بریکنگ نیوز
Home / کالم / اسلام آبادمیں باہروالے

اسلام آبادمیں باہروالے


کون نہیں جانتا کہ مجھے جنگلی حیات سے بے حد شغف ہے یہاں تک لگاؤ ہے کہ میں نے دیوسائی پر مقیم جنگلی حیات کے بچاؤ کے انچارج صاحب سے گزارش کی تھی کہ اگر اس دنیا کے بلند ترین میدان پر کوئی نیا ریچھ دریافت ہو تو بے شک اس کا نام’’ تارڑ ریچھ‘‘ رکھ دیجئے گا… تادم تحریر میری یہ معصوم سی خواہش تشنہ ہے… شاید انہیں ابھی تک میری شکل کا عمر رسیدہ اور حواس باختہ ریچھ دستیاب نہیں ہوا یا پھر اس ریچھ نے میرا نام قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ آخرمیں ایک معزز ریچھ ہوں میں تارڑ کیسے ہو سکتا ہوں… ایک زمانے میں میں نے ایک نیا فلسفہ ایجاد کیا تھا اور آپ جانتے ہی ہیں کہ نئے نئے فلسفے ایجاد کرنے میں میں یدطولےٰ رکھتا ہوں… فلسفہ یہ تھا کہ آپ اگر کسی بھی انسان کے چہرے کو کچھ دیر غور سے دیکھتے رہیں تو آپکو احساس ہوگا کہ وہ کسی نہ کسی جانور یا پرندے سے مماثلت رکھتا ہے… اس تجربے کا آغاز میں نے اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے کیا اور میری حیرت کی کچھ انتہا نہ رہی کہ ان میں سے بیشتر لومڑ‘ گدھ‘ الو‘ خرگوش‘ شترمر غ اودبلاؤ وغیرہ نکلے… میں فساد خلق سے بچنے کیلئے یہ نہیں بتاؤنگا کہ کون سے دوست اور کون سے رشتے دار کیا کیا نکلے… ازاں بعد میں نے اپنی توجہ سیاست دانوں اور اہل اقتدار پر مرکوز کر دی اور وہ کیا نکلے یہ تو آپ سب جانتے ہی ہیں کسی نے کہا تھا کہ پاکستان کو ہمیشہ گدھ نوچنے کیلئے آجاتے ہیں تو اس کا جواب آیا تھا کہ جس وجود پر مردنی کے آثار دکھائی دے رہے ہوں اسکی جانب ہمیشہ گدھ ہی آتے ہیں عقاب نہیں! آپ بھی پہلی فرصت میں یہ تجربہ کر دیکھئے‘ نہایت حیرت انگیز انکشاف ہونگے لیکن اس سے پیشتر کسی سویربستر سے اٹھنے کے فوراً بعد منہ ہاتھ دھوئے کنگھی کئے بغیر… اگرآپ کے کچھ بال ہیں تو… آئینے میں اپنے آپ کو کچھ دیر دیکھتے رہئے… انشاء اللہ کچھ دیر بعد آپ کو وہاں کسی نہ کسی جانور کا شائبہ نظر آنے لگے گا اور ہاں میں ذاتی طورپر یہ تجربہ بھی کر چکا ہوں اب شرط یہ تھی کہ صبح سویرے آئینے میں اپنی شکل کچھ دیر تک دیکھی جائے تو وہ تو دیکھی نہ جاتی تھی…

