کی تشکیل ہوگئی اور اس کے فیصلے ایک آزاد سیکرٹریٹ کے تحت عمل درآمد ہوگا۔

90دن کے اندر سی سی آئی کی میٹنگ لازمی ہوگی۔ جس پر عمل درآمد سے صوبوں اور مرکز کے درمیاں اچھے اور خوشگوار تعلقات کے ساتھ ساتھ صوبوں کے مسائل بروقت حل ہونگے۔ رضا ربانی نے اس موقع مزید کا کہ یونیورسٹی کی سطح پر ہمیں مقالمے کو فروغ دینا اور ایک دوسرے کو برداشت اور قائل کرنا ہوگا۔ تاکہ مشال خان جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوگا۔طلباء یونین پر پابندی سے یونیورسٹیوں میں شدت پسندی کو فروغ ملا جس کی وجہ بحث مباحثہ اور برداشت پر منفی اثرات پڑے۔ جس کی مثال ہمیں مشال خان کی صورت میں دیکھنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حبیب جالب اور فیض احمد فیض جیسے شعراء کی ضرورت ہے۔ یہ ہمیں ان یونیورسٹیوں سے پیدا کرنا ہونگے۔

اٹھارویں ترمیم کی منظوری کی وقت تعلیم وصحت کو صوبوں کے حوالگی سے بہت اعتراضات اٹھائیں گئے خاص کر تعلیم کو صوبوں کے حوالے کرنے سے پاکستانیت متاثر ہوگی۔ اور ہر صوبہ اپنا سلیبس اور نصاب پڑھائیں جس کو احسن طریقے سے دور کیا گیا۔ یونیورسٹیوں میں بھائی چارے اور برداشت کی فضا بر قرار رکھنا ہوگا۔ ہمیں اچھے دانشور ، ادیب اور اعلیٰ پائے کے سیاست دانوں کی اشد ضرورت ہے۔ جو طلباء کی بہتر طریقے سے رہنمائی کریں۔ اور ملک کو آگے لے جائیں ۔ طلباء و طالبات سے ہمیں زیادہ امیدیں وابستہ ہے کیونکہ یہی طلباء و طالبات آگے جاکر ملک وقوم کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے۔ اس سے قبل یونیورسٹی کی وائس چانسلر رضیہ سلطانہ ، ظفر اللہ خان اور پروفیسر اعجاز نے بھی خطاب کیا۔ بعد میں مقررین میں شیلڈز کا تبادلہ بھی کیا گیا۔