سو پچاس کے قریب سفید بال جن کی زیادہ تر تعداد کانوں کے اوپر تھی اور چند یاعریانی کا مظاہرہ کررہی تھی… چہرے پر ایک خاص بیزاری جس پر جھریاں بہار دکھاتی تھیں… آنکھیں کسی بوڑھے الو کی مانند سرخ جو کئی دنوں سے سویا نہ ہو… تو بس اسکے بعد دیکھنے کی مزید تاب نہ رہی اور فوراً ایک پرانی البم نکال کر ایام جوانی کی ایک تصویر دیکھی تو کچھ قرار آیا دو تین روز مسلسل اپنے آپکو دل پر جبر کرکے دیکھنے کی عادت ہوئی تو کھلا کہ میں ایک پرندے سے مشابہ ہوں… جی ہاں وہی پرندہ جو راتوں کو جاگتا ہے اب ان تجربوں کے بھیڑیئے‘شترمرغ اور ریچھ وغیرہ سیر کر رہے ہیں بلکہ ایک مرتبہ کسی صاحب نے سلام کیا تو میں وعلیکم السلام لومڑ صاحب کہتا کہتا رہ گیا… چونکہ صورتحال بہت نازک ہو رہی تھی اور بیگم بھی پتہ نہیں کیا دکھائی دینے لگی تھی اسلئے میں نے کوشش کرکے اس فلسفے کو کسی حد تک فراموش کر دیا تاکہ زندگی پھر سے نارمل ہو جائے…میں خاصی حد تک اس فلسفے کو بھول چکا تھا کہ ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونیوالی ایک خبر نے میرے زخم پھر سے ہرے کردیئے… خبر کی شہ سرخی ہے’’ پریذیڈنٹ ہاؤس میں ایسے ملاقاتی جنہیں خوش آمدید نہیں کہا جاسکتا‘‘ خبر کی تفصیل کا کچھ ترجمہ پیش خدمت ہے فیڈرل کیپٹل جہاں موجودہ دہشت پسندی سے نمٹنے کیلئے سخت ترین حفاظتی اقدام کئے گئے ہیں اور خاص طور پر پریذیڈنٹ ہاؤس کے گرداتنے کڑے پہرے ہیں کہ وہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا وہاں نہایت آسانی سے کچھ ناپسندیدہ گھس بیٹھئے داخل ہو جاتے ہیں اور اسکے چار سواکہتر ایکڑوں پر پھیلے سبزہ زار میں چہل قدمی کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات صدارتی محل کی عمارت کے قریب بھی منڈلارہے ہوتے ہیں… یہ ناپسندیدہ ملاقاتی اسلام آباد کے رہائشی جنگلی سور ہیں جوندی نالوں وغیرہ کے راستے پریذیڈنٹ ہاؤس میں داخل ہو جاتے ہیں… سی ڈی اے نے ان سوروں کو تلف کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں لیکن انکی آبادی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے…جنگلی سور اسلام آباد میں عام پائے جاتے ہیں لیکن پرپذیڈنٹ ہاؤس میں انکی موجودگی حیرت انگیز ہے…

صدارتی محل کے کسی باخبر ذریعے کا کہنا ہے کہ انکی تعداد پچھلے آٹھ برس میں خاص طور پر بہت بڑھ گئی ہے… کیا یہ خبر تشویشناک نہیں ہے؟ اگر اتنے بڑے حجم والے یہ جانور کسی نہ کسی طرح قصر صدارت کے سبزہ زار میں پہنچ جاتے ہیں تو کیا دہشت گرد ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہاں نہیں پہنچ سکتے… سکیورٹی کے اعلیٰ افسران کیلئے یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے… میں صبح کی نشریات کی میزبانی کیلئے تقریباً نو برس اسلام آباد میں مقیم رہا… اس دوران صبح سویرے اور منہ اندھیرے میں ایم این اے ہوسٹل سے ٹیلی ویژن سٹیشن تک پیدل جایا کرتا تھا… اکثر ایسا ہوتا کہ میں سکرپٹ یاد کرتے نیم تاریکی میں چلا جارہا ہوں اور سامنے سے وہ چلے آرہے ہیں… میں سمجھتا ہوں کہ شاید گائے بھینسیں وغیرہ ہیں… قریب پہنچتا ہوں تو ان کی تھوتھنیاں کچھ زیادہ ہی لمبی ہیں… میں دم سادھے انکے قریب سے گزر جاتا ہوں کہ سوروں کے مقابلے میں میں تو نہیں جیت سکتا تھا… ایم این اے ہوسٹل کے پچھواڑے میں تو یہ کثرت سے پائے جاتے تھے اور ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ان میں سے کچھ ٹیلی ویژن ہیڈکوارٹر کی عمارت کے اندر چلے گئے جو پریذیڈنٹ ہاؤس کے تقریباً سامنے ہے اہلکاروں نے ان میں سے بیشتر کو باہر نکال دیا لیکن ان میں سے ایک جانے کہاں روپوش ہوگیا‘ ملا نہیں… اس پر کئی دنوں تک طرح طرح کی قیاس آرائیاں جاری رہیں کہ اگر وہ ملا نہیں تو ہیڈکوارٹر کے کونسے کمرے میں جاچھپا ہے… ہمارے دیہات میں اس جانور کا نام نہیں لیتے کہ زبان پلید ہو جاتی ہے اور انہیں باہر والے کہاجاتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان باہر والوں سے نمٹنے کیلئے بھی باہر والے ہی بلائے جائیں اندر والے کچھ نہیں کر سکتے… افغانستان میں متعین نیٹو افواج کو اسلام آباد مدعو کیا جائے کہ آیئے ایک تو اس خوبصورت شہر کی سیر کیجئے اور اسکے علاوہ اپنے مرغوب جانور کا دل کھول کر شکار کیجئے اور تناول فرمایئے… آپ دیکھ لیجئے گا کہ دنوں میں ان کم بختوں کا صفایا ہو جائیگا یعنی یہاں کے باہر والوں کا… اس میں قباحت صرف یہ ہے کہ ان باہر والوں نے واپس جانے سے انکار کردیا تو پھر کیاکرینگے!۔